51

آج کے دور کے انتہائی بنیا د پرست عیسا ئی ۔۔ایمش

از: رضی الدین سید۔کراچی
برتھ کنٹرول کے قائل نہیں،جدید سہولیا ت بجلی اور ٹیلی فون سے دور رہتے ہیں
امریکہ میں عیسا یﺅں کا ایک ایسا طبقہ پایا جاتاہے جو آج کے دور میں بھی اپنی قدیم روایا ت کو زندہ رکھے ہوئے ہے اورمشترک خاندان کو ترجیح دیتا ہے ۔ ان کے مرد داڑھی رکھتے ہیں مگر مونچھیں رکھنے سے گریز کرتے ہیں ۔ اس کا فلسفہ انہوںنے زبور کی اس آیت سے ڈھونڈا ہے : ”یہ اس بیش قیمت تیل کی مانند ہے جو ہارون کی داڑھی پر بہہ رہاہے“۔(۲:۳۳۱۔گویا حضرت ہارونؑ کی مونچھیں نہیں تھیں!) ۔ سادہ لباس پہنتے ہیں جسے وہ عاجزی اور دنیا سے عدم رغبت کی نشانی قرار دےتے ہیں جبکہ سر کو ایک کالے ہیٹ سے ڈھانپے رہتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ہم فطرت کے بالکل قریب رہنا چاہتے ہیں ۔ ایمش خواتین سر پر ہر وقت جالی والی ایک ٹوپی رکھتی ہیں جس کا مقصد خودکو ہر وقت نماز کی حالت میں رکھنا ہے ۔ شادی شدہ عورتیں سفید جبکہ غیر شادی شدہ لڑکیا ں کالی ٹوپی پہنتی ہیں ۔ بالوں کا کٹوانامعیو ب گردانتی ہیں ۔ ان کے ہاں لڑکیو ں کی شاد ی عموما ۸۱ ےا ۹۱سال میں کردی جاتی ہے ۔ لڑکیا ں چوٹیا ں بناتی اوراونچے کالروں ، لمبی آستینو ں ، اور ٹخنوں تک لمبائی والے قمیص و اسکرٹس پہنتی ہیں ۔ حجاب وحیا کا خیا ل رکھتی ہیں ۔ سینٹ پال نے بھی عورتوں کو سر ڈھانپنے کی ہدایت کی تھی ۔ (دیکھیں بائبل کورنتھینئینس اول ۵:۱۱ ۔ ”جو عورت بے سر ڈھانکے دعا یا تبلیغ کرتی ہے وہ اپنے سر کو بے حرمت کرتی ہے۔وہ سر منڈی کے برابر ہے ۔ عورت کا بال کٹوانا شرم کی بات ہے ۔ اسے چاہئے کہ سر پر اوڑھنی اوڑھے“ ) ۔ میک اپ سے دور رہتی ہیں ، پونی باندھتی ہیں ، جوڑا باندھتی ہیں ، بعض اوقات کالے اسکارف اور کالے فل لینتھ گاﺅن استعمال کرتی ہیں اور دیگر عیسا ئی خواتین کے برعکس بال بالکل نہیں کٹواتیں ۔
ان کی کوئی خفیہ دوستی نہیں ہوتی ۔ ان کا جد امجد و بانی ایک دینی فرد جیکب Amman تھا جس کے نام پر یہ لوگ خود کو ایمش کہتے ہیں ۔ جلدی سوتے اور جلدی اٹھتے ہیں ۔ اکثر اوقات ان کے ہاں دائیاں ہی ولادت کرواتی ہیں ۔ البتہ میٹرنیٹی ہومز سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔
یہ لوگ برتھ کنٹرول کے بالکل قائل نہیں ہیں جسے خدائی احکام کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں ۔ ہر گھرانہ ۵،۶ بچے ضرور جنم دےتاہے ۔ کہتے ہیں کہ بڑ اکنبہ خدا کا انعام ہوتا ہے ۔ اسی لئے کہا جاتاہے کہ ایمش کمیونیٹی دنیا کی سب سے زیا دہ بچے پیدا ا کرنے والی کمیو نیٹی ہے ۔ شادی صرف ایمش برادری ہی میں کرتے ہیں اور دینی و ثقافتی رواج کی خلاف ورزی کرنے والوں کو برادری سے باہر کردیتے ہیں ۔ جدید سہولیا ت مثلاََبجلی اور ٹیلی فون سے دور رہتے ہیں ۔ کاریں یا بائکس استعمال کرنے کی بجائے محض گھوڑا گاڑی ہی کو ذریعہءسفر گردانتے ہیں ۔ کھیتو ں میں ہل چلانے کے لئے بھی ٹریکٹر س کی بجائے گھوڑوں کو جوتتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید سہولیا ت انسان کو سست و فارغ کردیتی ہیں ۔ جبکہ خدا ہدایت کرتاہے کہ انسانوںکو جفاکش اور محنتی ہونا چاہئے ۔ فوج میں بھرتی ہونے کو مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں ، بیمے سے گریز کرتے ہیں ، اور بچے کی جنس کے تعین کے لئے الٹر ا ساﺅنڈ کو گنا ہ قرار دیتے ہیں ۔ عاجزی ان کا شعار ہے ۔ بچوں کو ساتویں آٹھویں تک تعلیم دینے پر کفایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ایمش طریقہء زندگی پر عمل کرنے کی خاطر اتنی تعلیم بھی کافی ہے ۔ یو نیو رسٹی کی تعلیم کو نامناسب سمجھتے ہیں کہ یہ سب دنیا وی مفادات کو پروان چڑھانے کا سبب ہیں ۔ تصویر کشی کے بھی مخالف ہیں کیو نکہ ان کے نزدیک ان سے لوگوں میں ذاتی تشہیر کا جذبہ جنم لیتا ہے ۔ اس ضمن میں وہ رومیو ں کے نام سینٹ پال کے اس خط کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اس نے رومیو ںکو کہا تھا کہ ” پس اے بھائیو اور بہنو میں تم سے ا لتماس کرتاہوں کہ اپنی جان کو ایسی قربانی کے لئے نذر کرو جو زندہ اورمقدس اور اللہ کو پسند ہو ۔ یہی تمہاری اللہ کے لئے روحانی عبادت ہے ۔ اس دنیا کے لوگوں کی مانند تم خود کو نہ بدلو“ (رومنس کے نام خطوط۔ آےت ۱،۲ ۔ باب ۲۱)
موت کے وقت قبروں کو خوبصورت بنانے کی بجائے صرف سادہ رکھتے ہیں اور شناخت کی خاطر صرف ایک کتبہ لگاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم دنیا میں بھی یکسا ں رہے ہیں تومرنے کے بعددرجے بندی کیو ں کریں؟ ۔ موسیقی سننا و ر بجانا دنوں کاموں کو غلط گردانتے ہیں ۔ انہیں وہ جذبات بھڑکانے والے عمل قراد یتے ہیں ۔ روشنی یہ گیس والی لالٹینو ں سے حاصل کرتے ہیں ۔ یہ لوگ زیا دہ تر امریکی ریا ستوں ” اوہائیو ، فلاڈلفیا ، او ر”پنسیلی وانیہ“ میں رہتے ہیں ۔ گوگل سرچ کے دوران اوہائیو یو نیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک ہندو طالبہ کا بیا ن سامنے آیا جس میں اس نے بتایاکہ ایمش عیسا ئی بہت سادہ رہتے ہیں ، ان کے ہاں کم عمری کی شادی کا رواج ہے ، عورتیں پوری آستین کی قمیصیں پہنتی ہیں ، کم عمری میں اپنی بیٹیوں کی شادیا ں کرتی ہیں ، اور غیر شرعی تعلقات رکھنے کو گناہ سمجھتی ہیں ۔ نام ونمود سے بھی بہت دور رہتے ہیں ۔
پاکستان کے ایک ممتاز ماہر معیشت و آئی بی اے کے سابق ڈائریکٹر محمد عذیر مرحوم ، جو فلاڈلفیا جاچکے تھے ، اپنی سوانح حیا ت ”خود نوشت ، شائع شدہ ۴۱۰۲ء گلشن اقبال کراچی “ میں لکھتے ہیں کہ ان کے مر داڑھیا ں رکھتے ہیں ، ان کی عورتیں میک اپ قطعاََ نہیں کرتیں ۔ ان کاکہنا ہے کہ ہم فطرت اور قدرت سے بالکل قریب ترین رہنا چاہتے ہیں ۔ یعنی جیسا کہ خدانے پیدا کیا ہے ۔ چنانچہ یہ لوگ اقسدددددددشپنے ہاتھوں سے دودھ اورمکھن بناتے ہیں ، دوکانوںسے نہیں خرید تے ۔(ص۔۲۹۱)
آج کے دور میں یہ طبقہ کس قدر عجیب لگتاہے؟۔ اور وہ بھی ترقی یا فتہ ملک امریکہ میں! ۔ لیکن یہ سادہ مزاج مذہبی لوگ تمام چیز وں سے بے نیا ز اپنی مرضی ہی سے زندگی گذارتے چلے جارہے ہیں ۔ اور پھر بھی مکمل خوش ہیں! ۔ زندہ قومیں ایسا ہی کردار رکھتی ہیں۔ ان کا طرزِعمل اس شعر کی مانند ہوتاہے کہ
جو کہتی ہے دنیا وہ کہے ، ہم نہیں سنتے۔۔۔ دنیا نے کوئی بات ہماری بھی سنی ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں