اداریہ

ہم ’’ بیداری ڈاٹ کام ‘‘ میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اداریہ میں تھوڑا ’’ بیداری ڈاٹ کام ‘‘ کے منصہ شہود پر لانے کا پیش منظر بیان کرتے ہیں۔
ہر دور میں وقت کی ضرورت کے مطابق کے کردار اور رخ کا تعین کرناقوموں کی بقاء اور اپنی ساخت کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔یہ اس دنیاکی زندگی کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو قوم دنیا کے بدلتے حالات کے مطابق اپنی ساخت ، اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے اور اپنے نصب العین پر قائم رہنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتی ، کوئی تدبیر، کوئی حکمت عملی طے نہیں کرتی کہ وہ جس نظام حیات پر ایمان رکھتے ہیں وہ اسی طرح برقرار رہے ، اس پر اغیار کا رنگ نہ چڑھے تو اس کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا ، یا دنیا میں ذلیل و رسواء ہونا بالکل اُسی طرح یقینی ہوتا ہے جس طرح تیل ختم ہو جانے کے بعد چراغ کاگل ہوجانا یقینی ہوتا ہے ۔
گویا دنیا کی بدلتی رنگ رنگینیوں میں خود کو بیدار رکھنا، اپنے نصب العین اور مقصد زندگی سے پیچھے نہ ہٹنا، وقت کے تقاضوں کے مطابق طرز عمل اور رخ کا تعین کرنا چلتی گاڑی میں تیل کا کام کرتا ہے۔ اگر چلتی گاڑی کو بر وقت تیل مہیا ہوتا رہے تو وہ درست سمت اپنی منزل کی طرف چلتی رہے گی۔اگر بر وقت تیل مہیا نہ ہو تو وہ کبھی آپ کو آپ کی منزل کے راستے پر گامزن نہیں رکھ پائے گی۔بلکہ اب منزل کا راستہ چھوڑ کر آپ کو پہلے تیل کی تلاش میں در بدر بھٹکنا پڑے گا۔ در در کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی۔ آج یہی صورت حال پوری ملت اسلامیہ کو در پیش ہے۔آج ہمارے رخ ہماری منزل کی طرف نہیں ہیں۔ہم تیل، قوت یعنی جوش و جذبہ اور مؤثر قیادت کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ کہیں سے ہمیں مطلوبہ قوت و تاثیر مل رہی ہے ، نہ ہمیں ایسی قیادت ہمیں میسر ہے جو ہمیں ہماری منزل کا پتہ دے۔آج ہمیں دنیا کی ہر سہولت میسر ہے، نہ وسائل کی کمی ہے نہ افرادی قوت کی۔ اگر ہم میں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اس جوش، جذبہ اور ولولہ کی ہے جو ابتداء کے مٹھی بھر مسلمانوں میں تھا اور وہ اپنے کردار سے پوری دنیا پر فائق تھے۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد یعنی دنیا کا ایک چوتھائی ہے ، یعنی دنیا میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ تھی مگر اس کے باوجود ہر طرف ذلت و رسوائی، خواری و ناداری ہم پر مسلط ہے۔ ہم میں وہ غیرت نہیں رہی، ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے بلکہ آج ہماری روحیں بھی مردہ ہی جنم لیتی ہیں۔ جیسے دانائے راز حضرت اقبال علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ’’ مردہ زایند از بطون امہات‘‘ کہ آج بطون امہات سے مردہ روحیں جنم لے رہی ہیں جنہیں کوئی احساس ، کوئی فکر، کوئی تخیل ہی نہیں آتا ہم کبھی ایک عظیم قوم تھے۔ شرق سے غرب ہوا بھی ہمارے اشاروں پر چلتی تھی۔طوفان ہمارے جواں جذبے دیکھ کر اپنے رخ بدل لیا کرتے تھے۔ سمندر کا پانی سخت جان ہو کر ہمارے لئے راستے ہموار کرتا تھا۔ وہ کیا گردوں تھا، وہ کیا قوم تھی جس کے ہم فرزند ہیں ، مگر موجودہ حالات زار دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے کہ کیا ہم مردہ زایند اس قوم کے فرزند ہیں؟ ہماری ان سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ آج کی مردہ روحوں کا ان سے کوئی ادنیٰ سی نسبت استوار کرنا بھی ان کی توہین ہوگی ہم فرزند کی بات کرتے ہیں؟
ہم نے بدلتے حالات کے مطابق خود کو بیدارو ہوشیار نہیں رکھا۔ ہم دنیا کی رنگ رنگینیوں میں پڑتے چلے گئے، اغیار کی ہر سازش ، ہر مکاری کا شکارہوئے مگر اس کے خلاف قوت مضافت پیدا نہیں گی۔ آج ہمارے اندر کے ایمان کمزور ہیں۔مغرب کی مکاری و عیاری اور تہذیب و فلسفہ نے ہمارے ایمان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ہمارے کردار ، ہمارے اخلاق، ہمارے اوصاف یہود و نصاریٰ سے بھی گئے گذرے ہیں۔ آج ہم اپنے سارے دینی اصول و ضوابط، ساری اقتدار و روایات کھو کر بہت گہری نیند سو رہے ہیں۔ اگر کسی بہت گہری نیند سوئے آدمی کو زخم لگے یا کوئی کیڑی وغیرہ بھی ڈس لے تو وہ فوراً بیدار و ہوشیار ہو کر اس سے اپنا دفاع کرتا ہے ۔مگر بد نصیب قوم ایسی مدہوش نیند سوئی ہے کہ اتنے بڑے بڑے ٹارچر پہنچے پر بھی قوم میں ذرا جنبش نہیں آئی کہ وہ کروٹ ہی بدل لے۔ جیسے کسی مردہ کو جتنا ٹارچر کیا جائے اس میں ذرا جنبش نہیں آتی بالکل یہی حال ہمارا ہے ۔ ہم غفلت میں پڑے اتنی گہری نیند سورہے ہیں کہ بیداری کا نام تک نہیں لے رہے۔یوں لگتا ہے جیسے ہم بیدار ہونے کیلئے ثور اسرافیل علیہ السلام کے منتظر ہوں کہ ہمیں اگر ثور کی آواز سنائی دے گئی تو ہم اٹھیں گے اس سے پہلے ہم اٹھنے والے نہیں۔
بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم مسلمان جس نظام حیات پرایمان رکھتے ہیں وہ اس وقت دنیا میں کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ہمارے اوپر ہر طرف اغیار کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔صورتیں دیکھو تو مغرب زدہ، لباس دیکھو تو مغرب زدہ، کردار دیکھو تو مغرب زدہ۔اسلام کا توصرف نام رہ گیا ہے مگر اسلام زدہ کوئی ہزاروں میں ایک بھی شازو نادر ہی ملتا ہے۔اس کے سبب آج دنیا میں ہم ذلت و رسوائی، خواری و ناداری آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔آج دنیا میں جس طرف نظر دوڑاؤ ، ہم مسلمان ہی ذلیل ہو رہے۔آج دنیا میں جتنے مسائل ہیں وہ ہم مسلمانوں سے ہی وابستہ ہیں اور اغیار ظلم و ستم کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ آج کن کے گھر لوٹے جا رہے ہیں؟ کن کے وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں؟ آج چار سو دنیا میں کن کی نسل کشی کی جا رہی ہے؟ آج ہر سو جلی نعشیں، بکھرے لاشے، کٹے اعضاء، بین کرتی مائیں، سسکتی بہنیں، اجڑے سہاگ، بلکتے بے سہارا بچے کس ملت سے وابستہ ہیں؟ آج دنیا میں کونسی قوم ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا؟ کیا یہ سب کچھ دیکھ کے کبھی کسی کا خون کھولا؟ کب بیدار ہو گی یہ سوئی بے جان ملت؟ کب کھولیں گی اس مردہ بے ضمیر قوم کی آنکھیں؟کب بیدار ہو گی یہ مرحوم امت؟
ہر مہذب اور باشعور قوم کا نظامِ حیات اس کے بنیادی عقائد و نظریات ، اقدار و روایات، اصول و ضوابط اور نظریہ حیات کا آہینہ دار ہوتاہے۔ اس لیے اگر آج مسلمانوں میں اسلامی نظامِ حیات رائج نہیں تو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے اسلام کو محض زبانی دعوؤں اور ایمان کے کھوکھلے نعروں کے علاوہ اسے ایک دین ، ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے قبول ہی نہیں کیا، اسے ایک کامل دین اور ایک مکمل نظامِ ہائے زندگی کی حیثیت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ ہی نہیں دی ۔ اس کی بجائے جو ضابطہ حیات ہم نے اختیار کیا وہ ہمارے اجتماعی نظام (معاشرت، معیشت، عدل و انصاف، قانون وسیاست) وغیرہ سے صاف ظاہرہے۔اِسے جو چاہے نام دیں مگر یہ ایک اسلامی نظامِ حیات ہرگز نہیں ہے ۔
اس سے بڑی کم بختی اور ہمارے لئے کیا ہو سکتی ہے کہ آج امت کی بیداری و اصلاح کا نعرہ محراب و منبر ، آستانہ و خانقاہوں سے بھی لگانا چھوڑ دیا گیا ہے۔آپ قوم میں بیداری کی سوچ، فکر اور لگن کو پرکھنے کیلئے ملک بھر کی کسی بھی مسجد ، کسی مدرسہ میں چلے جائیں ، ان کی کوششوں کا جائزہ لیں، ان کے فکر و تخیل کو پرکھیں، ان کے بیان و خطاب سنیں تو ان کی ساری قوتیں، ساری صلاحیتیں ، ان کی ساری توانائیاں آپ کو کہیں اور ہی صرف ہوتی نظر آئیں گی۔ وہ سب ملت کی موجودہ صورت حال سے مطمئن نظر آتے ہیں اس لئے اس موضوع پر بات ہی نہیں کرتے۔ امت کی بیداری و اصلاح کی فکر و سوچ، دنیا میں چار سو ذلت و رسوائی کے اسباب میں غور و تدابر ، ملت کا درد، احساس و بے چینی آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گی۔آپ علماء کے جمعہ کے خطبات سنیں، مجمع و محافل کے بیانات سنیں آپ کو موضوع سوائے بخشش کے، وسیلہ کے، کرم، رحم و مغفرت، شفاعت و رحمت کے، شخصیات کے فضائل وکرامات اورمقام و مرتبت کے، دنوں اور مہینوں کے فضائل کے، مخصوص ایام کے فضائل سننے کو ملیں گے۔ قوم کو عظیم بنانے کیلئے بیداری و اصلاح، بلندی کردار، پختگی اخلاق، پاکیزگی نفس ، معاشرتی طہارت ، معاشرتی رہن سہن، بھائی چارہ، رواداری، انسانی مساوات، اسلامی اخوت، برداشت، اور خوف خدا کے موضوع آپ کو کہیں بھی سننے کو نہیں ملیں گے۔
اس سے ہٹ کر اگر کوئی موضوع آپ کو سننے کو ملے گا جس میں بڑا جوش اور گرج و للکار بھی ہو گی تو وہ آپس کی محاذ آرائی، عداوت، کینہ، تعصب و عصبیت اور نفرت پھیلانے کے ہوں گے۔سب ایک دوسرے پر تنقید، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے، ٹانگیں کھینچنے میں سر گرم عمل ہیں اور اس کیلئے بڑی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں۔ سب آپس کی محاذ آرائی اور جنگی حکمت عملی سے خوب شناسا ہیں اور اس طرح کی تدابیر و حکمت عملی میں دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اخوت، بھائی چارہ، رواداری، برداشت، مفاہمت و یکجہتی نام کی کوئی چیز ان کے دامن میں نظر نہیں آتی ہے۔۔ کوئی اتحاد، مفاہمت، رواداری ، اخوت و بھائی چارہ کی بات نہیں کرتا۔ہمارے حکمر ان ہیں تو وہ بے غیرتی و بے حسی کی چادر اوڑھ چکے ہیں۔ ان کی مذہبی حممیت اور غیرت دینی دم توڑ چکی ہے ، انہیں دین و ملت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی اونچ نیچ پر کوئی دکھ و صدمہ نہیں پہنچتا، ہاں البتہ کرسی اور اقتدار چھن جانے پر بیساختہ چیخ و پکار نکلتی ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ دشمن کو میر صادق اور میر جعفر بہت سستے داموں مل رہے ہیں، جہاں بد دیانت حکومتیں ہوں، کرپٹ انتظامیہ ، بے ضمیر رہنما، جھگڑالو علماء،فسادی ملاں، بے اثر پیر و مشائخ ہوں تو امت کی بیداری و اصلاح بھلا کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟
آپ بیداری کے جذبات کو پرکھنے اور دنیا میں ہمارا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کی غرض سے آستانوں، مزاروں اور خانقاہوں کا رخ کریں تو وہاں ماسوائے اپنی پوجا چاٹ اور تعویذ دھندہ کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔صرف ان کی بارگاہ میں آ کرادب سے جھکتے رہو، اپنی خدمات، نذر، نیاز پیش کرتے رہو تو تمہاری جنت پکی اس کیلئے اور کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ یہ رہبری ہو رہی ہے امت کی اور فیض بانٹا جا رہا ہے امت میں بد عملی کا۔ ملت کیلئے کچھ کرنے کرانے کی کوئی تدبیر و تحریک ان خانقاہوں سے اٹھے یہ ناممکن نظر آتا ہے۔
آپ بیداری و اصلاح کی سوچ لے کر سکول ، کالج و یونیورسٹیز کا وزٹ کر لیں وہاں سے بھی آپ کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہونے لگی۔وہاں یہ حال ہے کہ حضرت اقبال علیہ الرحمہ کے بقول ’’ سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا‘‘۔ ان کے مزید کچھ کہنا فضوں تر ہوگا ، آپ نے ہی بہت بڑی بات ارشاد فرما دی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان اداروں سے جو بھی نکلا خاکباز ہی نکلا، شاہین جیسی اڑان بھرنے والے نہیں۔
میں نے بیداری و اصلاح کی سوچ لے کر کتابوں کو کھنگالا، لائبریریوں اور مکتب گاہوں میں جا کر دیکھا کہ شاید کہیں سے کوئی ایسی تحریر، فکر و تدابر ، احساس دلانے اور جوش ابھارنے والی درد ملت سے لبریز و سرشار تحریر مل جائے جو قارئین کو احساس دلائے اور جھنجھوڑ کر رکھ دے،ان میں ملت کی سوچ، ملت کی فکر،ملت کا درد پیدا کرے مگر مجھے کوئی ایسی تحریر نہ مل سکی جو بیداری و اصلاح کے حوالہ سے مؤثر اور کار آمد ثابت ہوتی۔
امت رسول ﷺ کی بیداری و اصلاح کے حوالہ سے علماء کرام اور پیران عظام کے بیانات کو پرکھاتو مجھے کسی کے بیانات میں وقت کے تقاضوں کے مطابق ملت کا درد، احساس اور فکر دیکھنے کو نہیں ملی جوروایتی تقاریر سے ہٹ کر اپنے خطابات میں، جمعہ کے مجمع میں، محافل کے ہجوم، عرسوں، میلوں اور خانقاہوں کے اکٹھ میں امت مرحومہ کی موجودہ حالات زار دیکھ کر روتا ہو، چیلاتا ہو، کردار و اطوار،روایات و اخلاقیات سنورنے کی بات کر تا ہو، اپنا قبلہ، اپنا واضح قطع درست کرنے کی بات کرتا ہو۔ سب میں روایتی تقاریر فضائل ، بخشش، کمالات، مقام و مرتبت اور واقعات دہرانے کے سواء کچھ نظر نہیں پڑا۔ایسی تقاریر سے لوگ واہ واہ تو کرتے ہیں مگر یہ جوش خطابت لوگوں کی کایا نہیں پلٹ سکتی ہے۔ آج کے مسلمان اتنے باکمال نہیں ہیں کہ نرم و نازک گفتار سن کر ، لگی لپٹی اور اشاروں سے سمجھائی گئی بات ادارک کر کے عمل کرنے لگیں۔ نرم و نازک کلام آج کے بدنصیب مسلمانوں پر اثر نہیں کرتا ہے۔اب تو ایسی گفتار کی ضرورت ہے جو ان کے کلیجے ہلا کر رکھ دے، جسے سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں، جو انہیں پوری طرح جھنجھوڑ کر رب کا خوف، ملت کا احساس اور فکر دلائی جائے اور ان میں رسول اللہ ﷺ کی امت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔
بیداری و اصلاح کے حوالہ سے ہر طرف سے مایوس ہو کر میں نے خود قلم اٹھانے کی تھان لی اور الحمد للہ عزوجل! اللہ کریم کی خاص رحمت ہوئی اور حضور نبی کریم ، رؤف الرحیم ﷺ کی شفقت و نظر رحمت شامل حال ہوئی تو میرے قلم سے ایسی تحریر نکلی کہ جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ایسا اندازفکر، ایسا جوش، ایسا ولولہ، احساس و دردِ ملت سے لبریز اور فکر انگیز مضامین بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
اس وقت امت جس حال میں ہے اور جس ذلت ، رسوائی ، خواری و نادری کے ایام کاٹ رہی اور اس وقت دنیا میں جو اس کی وقعت اور قدر و منزلت ہے وہ کسی صاحب فکر و نظر سے پوشیدہ نہیں۔ اس وقت دنیا میں مسلمان نہیں مٹی کا ڈھیر ہیں جن کی نہ کوئی وقعت ہے نہ کوئی سمت، نہ کوئی جہت، نہ کوئی منزل، نہ کوئی مقصد حیات،نہ کوئی دستور ، نہ کوئی ضابطہ ، نہ کوئی تاریکیوں سے نکلنے کی سعی و حرکت، نہ کوئی جدو جہد۔دنیا اس بے جان مٹی کے ڈھیر کو اپنے قدموں روند روند کر زمین برابر ہموار کر دینے کے درپے ہے کہ اس مٹی کے ڈھیر کا بھی کوئی نشان باقی نہ رہے۔ ان نازک حالات میں امت کے ایک ایک فرد میں حضور ﷺ کی امت کا احساس ، بیداری کی لگن ، تڑپ اور جوش و ولولہ کا پیدا ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس سے بڑھ کر اور کوئی بڑی کم بختی نہیں ہو گی امت کی۔
قارئین سے التماس ہے کہ وہ بیداری کی اس سوچ، فکر، لگن اور جذبہ کو ملت کے ہر ہر فرد تک پہنچانے میں ہمارے معاون ثابت ہوں تاکہ ملت میں بیداری و اصلاح کا جذبہ اٹھے اور سوئے ضمیر جاگ اٹھیں۔ہمیں یہ تسلیم کرنے میں قطعاً کوئی عار نہیں ہے کہ اس وقت جس قدر گمراہی و ضلالت، فسق و فجور کی تاریکی چھائی ہے ہم اسے فی الفور رفع تو نہیں کر سکتے، مگر اس کے لئے کوشش تو کر سکتے ہیں۔ ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کوئی چراغ تو جلا سکتے ہیں اور میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ’’ چراغ چاہے جتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، ساری دنیا کا اندھیرا مل کر بھی اسے نہیں بجھا سکتا ہے۔‘‘ تو اس لئے اندھیروں میں ایک چراغ جلانے کا سوچا۔
اور یہ سوچ کر بھی اپنی کوششوں کا آغاز کیا کہ ہم سب مل کر بابائے ملت حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لئے جلائی گئی آتش نمرود بجھانے کی کوشش کرنے والی اس چڑیا کا سا کردار تو ادا کر سکتے ہیں جو اپنی چھوٹی سی چونچ میں پانی بھر بھر لاتی اور اس آگ کے اتنے بڑے آلاؤ پر ڈالتی تھی کہ شائد بجھ جائے۔ کسی نے چڑیا سے پوچھا ہو گا کہ ’’ اے چڑیا! تو یہ آگ بجھا تو سکتی نہیں مگر یہ چونچ میں پانی لا لا کیا مشق کر رہی ہے۔‘‘
تو یقیناًچڑیا نے یہ جواب دیا ہوگا کہ ’’ مجھے معلوم ہے کہ میں یہ آگ بجھا نہیں سکتی،مگر کل قیامت کے دن جب خدا کی بارگاہ میں بلاوا ہو گا آگ جلانے والوں اورآگ بجھانے والوں کا، تو میرا نام آگ بجھانے کی کوشش کرنے والوں کی فہرست میں تو شامل ہو گا۔‘‘
بس یہ سوچ کر زمانے کو لگی آگ بجھانے کیلئے اپنی سعی و حرکت کا آغاز کیاکہ چلو یہ آگ ہم نہ ہی بجھا سکے مگرخدا کی بارگاہ میں آگے بجھانے کی کوشش کرنے والوں میں نام تو شامل ہو گانا!
ہم تو بیداری کے لئے اذان دے رہے ہیں، ناجانے امامت کون کروائے گا ، پتہ نہیں ہم اس دور میں زندہ ہوں گے بھی یا نہیں۔ مگر اتنا ضرور عرض کرتے ہیں کہ جو بھی اس دور میں زندہ ہو، ان سے گذارش کرتے ہیں کہ خدارا! ہمارے مدفن پہ آ کر یہ خوشخبری ضرور سنا دینا کہ اب رسول اللہ ﷺ کی امت بیدارہو چکی ہے، اس نے اپنا کھویا مقام پھر سے حاصل کر لیا ہے اور اب دنیا میں ایک عظیم مقام رکھتی ہے۔ بس یہ سن کر ہی ہماری بے چین روحوں کو قرار آ جائے گا۔ والسلام
بندہ ناچیز، العبد العاصی
اللہ بخش فریدی
بانی و مدیر
و جملہ ٹیم بیداری ڈاٹ کام