105

کروناوائرس ! عذاب یا آزمائش۔۔؟

آج دنیا کرونا وائرس کے وباء سے دو چار ہے اور یہ وباءانسانیت کو نہایت تیزی سے نگل رہی ہے۔ یہ خدا کی طرف سے عذاب ہے یا آزمائش یا کسی ناراضگی و غصہ کے اظہار کی کوئی صورت۔ کرونا وائرس اللہ کریم کی طرف سے عذاب تو نہیں بلکہ آزمائش اور امتحان ہو سکتا ہے یا کسی ناراضگی و غصہ کے اظہار کی صورت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اللہ کریم جس قوم پر عذاب نازل فرماتے ہیں اسے مہلت نہیں دیتے، وہ عذاب اس قوم کا منطقی انجام ہوتا ہے اور پلک جھپٹ میں سب کچھ ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ جب مہلت ملتی ہے تو وہ عذاب نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہوتا ہے۔جس کسی قوم میں برائی، بے حیائی و فحاشی ، ملاوٹ، فراڈ، دھوکہ دہی ،نا انصافی، بد عنوانی عام ہو جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے ایک ڈانٹ کے طور پر زلزلے، طوفان، بیماریاں اور مہلک وبائیں آتی ہیں تاکہ لوگ اس کے خوف سے ہمارے سیدھے راستے پر آ جائیں۔ ان کامقصد لوگوں پر حجت قائم کرنا ، خبردار کرنا اور احساس دلانا ہوتا ہے کہ ان کے معاشرہ میں گناہ، ظلم و زیادتی ، لوٹ مار، حق تلفی عام ہو گئی اس لئے انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے، انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ باز آئیں قبل اس کے کہ انہیں مزید کسی بڑے عذاب سے دوچار ہونا پڑے۔ قدرت کا دستور ہے کہ وہ بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کے جھٹکے دیتا ہے شائد کہ باز آ جائیں۔ قرآن مجید میں ارشادہوتا ہے کہ
وَلَنُذِيْقَنَّـهُـمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَـرِ لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُوْنَ o
” ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزا چکھاتے ہیں کہ شائد وہ اپنے کرتوتوں پر ، اپنے گناہوں پر نادم ہو کر واپسی کا راستہ اختیار کریں، باز آجائیں اور ہماری طرف رجوع کر یں، ( سمجھ جائیں کہ وہ کسی کی پکڑ میں ہیں ، کوئی ان کو دیکھ رہا ہے، کوئی ان کی گرفت کرنے والی قوت موجود ہے اور وہ توبہ کر کے بڑے عذاب سے بچ جائیں)۔“ ( سورہ السجدة32: 21)
یہ چھوٹے عذاب، یہ چھوٹی سزائیں اللہ کی طرف سے ندا ہوتی ہے بڑے عذاب سے بچنے کی۔ اللہ کریم کی ذات بہت رحیم و کریم اور مہربان ہے وہ اپنے بندوں کی بخشش کے اسباب پیدا کرتی اور وسیلہ تلاش کرتی ہے کہ کسی سبب اور وسیلہ سے یہ میری طرف متوجہ ہو جائیں اور میں ان کو معاف کر دوں۔ اللہ کریم اپنی مخلوق پر رحم اور بھلائی کا ارادہ رکھتے ہیںاور اپنے بندوں کی توبہ کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ خدا جب اپنے بندوں سے ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کئی مختلف صورتوں میں فرماتا ہے، کئی وسیلے ، کئی اسباب اور مواقع پیدا کرتا ہے کہ مجھے منا لیں اور میری رضا پر آجائیں۔ کئی مہلتیں فراہم کرتا ہے کہ شائد اب انہیں احساس ہو،شائد اب میری طرف راغب ہو جائیں، شائد اس نشاندہی کو دیکھ کر توبہ کر لیں اور میری گرفت سے بچ جائیں، شائد اس وباءکو دیکھ کر میرے دروازے پر آجائیں اور میں ان کو معاف کروں ۔ بے موسم اور پکی ہوئی تیار فصلوں پر بارش کا ہونا رب کی ناراضگی علا مت ہے۔ زلزلہ، آندھی، طوفان کا آنا رب کی ناراضگی کی علامات ہے۔طاعون ، وبائی امراض کا پھیلنا بھی رب کریم کا اپنے بندوں سے ناراضگی کا اظہار ہے۔یہ سب صورتیں رب کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہوتی ہے، اعلان ہوتا ہے کہ اے بندوں میں تم سے ناراض ہوںاور اس بلاسے ، اس وباءسے، اس طوفان سے، اس زلزلہ سے تمہیں وعید اور توبہ کی مہلت دے رہا ہوں کہ باز آ جاﺅ، سیدھا راستہ اختیار کر لو۔ اگر کوئی شخص یا قوم بار بار تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتی اور سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی تو پھر اس قوم پر عذاب کا حکم صادر کر دیا ہے۔ حکم ِ عذاب آ جانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے پھر اس کی کوئی التجا نہیں سنی جاتی اور عذاب کا کوڑا برس کر ہی رہتا ہے۔
انسان کے ہراچھے یا برے عمل کاکوئی نہ کوئی رد عمل ضرور ہوتاہے، دنیا میں پیش آنے والے حالات و واقعات پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز انسان کے اچھے یا برے اعمال ہیں جن کا تعلق براہِ راست رب کریم کی رضاو خوشنودی اور ناراضگی سے ہے۔ جب انسان کوئی عمل اپنے رب کی منشاءکے مطابق یا خلاف کرتا ہے تو اسے اس کا کسی نہ کسی صورت میں ماحصل و ردِعمل ضرور ملتا ہے، اچھے اور رضا والے کام کا اچھے انداز میں جبکہ برے اور ناراضگی والے کاموں کا برے انداز میں۔ اعمال کی سزا و جزاءاور خدا پر یقین نہ رکھنے والے لوگ حوادث وآفات کو صرف طبعی اورظاہری اسباب سے جوڑتے ہیں اورپھراِسی اعتبار سے ان حوادث سے بچاﺅ کی تدابیر کرتے ہیں۔ شرعی تعلیمات کی روشنی میں بحیثیت بایقین مسلمان یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور امر سے ہوتا ہے، جس کاہم عقل اورحواس خمسہ کے ذریعہ ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ وحی الٰہی اورانبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جزاءوسزا کا جو نظام سمجھایا ہے، وہ ہمیں اس غیبی نظام کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، وہ یہ کہ کسی بھی واقعہ اور حادثہ کا اصل اورحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور ناراضگی ہے اور ایسے حوادث پیش آنے کے بعد لوگوں کو مجموعی طور پر توبہ کر کے رب کی طرف رجوع کرنا چاہےے۔
ایک زمانہ تھا کہ اگر کہیں کوئی آفت، زلزلہ،اندھی، طوفان، مصیبت، پریشانی یا بیماری آتی، تو لوگ اپنے اندر جھانکتے،کہ کہیں ان سے کوئی خطا تو سرزد نہیں ہو گئی، کسی قسم کا ظلم یا زیادتی تو نہیں ہوئی، کسی کا حق تو وہ غصب نہیں کیا کہ آج جس کی وجہ سے ان پریہ مصیبت نازل ہوئی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ تصورپختہ تھا کہ مظلوموں کی فریاد، بستیوں پر عذاب نازل کرتی ہے۔آج وہ زمانہ ہے کہ لوگ اپنے اندر نہیں بلکہ دوسروں کے اندر جھانکتے ہیں کہ لوگ یہ کر رہے ہیں، لوگ وہ کر رہے ہیں۔ معاشرے میں یہ یہ کچھ ہو رہا ہے تو عذاب کیوں نہ آئیں؟ معاشرہ کے ہر ہر فرد سے یہی کچھ سننے کو ملتا ہے ۔ کوئی اپنے اندر جھانکنے اور خود کو موردِ الزام ٹھہرانے کو تیار نہیں، وہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اگرہر فرد اپنی اپنی اصلاح کرے،لوگ اپنے اپنے اندر جھانکتے ہوئے خود کو درست کریں تو معاشرہ درست ہو جائے گا۔ جب سب دوسروں کی طرف دیکھنے لگیں گے توکوئی اپنی اپنی اصلاح نہیں کرے گاتو کبھی معاشرہ کی اصلاح نہیں ہو گی۔
دنیا میں کسی پر ہرگز ظلم نہ کرو اور نہ ظلم ہونے دو، اور نہ ظلم ہوتا دیکھ کر سہنے کی قوت رکھو کیونکہ مظلوموں کی فریاد بہت جلد سنی جاتی ہے۔جب زمین کی کسی بستی پر، کسی علاقے پر ظلم ہو رہا ہو، اور وہ مظلوم لوگ باقی ماندہ با اثر دنیا، طاقتور ملکوں کی طرف دیکھ کر رہے ہوں کہ کوئی ان کی مدد کو آئے۔ جب زمین پر انسان بستے ہیں تو انسان کی مدد انسان نے ہی کرنی ہے نا، فرشتوں نے تو نہیں؟ جنوں اور غیبی قوتوں نے تو نہیں؟ ظلم جب حد کو پہنچ جاتا ہے اور دنیا سے کہیں ان کو مدد نہیں ملتی تو پھر وہ ذات کبریائی جوش میں آتی ہے، غیبی قوتیں حرکت میں آتی ہیںاور اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہیں کہ کوئی ظلم کی طنابیں کھینچنے والی قوت موجود ہے۔ کوئی مظلوم کی حمایت کرنے اور انتقام لینے والی قوت موجود ہے۔ جب وہ قوت انتقام پر اترتی ہے تو سب سے پہلے ان سے انتقام لیتی ہے جن میں جبر سے مقابلہ کی قوت تھی اور وہ ظالم کا ہاتھ روک کر مظلوم کو اس کا حق دلوا سکتی تھی۔بسا اوقات قدرت انتقام بھی اس طرز سے لیتی ہے جس طرح کی صورت حال سے مظلوم دوچار تھے۔ ظلم ، جبر ، زیادتی و ناانصافی پر مبنی کشمیری لاک ڈاﺅن تو دنیا کو یاد ہوگا۔بالکل غیر قانونی طریقہ سے کشمیر کا لاک ڈاﺅن کیا گیا۔ کشمیری عوام نے پوری دنیا کی طرف دیکھا مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔ قدرت رکھنے کے باوجود دنیا میں کوئی ان کی مدد کو آنے کو تیار نہیں تھا، سب مظلوم سے زیادہ ظالم کی خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے تو ان کی آہ و زاری اس قادر مطلق نے سن لی ۔ دیکھو! آج پوری دنیا لاک ڈاﺅن میں ہے اور بالکل اسی طرح کے عذاب سے دوچار ہے جن میں کشمیری الجھے ہوئے تھے فرق صرف یہ ہے کہ کشمیریوں کے سامنے نظر آنے والے قوت تھی یعنی بھارتی فورسز، جن کواگر دنیا چاہتی تواپنی قوت سے ہٹا سکتی تھی مگرآج دنیا کے سامنے نہ نظر آنے والی غیبی قوت ہے” کرونا وائرس“۔نظر آنے والی قوت کو ہٹایا جا سکتا تھا مگر نہ نظر آنے والی وقت کو ہٹانا دنیا کے بس کا کھیل نہیں اس کا ٹلنا اسی ذات کے رحم پر ہے۔ اور پھرانتقام لینے کی ترتیب بھی دیکھیں کہ کشمیر کے قریب ترین قوت چین تھا۔ چین اگر یہ ظلم کی ڈوری کاٹنا چاہتا تو کاٹ سکتا ہے مگر اس نے کچھ نہ کیا تو قدرتی انتقام کا کوڑا بھی سب سے پہلے انہی سے برسنا شروع ہوا۔ چین کے بعد طاقتور قوتیں امریکہ اور یورپی ممالک تھے تو چین کے بعد سب سے کاری ضرب بھی انہی پر لگی۔ کرونا کا لاک ڈاﺅن کشمیری لاک ڈاﺅن کا قدرتی ردِعمل ہو سکتا ہے۔ اس مالک کی یہ سنت ہے کہ وہ ظالم کو ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر اسے حد سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ظلم جب حد سے بڑھنے لگتا ہے تو وہ ظلم کی طنابیں کھینچ لیتا ہے،تب اس کاکوڑا برس کر رہتا ہے ۔
یہ چھوٹے عذاب کے جھٹکے، یہ منادی، یہ انتباہیں بالعموم معاشرہ کے ہر فرد کےلئے ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر بالخصوص ریاست کے حکمرانوں کےلئے خدا کی طرف سے خاص پیغام ہوتا ہے اگر وہ بصیرت کی آنکھیں رکھنے والے ہوں توکہ ان کے زیر اثر ریاست و معاشرہ میں برائیاں عام ہو گئیں ہیں اور وہ ان پر قابو پانے کی کوشش کریں نہیں تو خدا کی سخت پکڑ میں آئیں گے۔انفرادی طور پر ہر فرد اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور خدا کی بارگاہ میں وہ اکیلا ہی اس کا جواب دہ ہے اس لئے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ایسی آفات و بلیات کے وقت دوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے کی بجائے اپنے آپ میں جھانکے، اپنے آپ کو کھول کر دیکھے، اپنا آپ محاسبہ کرے اور جہاں کہیں کوئی کوتاہی نظر آئے اس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ اور مجموعی طور پر جو برائیاں معاشرہ میں عام پائی جاتی ہیں اس کے ذمہ دار معاشرہ کے حکمران ہوتے ہیں۔رب کی بارگاہ میں مجموعی ریاست کی باز پرس وقت کے حکمرانوں سے ہو گی۔ اس لئے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ریاست میں غور و فکر کریں دیکھیں کہ کہاں کہاں اور کس شعبے یا محکمے میں ہیر پھیر ہو رہی ہے، فراڈ ہو رہا ہے، حلق تلی، ظلم و ناانصافی ہو رہی ہے، بد عنوانی، حیاءباختگی، اخلاقی گراوٹ کہاں کہاں پائی جاتی ہے اور وہ ہنگامی و ترجیحی بنیادوں پر ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور خدا کے قانون کے مطابق ڈھالیں تاکہ جلد از جلد یہ آفت دور ہو اور اگلی کسی بڑی آفت سے بچا جا سکے۔
ایسی آفات و مصیبت اور بیماری و پریشانی کے نزول کے پیچھے اللہ تبارک و تعالیٰ کاایک خاص مقصد چھپا ہوتا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ لوگ جو خوابِ غفلت میں مست ہیں، انہیں جھنجھوڑا جائے،تاکہ وہ اللہ کی جانب واپس لوٹ آئیں، اپنے اندر جھانکیں، اپنے گناہوں کا محاسبہ کریں، اپنے اندر فکر و احساس پیدا کریں اور اللہ سے معافی طلب کریں۔ ہر عذاب، مصیبت، پریشانی یا آفت دراصل اسی لیے آتی ہے کہ آخرت کے عذاب کی جانب تیزی سے گامزن معاشرہ اور اس کے غافل انسانوں کو جھنجھوڑا جائے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے کوئی تیز رفتاری سے کسی ایسی ڈھلوان پر پھسلتا جارہا ہو جس کے آخر میں بہت گہری کھائی ہو جس میں گر کر نکلنا نہ ممکن ہو۔ ایسے مواقع پر خبردار کرنے والا ، اور انجام سے روکنے والا ان کا دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ ہوتا ہے۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کا ازحد خیر خواہ اور مہربان ہے، اسی لیے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخلوق کا ایک بہت بڑا حصہ، غفلت میں ڈوبا ہوا ہے اور جس راستے پر چل رہا ہے اس کے آگے جہنم کا بہت گہرا اور اندھا گڑھا ہے اگر وہ اس میں گر گئے تو نجات پانا ناممکن ہوگی پھر وہی ہمیشہ کا ان کا ٹھکانہ بن جائے گا تو رب کریم انہیں خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے آفات و بلیات، مصیبت، پریشانی انتباہ کے طور پر نازل فرما کر جھنجھوڑتے ہیں کہ شائد باز آ جائیں اور اپنا راستہ بدل لیں اور اُس راستے پر چل پڑیں جو میری طرف آتا ہے ، جہاں امن ہی امن ہے، سکون ہی سکون ہے۔
انبیائے کرام علےہ السلام کی ہر امت کو ایسے کئی امتحانات و آزمائشات سے گزرنا ہوتا ہے جن میں ان کے جذبہ ایمانی، ان کے صبر و شکر ، ان کے مال و دولت اور ان کی دین کی رغبت کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان میں ایمان کی قوت کنتی ہے اور اپنے دین و ملت کی رغبت کتنی؟حق کو جانچنے، سمجھنے کی توفیق و صلاحیت کتنی ہے؟ خدا کا خوف اور ڈر کتنا ہے؟ وہ قوم اپنے رب کی ناراضگی یا عذاب کے آثار دیکھ کر کتنا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ان میں کتنا اس کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے نادم و تائب ہو کر اس کا سیدھا راستہ اختیار کرتی ہے۔ رب کی ناخوشی و ناراضگی کے آثار دیکھ کر وہ اپنے رب و رسول ﷺ کے احکامات کو کتنا سنجیدگی سے لیتی ہے اور کتنی ان کی اطاعت و پیروی کرتی ہے؟ یہ ہر امت پر ایک ایسا امتحان ہوتاہے کہ بظاہر حالات مایوسیوں میں گھیر لیتے ہیں۔ دراصل اسی وقت کامیابیوں کی بنیاد پڑتی ہے اگر وہ اپنے رب اور دین کی طرف مائل ہو جائیں تو، اگر اپنے رب کی طرف رغبت اختیار کر لیں تو مسلسل کامیابیوں اور کامرانیوں کا دور شروع ہوتا ہے ۔ آزمائش کی یہ بھٹی ہی امت کو دنیا میں عزت ووقار ، عظمت و سربلندی عطا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنائیتوں کا حقدار بناتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے
اَمْ حَسِبْتُـمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَّسَّتْهُـمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّـٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَهٝ مَتٰى نَصْرُ اللّـٰهِ ۗ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّـٰهِ قَرِيْبٌ (البقرة 214:2)
”کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاﺅ گے اور ابھی تم سے اگلوں کا سا ماجرا پیش نہ آیا کہ انہیں سخت سختی اور شدت پہنچی اور ہلا ہلاکر رکھ دئیے گئے یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایمان والے پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ سن لو ، بےشک اللہ کی مدد قریب آن پہنچی ہے۔“
اس آیہ مبارکہ کے آخری کلمات انتہائی توجہ طلب ہیں کہ سخت تکلیف، شدت کی آزمائش کے بعد اگر قوم سدھر جائے اوراپنے لئے راہ راست کا تعین کر لے تو انہیں اعلانیہ ندا کی جارہی ہے کہ اب گھبراو نہیں، کچھ غم نہ کھاﺅ ” اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّـٰهِ قَرِيْبٌ “ سن لو! اب تمہارے رب کی مدد تمہارے بہت قریب ہے اگر تم اس بلاء، اس وباء، اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے، اس کی وجوہات کی گہری تک پہنچے، ان کو باخوبی سمجھا، ان کا ادارک کیا اور ریاست سے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا تو یقین کرلو اب تم ہی فلاح پاﺅ گے، تم ہی نجات پاﺅگے تم ہی دنیا میں غلبہ پاﺅگے، اب میری مدد و نصرت تمہارے بہت قریب ہے، میری رضا و خوشنودی پا لینے کے بعد میری کائنات میں اب صرف تمہارا ہی سکہ چلے گا۔گویا خدا کی طرف سے ہر آزمائش اپنے ساتھ کامیابیوں کا زینہ لے کر آتی ہے اگر قوم اس کے شہود پر آنے، اس کے واقع ہونے کے اسباب جان کر اس کی طرف رغبت اختیار کر لے اور اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں، اعمال و کردار میں غور و فکرکرے اور ان غلطیوں کو خود سے دور کرتے ہوئے تائب ہو کر اس کے دروازے پر آجائے۔
رب کی ناراضگی کے آثار ظاہر ہو جانے کے بعد، زلزلہ، طوفان، بے موسم بارشیں اور وبائی امراض زیادہ پھیل جانے کے بعد توبہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اجتماعی توبہ رب کوزیادہ مرعوب و پسندیدہ ہے، رب کی زیادہ خوشنودی اور قرب کا باعث ہے ۔ رب سے اجتماعی معافی و در گذر اور بلا و وباءکے ٹلنے کی التجائیں قبولیت کے زیادہ درجے پر ہوتی ہیں۔ اور اجتماعی توبہ واضح ہو جانے کے بعد بہت جلد وہ وباءٹال دی جاتی ہے۔ اجتماعی توبہ واضح ہونے کا مطلب یہ کہ اس قوم نے مجموعی طور پر رب کی ناراضگی کے آثار کو سمجھا اور اس کی طرف راغب اختیار کی، اپنا قبلہ درست کیا، اپنا نظام، اپنا دستور، اپنا ضابطہ حیات اس کی منشاءکے مطابق ڈھال لیااور اجتماعی طور پراسے قبول کرتے ہوئے اس کا انفاذ بھی کر دیا تو اب وہ قوم رب کے بہت قریب ہے اور ہر کامیابی و کامرانی اس کا مقدر ہی نہیں بلکہ خادم بن کر اس کی دہلیز پر کھڑی ہے کہ کب اور کہاں میری قوم کو اس کی ضرورت ہے کہ میں انہیں سرفراز کروں ۔
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب ِ الٰہی کے آثار واضح ہونا شروع ہوئے ، انہوں نے اس کی نزاکت کو سمجھا اور بصیرت کی آنکھیں کھولیں اور اجتماعی طور پر رب کے حضور توبہ کی توان سے وہ عذاب ٹال دیا گیا ، اس کے برعکس بنی اسرائیل، یہود کی قوم طرح طرح کے عذاب میں پڑی، ایک کے ٹلنے کے بعد دوسرا نازل ہو جاتا اس لئے کہ ان کی توبہ کا معیار وہ نہیں تھا جس سے عذاب ٹلا کرتے ہیں اور وہ ہر عذاب کے ٹل جانے کے بعد دوبارہ سرکشی پر اتر آتے تھے۔ بالکل ےہی حال آج ہمارے معاشرے کا ہے۔ہم ہر مصیبت کو یہ تو سمجھتے ہیں کہ یہ رب کی طرف سے عذاب ہے مگر اس کے وقوع پذیرہونے کے اسباب تلاش نہیں کرتے، ان کا تفکر نہیں کرتے، اور نہ ہی ان وجوہہ کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عذاب آیا،جن کی وجہ سے رب ناراض ہوا۔ہم اپنے کردار، اپنے اطوار، اپنے طریق درست نہیں کرتے صرف دعاوں پر زور دیتے ہیں کہ ایسے ہی ٹل جائے اور ہمیں اپنا کچھ نہ بدلنا پڑے۔ سب کچھ ویسے ہی چلتا رہے جیسے پہلے چل رہا تھا۔ ایسی صورت حال میں وہ رحیم و کریم ذات اپنی رحمت سے وہ بلا تو ٹال دیتی ہے مگر جب معاشرہ کے اعمال بد دیکھ کر جب کبھی دوبارہ غضب ناک ہو تو اس سے بڑی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔اس طرح کی قوموں پر ایک سے بڑھ کر ایک آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہیں۔
آزمائشیں رب کی طرف سے پیغام ہوتی ہیں کہ اپنا کچھ بدل لو، اپنا کچھ سنوار لو، اپنا کچھ نظام زندگی بہتر اور میرے طریق سے آراستہ کر لو، تمہارا نظام میرا پسندیدہ نہیں، تمہارے اعمال و کردار میرے پسندیدہ نہیں، تمہارے اخلاق و اطوار مجھے تم پر غضب ناک کرتے ہیں۔تمہیں مہلت دی جاتی ہے کہ اپنا کچھ بہتر کر سکتے تو کر لو۔ مگر ہماری قوم ہر آزمائش کو عذاب کہتی ہے۔ ہر بلاءکو، ہر آفت کو عذاب سمجھتی ہے آزمائش نہیں۔اس لئے کہ آزمائش کے بعد تبدیلی ہوتی ہے، آزمائش کے بعدکچھ بدلنا ہوتا ہے، کچھ اپنے آپ کو بہتر کرنا ہوتا ہے جو ہم کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ عذاب قوموں کا منطقی انجام ہوتا ہے اس کے بعد سلجھنے، خود کو بدلنے کی آپشن نہیں ہوتی۔ اس لئے ہم سب ہر چھوٹی موٹی آزمائش کو عذاب کہتے ہیں۔ہم آزمائش کو آزمائش سمجھ کر بدلنا نہیں چاہتے ، ہم بدستور اسی حالت میں رہنا چاہتے ہیں جس میں چل رہے ہیں، ہم خود میں رب کے احکامات کے مطابق تبدیلی یا بہتری نہیں لانا چاہتے اس لئے عذاب کہتے ہیں اور اپنا منطقی انجام دیکھ رہے ہیں۔
ہمارے میڈیا والے، ہمارے حکمران، ہمارے عوام سب کرونا کو عذاب کہہ رہے ہیں، رب کی آزمائش نہیں، رب کی طرف سے مہلت نہیں۔ اعمال کی سزا و جزاءاور خدا پر یقین نہ رکھنے والے لوگوں کی طرح میڈیا بھی حوادث وآفات کو صرف طبعی اورظاہری اسباب سے جوڑتا ہے اوراِسی اعتبار سے ان حوادث سے بچاﺅ کی تدابیر دیتا ہے ۔رب کی طرف سے ایسی وبائیں، ایسی آمازئشیں کیوں آتی ہیں، ان کے اسباب کیا ہیں؟ اس کا دینی نقطہ نظر میڈیا اورآج کل کی ریاستیں ڈسکس ہی نہیں کرتی۔ نہ ہی میڈیا سے توبہ و استغفار کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ میڈیا جو پیغام دے رہا ہے وہ خدا خوفی کا نہیں بلکہ غرور کا ۔ خدا کے قہر سے ڈر کر سیدھی راہ اختیار کرنے کا نہیں بلکہ اس کے آگے ڈٹ جانے کا کہ ” کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے “ اے انسان! تجھ میں ہمت ہے اس واحد القوی القہار ذات سے لڑنے کی جو زمین پر موجود بھٹکے ہوئے انسانوں کو کرونا کی صورت میں کوئی پیغام دینا چاہ رہی ہے سلجھ جانے اور سیدھی راہ اختیار کرنے کا۔زمین پر کوئی مصیبت، کوئی آفت، کوئی وباءنہیں اترتی مگر وہ ذات اس سے باخبر ہوتی ہے اور اس امر میں اس کی مقصود و منشاءشامل ہوتی ہے۔ایسے مواقع پر انسان کو اس کے آگے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اجتماعی توبہ اور ریاستی نظام کا رخ رب کے ہدایت کردہ نظام کی طرف موڑنا چاہیے۔یہی ہر بلاءو مصیبت سے نجات کو واحد راستہ ہے کہ عاجزی اختیار کرتے ہوئے پروردگار اور اس کے دین کی طرف رجوع کیا جائے۔
کیا ٹی وی چینلز پر اس عذاب الٰہی کے بعد کچھ خدا کے خوف، خدا کے ڈر کچھ بدلا نظر آتا ہے؟آج بھی وہی پروگرام فضولیات اور جگتیں، بے جا وقت کا ضیاع۔ ٹی وی اینکرز ، میزبان آج بھی اسی طرح کے لباس اور واضح قطع میں سکرین پر نظر آتی ہیں جیسے اس عذاب الٰہی سے پہلے آتی تھیں۔ ننگے سر، ننگی چھاتی، کھلے بال، نیم عریاں لباس۔ آج بھی میڈیا پر سب کچھ ویسے ہی ہے جیسا پہلے تھا۔ اگر کرونا رب کا عذاب ہے تو یہ عذاب دیکھ کر ان میں کتنا خدا کا خوف اور ڈر پیدا ہوا؟ جب خدا کا عذاب آ رہا ہو تو انسان میں کچھ تو اس کا خوف آنا چاہیے۔ کچھ تو اسے اپنا آپ بدل کر رب کی ہدایت پر آنا چاہیے۔ عذاب الٰہی ، رب کی ناراضگی اور اس کی پکڑ کے بعد کچھ تو اس کا ڈر، اس کا خوف اور اس کی طرف رجوع نظر آنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی سب کچھ وہی ہے جو پہلے تھا۔ عذاب الٰہی کی وعید، خدا کی ناراضگی کے آثار دیکھ کرکیا کچھ بدلا معاشرہ میں؟کتنا خدا کا خوف پیدا ہوا؟ کتنا ایک لوگوں نے غلط و برے اطوار چھوڑ کر رب کی طرف رغبیت اختیار کی؟ ہمارے میڈیا اور حکمرانوں نے کتنا قوم کو پیغام دیا کہ وہ اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ ا ستغفار کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ اپنے ناراض رب کو منائیں اور اس کی کامل اتباع کریں، اس کے دین کی پیروی کریں؟ ہمارے معاشرہ میں مسلم خواتین کی اکثریت کیا ثابت کر رہی ہے کہ یہ معاشرہ رحمن کی اتباع کرنے والا ہے یا شیطان کی؟ہمارے معاشرہ کی غالب اکثریت تواپنے کردار سے یہ واضح کر رہی ہے یہ شیطان کی اتباع کرنے والا معاشرہ ہے رحمن کی نہیں۔قرآن میں پرد ہ اور سر پر اوڑھنی اوڑھے رکھنے کی کتنی پر زور تلقین کی گئی ہے اورہماری خواتین کی اکثریت نے پردہ ترک کرکے دوپٹہ فیشن کے طور پر گلے ڈال رکھا ہے۔ یہ صرف حکم کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف اقدام بھی ہے۔اللہ کریم نے حکم دیا کہ عورتیں سراپا ستر ہیں ، پردہ میں رہنے کی چیز ہے تو پردہ میں رہیں ، اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں۔ مگر ہم معاشرہ میں عملی طور پر کیا دےکھتے ہیں؟ کون سراپا ستر نظر آتا ہے عورت یا مرد؟ کسی مرد کو دیکھو وہ سراپا ستر بنا ہے، اس کا جسم سر سے لیکر پاوں تک ڈھانپا ہوا ہے مگر عورتوں کا جسم و روپ سراپا نمائش نظر آتا ہے۔ سر ننگا اور کھلے ہوئے بال، بازوکہنیوں اور بلغوں تک ننگے، پاﺅں گھٹنوں سے اوپر تک ننگے، کھلا گلا اور ننگا رکھا ہوا،قمیص کے چاک اتنے اونچے رکھے ہوئے کہ وہاں سے بھی جسم کی جھلک پڑے، لباس اتنا تنگ اورچشت کہ ہر ستر واضح ہو۔یہ کس کی اتباع کی واضح دلیل مل رہی ہے، یہ کس کے حکم ماننے جا رہے ہیں؟ یہ کس کی پیروی کی جا رہی ہے ، رحمن کی یا شیطان کی؟ ہم نے اللہ کریم کے ہر حکم کی نہ صرف نفی کی بلکہ اس کے خلاف اقدام بھی کیااور الٹی روش اپنائی۔ اللہ کریم نے فرمایا عورت سراپا ستر ہے مگر وہ آج سراپا نمائش ہے اور مرد سراپا ستر۔یہ کھلا مذاق نہیں ہو رہا قرآن و سنت اور احکامات خداوندی کا؟ آج کی ہماری مسلمان خواتین ان احکامات کا کھلے عام مذاق اور تمسخر اڑا رہی ہیں اورعملی طور پر شیطان کی اتباع کر کے خود کو مسلمان بھی کہہ رہی ہیں۔کیا یہ توہین و تمسخر نہیں خدا و رسول ﷺ اور قرآن و سنت کا؟ وہ کس منہ سے کہہ رہی ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اللہ ورسول ﷺ کے احکام ماننے والی ہیں اور فخر کرتی ہیں مسلمان ہونے پر، جبکہ ان کی ظاہری شکل و صورت تو شیطان کی اتباع ثابت کر رہی ہے اور یہ کہ یہ شیطان سے بڑھ کر شیطان ہیں۔ابلیس صرف ایک حکم کی اتباع نہ کرنے سے ایک معزز فرشتہ سے شیطان بن سکتا ہے اور یہ احکامات کی کھلی دھجکیاں اڑا کر بھی خود کو مسلمان کہیں یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ شیطان سے بڑھ کر شیطان نہ ہوئیں یا شیطان کی آلہ کار؟
خدا کا دین سارے کا سارا واجب الاطاعت اور فرض ِعمل ہے۔ اس کا کوئی حصہ اختیاری نہیں ہے کہ کوئی کہے کہ میں اتنا تو مانتا ہوں اور اتنا نہیں مانتا ۔ اتنے پر تو عمل کر سکتا ہوں اتنے پر نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی خدا کے دین کے کسی ایک نقطہ کے مطابق بھی نہیں چلتا تو وہ بھی شیطانوں کی صف میں شامل ہے اور اس کا کوئی عمل، اس کی کوئی نسبت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔اسے ہر مسلمان منبع اطاعت، پاکباز اور صالح چاہےے جو سر سے لیکر پاوں تک سراپا اطاعت ہو، اس کا ظاہر وباطن ایک سمت اور واضح ہو اور اس کا مکمل جھکاو، اس کی لگن، اس کی ساری دوڑ دھوپ اس کے دین کی طرف ہو اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی کامل اتباع ہواور ان کی سیرت و کردار کا عملی نمونہ ہو۔
جیسے اللہ کریم اپنی ناراضگی کے آثار مجموعی طور پر پوری قوم کو دیکھاتے ہیںاس کے جواب میں وہ توبہ اور رغبت بھی اجتماعی ہی چاہتے ہیں، مجموعی رغبت و اطاعت کو پسند فرماتے ہیں۔ چند لوگوں کی انفرادی توبہ اور گڑ گڑا کر دعائیں و التجائیں اس وقت کچھ نہیں کر سکتی ہیں جب تک پوری قوم تائب ہو کر اجتماعی رغبت اختیار نہ کرے اوراپنے رب کو خوش کرتے ہوئے اس کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر نہ چل پڑے۔ انفرادی طور پر تو یقینا ہر شخص دعا و التجائیں کر رہا ہو گا مگر قبولیت کیوں نہیں ہو رہی؟ اس لئے نہیں ہو رہی کہ ہماری توبہ محض زبانی ، کھوکھلی، رسمی اور وقتی طور پر ہے اس کے بعد پھر وہی فسق و فجور کی راہیں کھلی ہیں۔ اگر کسی شخص یا معاشرہ میں توبہ کے بعد، رب سے معافی کے بعد تبدیلی نہیں آتی ہے تو گویا اس نے توبہ نہیں کی بلکہ اس ذات کو چکمہ دیا ، دھوکہ دہی کی ، فراڈ کیا کہ میں اپنے اندر اس کے ٹل جانے کے بعد بہتری لاوں گا مگر وہ تو ویسا کا ویسا رہا۔ ہماری توبہ وہ توبہ نہیں ہے جسے قرآن کریم نے توبة النصوح فرمایا ہے یعنی ایسی توبہ جو ہمیشہ نصیحت و عبرت بن سامنے رہے اور گناہوں سے باز رکھے۔ زبانی توبہ کوئی معانی نہیں رکھتی ہے جب تک اس کے عمل میں اس کی توبہ کی جھلک نظر نہ آئے یعنی توبہ کے بعد معاشرہ عملی طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔ اس کا عمل، اس کا کردار، اس کا اخلاق، اس کا قول و فعل پہلے سے بدلنا چاہیے۔کسی بھی قوم کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک توبہ کے بعد اس کے ہر عمل کا رجوع اللہ کی طرف نہ ہوجائے۔
آج اللہ رب العزت اس دنیا سے کتنا خفاءو ناراض ہیں اس کا اندازہ اس سے ہی لگا لیں کہ اس نے اپنا گھر حرم کعبہ تک بند کروا دیا، حرم ِ نبوی شریف تک بند کروا دیا کہ کوئی ادھر نہ آئے، کسی کا ادھر کوئی کام نہیں۔اس کے ادنیٰ سے سپاہی نے، اس کی قدرت کے نہ نظر آنے والے چھوٹے سے مظہر نے پوری دنیا کو اپنے خوف سے بند کر دیا۔ مساجد و مدارس تک بند کروا دئیے کہ کسی غافل وبے عمل کا کوئی کام نہیں کہ ہمارے دروازوں پر آکر کھڑا ہی ہو۔جو تھوڑا بہت ہم اسلامی شعائر بجا لاتے تھے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا، گلے ملنا، ان سے بھی دور کر دیا۔ جب اللہ کریم اپنی مخلوق سے اتنا خفاءہو چکے ہیں، اتنا ناراض ہیں کیا ہم سب مل کر اس کو منائیں گے نہیں؟ اس کو خوش کر کے، اس کی رضا پر چل کے اس کی رحمت کو آواز یں نہیں لگائیں گے؟ جس کے بغیر ایک پل نہ رہا جا سکتا ہو اس کو تو منانے میں ہم ذرا دیر نہیں لگاتے تو اپنے رب کو منانے میں اتنی دیر کیوں جس کے بغیر ہم سانس بھی نہیں لے سکتے؟ یاد رکھیں جب تک پوری قوم مل کر اس خدا کو منانے پر تہہ دل سے آمادہ نہیں ہو جاتی اور اس کے نظام کو نہیں اپنا لیتی اس وقت تک یہ کربلا کبھی ٹلنے کا نہیں۔
ایک شعر کا مقولہ بہت مشہور ہے کہ ” اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد“ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی دنیا میں کہیں کوئی کربلا برپا ہوا ہے ، ظلم ہوا، جبر ہوا،اس کے بعد اسلام زندہ ہوا، اسلام کو ایک نیا راستہ ملا، اسلام کوایک نئی تقوت ملی، اسلام کو ایک نئی حیات ملی ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد اسلام زندہ ہوا، منگولی و چنگیزی جبرو ستم کے بعد اسلام کو ایک نئی حیات ملی۔آج کرونا نے دنیا میں جو کربلا برپا کر رکھا ہے ، اس کربلا کا خاتمہ بھی اسلام کی حیات پر ہی ہوگا، اسلام کی نئی زندگی پر ہوگا۔ اسلام کو اپنی زندگیوں میں راہ دینی ہوگی، جب ہماری زندگیوں میں اسلام آئے گا تو سب بلائیں اور وبائیں ٹل جائیں گی کیونکہ جہاں اسلام اپنے اصلی روپ میں ہوتا ہے وہاں امن و سلامتی ، راحت و آسودگی ضرور ہوتی ہے۔ ضرر آلود فضائیں بھی وہاں کا پاکیزہ ماحول دیکھ کر پاکیزہ ہو جایا کرتی ہیںاور اس ماحول کو مزید راحت و تازگی بخشتی ہیں ۔ جب تک اسلام کو دنیا میں نئی زندگی نہیں ملتی اس وقت تک یہ کربلا نہیں ٹلے گا، ایک سے بڑھ کر دوسرا آتا رہے گا۔
وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سے اپیل ہے کہ وہ کرونا کی صورت میں قدرت کے پیغام کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اس میں تفکر و غور و خوض کریں۔ آپ گذشتہ وزراءاعظم پاکستان سے کہیں زیادہ سنجیدہ انسان ہیں، آپ ان سے زیادہ مدبر ہیں، اچھی فکر و سوچ رکھتے ہیں،آپ ان سے زیادہ بصیرت و احساس کی نگاہ رکھنے والے ہیں۔ آپ خدا پر کامل یقین رکھنے والے انسان ہیں اور خدا پر یقین رکھنے والے انسان حوادثات ِ زمانہ کو طبعی اور ظاہری اسباب سے نہیں جوڑتے۔ آپ نے بہت سے مواقع پر نہایت دانشمندی و دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ یہ موقع بھی نہایت کمال بصیرت کی آنکھیں کھولنے کا ہے، نہایت دانشمندی و دور اندیشی سے فیصلہ کرنے کا ہے۔کرونا اور اس کے اسباب کو دین کے نقطہ نظر سے دیکھیں، طبعی و ظاہری اسباب سے نہیں۔ اور دین ہی کے نقطہ نظر سے اس کا حل تلاش ڈھونڈیں، اس کا علاج تلاش کریں۔قرآن و سنت سے اس کا صحیح اور مستقل علاج مل جائے گا۔ خدائے ذوالجلال اپنے بندوں سے بیحد ناراض و ناخوش ہیں۔ کیا آپ اپنے ناراض رب کو منانے کا کوئی حیلہ و سعی و حرکت نہیں کریں گے؟ قوم کو مجموعی طور پر خالق کے دروازہ پر لے آئیں، پوری قوم سے اجتماعی توبہ کروائیں اور دین کے سیدھے راستے پر ڈالیں،خدا کے دین کو ریاست کے نظام میں آنے کی راہ دیں۔یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر یہاں اسلام کا نفاذ نہیں ہے۔آپ ملک میں اسلام کو راستہ دیں، آپ اسلام کی رو سے ریاست کا نظام بدلیں خدا اس ملک و قوم کی تقدیر بدل دے گا اور دنیا میں سربلندی عطا کرے گا۔آپ ریاست میں خدا کے دین کو غالب کریں خدا دنیا میں آپ کے ملک کو غلبہ دے گا اور سرفرازی عطا کرے گا۔ اگر آپ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں تو کم از کم خدا کی شریعت کا ایک اصول، ایک قانون لازمی طور پر ملک میں رائج کریں تاکہ خدا کے قہر و غضب کی آگ کو کچھ ڈھنڈا کیا جا سکے، جو اللہ کریم کے سب سے زیادہ غضب ناک ہونے کا سبب ہے۔ وہ قانون ہے پردہ کا۔ عورت جب بغیر پردہ، ننگے سر، کھلے بالوں کے ساتھ ڈگمگاتی ہوئی گھر سے نکلتی ہے تو وہ خدا کے قہر و غضب کو دعوت دیتی ہے، خداوند کریم کے غصہ کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔اسلام کا یہ ایک قانون نافذ ہو جائے ملک میں تو قوم کا بہت کچھ سنوارو سدھر جائے گا۔قوم بہت سی آفات و بلیات سے بچ جائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں