450

دجالی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب

آج کل بعض مسلم ممالک میں مقبوضہ فلسطین کوایک آزاد اور خود مختار یہودی ریاست تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، بعض مسلم ممالک اسے بطور ایک آزاد ملک تسلیم بھی کرچکے ہوئے ہیں۔ اس صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب واضح طور پر یہ ہو گا کہ
1۔ ہم نے یہودیوں کے عالمی اقتدار کے حصول کے صدیو ں پرانے منصوبے اور پروٹوکولز (Protocols) کی حمایت کا اعلان کر دیا اور مان لیا کہ دنیا پر حکمرانی کا حق صرف یہود کو ہے۔
2۔ ہم نے مقدس سر زمین پرقابض یہودی درندوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھی حمایت کر دی، جو وہ نیل(مصر)سے لے کر فرات (عراق) تک، جس میں مدینہ منورہ سمیت تقریباً تمام عرب علاقے شامل ہیں، پر مشتمل گریٹر اسرائیل نامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
3۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر کے گویا یہ مان لیا کہ اسرائیل ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ یہ فلسطینی سرزمین پر قابض نہیں ہے۔
4۔ اسرائیل کو ایک آزاد ملک مان کر گویا ہم نے تسلیم کر لیا کہ یہ ریاست جس جگہ پر قائم ہے یہ یہودیوں ہی کی ملکیت ہے، یہود ہی اس کے حقیقی مالک ہیں۔
5۔ ہم نے مقبوضہ عرب اور فلسطینی علاقوں پر قابض ریاست کو تسلیم کر کے گویا یہ اقرار کر لیا کہ اب مقبوضہ علاقوں پر فلسطینی مسلمانوں کا کوئی حق نہیں۔
6۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر کے گویا یہ اعلان کر دیا کہ فلسطینی مسلمان اسرائیل سے آزاری کی جنگ بیکار لڑ رہے ہیں، بیکار شہادتیں دے رہے ہیں۔
7۔ اسرائیل کو ایک آزاد اور خود مختار ملک مان کر گویا ہم نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہ درست ہے کیونکہ اسرائیل ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
8۔ ہم نے فلسطینی مسلمان بھائیوں کے خون سے غدّاری کی ۔
9۔ ہم نے حق اور انصاف کو چھوڑ کر باطل اور ظلم کا ساتھ دیا ۔
10۔ ہم نے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس ) کی جگہ ہیکل سلیمانی قائم کرنے کے منصوبے کو مان لیا اوراس کی حمایت کردی ۔
11۔ ہم نے اسلام کے بدترین دشمنوں اور نسل پرستوں کومشرقی وسطیٰ میں من مانی کرنے کی اجازت دے دی۔
12۔ ہم نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرکے انہی میں شمولیت اختیار کر کے اللہ عزوجل کے غضب کو دعوت دے دی۔
13۔ ہم نے حضورنبی کریم ﷺ کی سنت مطہرہ اوراحکامات وہدایات کی نفی کرتے ہوئے صراط مستقیم کی بجائے گمراہی کاراستہ اختیار کیا۔
ایسا قطعاً نہیں ہوگا، یہودیوں کو ہرحال میں یہاں سے نکلنا ہوگا ،فلسطین (بیت المقدس) ہر حال میں آزاد ہو کر رہے گا۔ نہ ہی دنیا میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست تھی، نہ ہے اور نہ رہے گی ۔ انشاء اللہ العزیز

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں