51

فلسطین میں ایک نئی خونی جنگ ”آرمیگا ڈون“ عیسائیوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ!

رضی الدین سید۔کراچی
سب کو معلوم ہے کہ اپنے مسیحا کے قتل کے الزام میں عیسائی قوم گذشتہ ہزار سال سے یہودیوں کی جانی دشمن بنی رہی ہے۔اسی باعث انہوں ان یہودیوں کوزندگی بھر رگیدا، ان کے خون کے پیاسے بنے رہے،اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کا مجرم ٹھہرا کرپورے ےورپ سے مار بھگایا۔
لیکن افسو س کی بات ہے کہ اب خود عیسائی ہی، اسرائیلی استحکام و استقلال کے یہودیو ں سے زےادہ بڑھ کر وکیل بن گئے ہیں۔ انہوں نے اسے اپناجدید ایمانی عقیدہ بنالیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسرائیل اوریہودیوں کے تحفظ کے لئے ہمیںان سے زیادہ بڑھ چڑھ کر جدوجہدکرنی چاہئے ۔ 1949 میں جبکہ امریکی صدر ٹرومین نے اسرائیل کو تسلیم کےا تھا،حیرت انگیز طور پر عیسائیوں کی مانند خود یہودی بھی اسرائیل کے قیام سے خوش نہیں تھے ۔لیکن بااثر یہودیوں نے صدر ٹرومین کے کا ن بھر کر انہیں یہودیوں کا فوری ہمدرد بنا دیا ۔
گذشتہ دو عشروں سے ا مریکہ میں اب عیسائیوں کا ایک نیا مذہبی طبقہ پیدا ہوگیا ہے۔ ”نَو جنم شدہ“ عیسائی!۔ عیسائیوں کے ”مبشراتی پادری ‘ ‘ Evnegilacal Priests اپنے ہم مذہبوں پر زور دے رہے ہیں کہ انجیلوں کی رو سے اسرائیل جب تک قائم و مضبوط نہیں ہوتا، حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی ،اور عیسائیوں کی نجات ممکن نہیں ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ یہ مبشراتی عقیدہ بڑھتے بڑھتے تما م امریکہ میں حاوی ہوگیا ہے ،یہاں تک کہ ان کے بعض صدور مثلاََ ریگن ، کارٹر،اوربش بھی ا س عقیدے کے پرجوش مبلغ بن گئے تھے ےابنے ہوئے ہیں۔ ان کے نئے عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انجیلوں کی رو سے یروشلم (بیت المقدس) میں ایک آخری خونی جنگ Armaggedon برپا ہونی باقی ہے جس کو جلداز جلد بھڑکانا بھی ہماری مذہبی ذمے داری ہے ۔ ان کے بقول ”خےر وشر کی اس جنگ میں اتنا خون بہے گا کہ گھوڑوں کی کمروں تک پہنچ جائے گا“۔ امریکی عیسائےوں کی اےک بہت بڑی تعداد اب اس جنگ کواپنی زندگی ہی میں برپا ہوتے دیکھنا چاہتی ہے ۔ خواہش مند ہے کہ اپنے مسیحا ،عیسیٰ علیہ السلام کو وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور ان سے جنت کے اندر پہنچا ئے جانے کی سند زندگی ہی میں حاصل کرلیں ۔
مبشراتی پادرےوں نے ”آرمیگاڈون جنگ“ کے لئے اےک نےا عقید ہ یہ بھی گھڑا ہے کہ جو عیسائی اس عقیدے پر ایمان رکھے گا ،صرف اسی کو حضرت عیسیؑ نجات دلائیںگے۔اےسے عیسائی افرادکو امریکہ میںBorn Again (”نو َ جنم شدہ عیسائی“)کہہ کر پکارا جا تا ہے۔ آرمیگا ڈون کی اس” مقدس“ جنگ کے دوران ’ بورن اَگین عیسائیوں ‘ کوعیسیٰ مسیح آسمان میں اٹھا لیں گے جہاں سے وہ خےر و شر کی ،زمین پر برپا جنگ کا خونی منظر تخت پربیٹھے آرام سے دیکھا کریں گے ۔واضح رہے کہ یہ خونی جنگ عیساےﺅں اور یہودےوں کے درمےان نہیں بلکہ یہودےوں اور کافر قوموں (خصوصاََ مسلمانوں ) کے درمےان واقع ہوگی۔ اسی لئے تما م مذہبی عیسائی آرمیگیڈون برپاکروانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ آسمانوںکے اس”نو تصنیف نجاتی عقیدے“کا نام انہوںنےRapture
(فضائی نجات) رکھا ہے۔ انجیل جان ۳:۳ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ایک ہداےت دی ہوئی ہے کہ ”میں تم سے سچ کہتاہوں کہ آدمی کو دوبارہ پیدا ہونا چاہئے ۔ کےونکہ اگر وہ دوبارہ پیدا نہیں ہوتا تو وہ اللہ کی بادشاہی میں نہیں رہ سکتا“۔عیسائی گرجاﺅںنے اس سے ایک بالکل نےا عقیدہ گھڑ لےا۔اور اب اسی نئے عقیدے کو وہ تما م عیسائی دنےا میں زبردستی پھیلارہے ہےں۔یداےت کا صاف مطلب ہے کہ انسان خود کو اندر سے تبدیل کر کے خدا کے ساتھ جوڑ لے۔ یہ کوئی عقیدہ نہیں ہے بلکہ ایک عمومی ہداےت ہے۔
اگر کبھی ان ”ایونجیلیکل (مبشراتی)“ پادرےوں سے سوال کےا جا ئے کہ ان کا یہ منصوبہ کےا بین االاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کہلائے گا؟،تو سوال کرنے والے کا منہ وہ یہ کہہ کر بند کردےتے ہیں کہ ”ہم بائبل کے عالم اور علوم دین کے ماہرہیں،اس لئے ہماری بصےرت کے مطابق خدا کا قانون امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قوانین سے بالاتر ہے“۔ یہ باتیں وہ گرجاﺅں اور ٹی وی چینلز پر کھلے عام کرتے ہیں مگر ان کا مواخذہ کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔مسجد اقصی کو وہ جگہ جگہ سے بنےادوںسے کھود تے رہتے ہیں تاکہ ہیکل کا ڈھانچہ تلاش کےاجاسکے ۔ اس ضمن میں وہ مصنوعی کاروائےاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ مسجد کے نمونے کے ماڈل بناکر وہ جعلی فضائی حملے کرتے ہیں تاکہ دیکھا جاسکے کہ وہ کس رخ کی طرف زےادہ گرے گی۔ گاہے گاہے فلسطینی مسلمان مسجد کی بنےادوں کو کھودے جانے پر بھرپور مظاہرے بھی کرتے ہیں۔یہودےوں کی فطرت ہے کہ وہ اپنے شیطانی منصوبے کئی عشرے بلکہ ایک صدی قبل سے تےار رکھتے ہیں ۔تاہم اس کے عملدآمد کو ےقینی بھی بناتے ہیں۔ ےورپی ممالک کو انتہائی خونرےزجنگوں میں باہم ٹکرادینا،خلافت عثمانیہ کو سات آتھ سے زائد ٹکڑوں میں بانٹ دینا،اور نےا عالمی نظام نافذ کردےنا ان کے کمالا ت میںسے ا یک ہے۔واضح رہے کہ صیہونےوںنے خود ویٹی کین روم میں بھی اپنے نظرےات داخل کردئے ہیں جس کے باعث ان کی جان کے صدےوں دشمن عیسائی بھی اب ان کے ہمنوا ہوگئے ہیں۔ حےرت کی بات یہ بھی ہے کہ پاپاےان اعظم نے ۰۶۹۱میںیہودےوںپر سے اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کا جرم بھی سرکاری طورپر یہ کہہ کر معاف کردےاہے کہ یہ جرم ان کے آباءواجداد نے کےا تھا اس لئے موجودہ یہودی اس الزام سے بری ہیں ۔ لیکن خود انہی کی بائیبل اس بارے میںکچھ دوسرا بےان دیتی ہے ۔ انجیل متی باب ۷۲ ،آےت ۴۲،۵۲ میں درج ہے کہ ”یہودی اونچی آواز سے چینختے ہوئے کہنے لگے ،اس کو صلیب پر چڑھا دو۔ ’لوگوں کے خےالات کو بدلنا مجھ سے ممکن نہٰیں ہے‘، اس بات کو جانتے ہوئے اوراس بنےاد پر کہ یہ لوگ فساد پر اتر آئیں گے ،پیلاطس(گورنر) نے تھوڑا سا پانی لیا اور تمام لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھوں کو دھوتے ہوئے کہا۔اس آدمی کی موت کا میں ذمے دار نہیں ہوںکےوں کہ تم ہی لوگ ہوجو اس کے ذمے دار ہو۔تمام لوگوںنے جواب دےا کہ اس کی موت کے ہم ہی ذمے دار ہیں۔ اور اس کی موت کے لئے بطور سزا کے کچھ مقرر ہوا تو اس کو ہم اور ہماری اولاد بھگت لیں گے “ ۔چنانچہ اس بےان کے بعد یہودےوںکی اولاد کو حضرت عیسیٰ کی مفروضہ پھانسی سے کےسے بری کےا جاسکتا ہے؟
اس تما م جنگی جنون اورنئے عقیدے کا تفصیلی جائزہ سابق صدر جانسن کی تقرےر نویس ”گریس ہالسیل “ نے اپنی کتا ب ”Forcing God;’s Hand “ میں کےا ہے جسے راقم نے ”خوف ناک جدید صلیبی جنگ “کے نئے نام سے شائع کےا ہے۔ ان نئے عقائد کا پرچار کرنے والے پادرےوں کو مصنفہ (جو خود اےک عیسائی خاتون ہے)،طنزاَمفاد پرست عیسائی پادری کہتی ہے۔صیہونےوں اور عیسائےوں کی ان چالوں کو بعض اور مصنفوں نے بھی اپنی کتابوں کوبہت کھول کر بےان کےا ہے جن میں سے کچھ کا ترجمہ راقم نے بھی اپنے ہم وطنوں کی باخبری کے لئے شائع کےا ہے۔
سو اےسے متعصبانہ و سازشی پس منظرمیں جہاں فلسطینی مسلمانوں کو زمین سے ےکسر نیست و نابود کرنے کے لئے نئے نئے عقائد گھڑ لئے گئے ہوں، جہاں عیسائی خود یہودےوں سے بھی بڑھ کر یہودی ثابت ہورہے ہوں، او ر جو گروہ عالمی خونی جنگ کو از خود جلد از جلدبرپا کروانا چاہتا ہو، فلسطینےوں اور مظلوموںکے مفاد کا خےال کس کو رہتا ہے؟۔عیسائی ، امریکی،اور مسلم جب سارے ہی حکمران غاصب و قبضہ گیر یہودےوں کے آلہءکار بن جائیں تو فلسطین کے سوال کو تو ازخود ہی گم ہوجاتا ہے ۔زمانے کا یہ کیسا ستم ہے کہ وہ عرب حکومتیں جو کبھی اسرائیل کی بدترین دشمن، اور فلسطینےوں کی سدا مددگار ہوا کرتی تھیں ، عالمی جنگی گروہ صیہونےوں کے آگے اب وہ بھی سجدہ ریز ہوگئی ہیں۔سو ان کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوااب کون اور کہاں سے سامنے آئے گا؟۔ زمینی حقائق تو ان فلسطینےوں کے بالکل خلاف جارہے ہیں!۔ عالمی طاقتوںکے نزدیک ”انصاف صر ف وہی ہے جسے وہ خود انصاف کہیں“۔ سچی بات تویہی ہے کہ
عالم ہے مکدر ، دل صاف نہیں ہے ۔!
”اس عہد میں سب کچھ ہے مگر انصاف نہیں ہے“
واضح رہے کہ نبی ﷺنے بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی آخری وقت میںعیسائےوں اورمسلمانوںکے درمےان ایک خونی جنگ ”اَلمُلحِمة الکبریٰ“کی پیش گوئی کی ہے جس میں مسلمانوں کا خون بہت زےادہ بہے گا۔ کئی عیسائی طاقتیں اس جنگ میں ان کے خلاف متحد ہوںگی۔ابتدا میں تومسلم و عیسائی دونوں قوتیں باہم مل کر کسی اور قوت سے جنگ کررہی ہوںگی لیکن اچانک مسلمانوں سے غداری کرکے عیسائی الٹا انہی کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ تاہم نبوی پیش گوئی کے مطابق آخری فتح بہرحال مسلمانوں ہی کی ہوگی۔ادھر جیسا کہ آپ نے اوپر مطالعہ کےا، اسی طرز کی مذکورہ بڑی و خونی جنگ کی پیشین گوئی انجیلی صحیفوں میں بھی موجود ہے ۔چنانچہ قےاس کےا جاتا ہے کہ یہ دونوں جنگیں ایک ہی ہیں۔ عیسائی اس جنگ کو”آرمیگاڈون“ کہتے ہیں جبکہ نبی ﷺ نے اسے ”الملحة الکبریٰ“( شدید ترین خونی جنگ) قرار دےا ہے۔

رضی الدین سید۔کراچی۔۱۷۵۷۹۳۲۔۰۰۳۰

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں