277

انسانیت کے اختلافات

آج کاایک المیہ یہ بھی ہے اگر کوئی دو چار فرد علوم نبوت پر کسی درجے میں عبور بھی رکھتے ہیں تو عملی تقاضوں اور انسانیت بنیاد پر ظلمتوں کو دور کرنے کا کردار ادا کرنے کا کردار ادا کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔مسلمانوں کا عجیب مزاج بن گیا ہے کہ انسانیت اور اسلام کے درمیا ن مقابلہ کرتے ہیں کہ فلان آدمی جو مر گیا ، کیا وہ انسان دوست تھا یا اسلام دوست تھا۔ ہما رے معاشرے میں انسانیت اور اسلام پر بحث ہو رہی ہے۔اس سے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جو کہ ، کیااسلام انسانیت کے بغیر خلا میں قائم ہو تاہے ؟ 
وہ اسلام جس کی اساس پر پوری انسانیت کے عدل کے قیام کے لیے آیا ہے، آج اس کے ماننے والوں کے نزدیک انسانیت کا خانہ الگ ہو اور اسلام کا خانہ الگ ہو!! یہ بات کرنے والے دونوں طرف کے مذہبی فرقہ پرست لوگ ہوتے ہیں۔ اس سے زیادہ علمی جہالت ہوگی ۔ ہمارا علمی ذوق تو خرا ب ہو گیا اور عملی صلاحیات بھی ختم ہوتی گئیں۔ بے شعوری معاشرے میں طاری ہوگئی۔ اس لیے کے ہم نے علوم نبوت کو علمی بنیادوں پر ،جامعہ انداز میں سمجھنے اور معاشرے کو اس کے مطابق بنانے کا طریقہ چھور دیا گیا۔ فرقہ واریت، گروہیت ، طبقاتیت، انسان دشمنی ہماری علامتیں بن گئیں۔
تمام انسانوں کو اپنے گریباں میں جھانکنا چاہیے۔سات ارب کی انسانی آبادی میں ان ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اپنے گریباں جھانکنا چاہیے کہ قرآن جو اعلیٰ علمی اور عملی استعداد پیدا کرنے کے لیے آیاہے، احکامات شریعت جو کل انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے آئے ہیں، آج اس کاماننے والا ایسی علمی جہالتوں کا ثبوت دیتاہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کریم اور آحدیث کی روشنی میں اپنے علم و شعور کو بلند کیا جائے۔ جیسے زندگی کے دیگر شعبوں میں ہم علمی مہارتیں حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ علم حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے اداروں کا انتخاب کرتے ہیں ، لیکن دوسری طرف ہمیں عملی تقاضوں کوسمجھنے کے لئے جدوجہد اور کو شیش کرنی چاہئیں۔آج یہی دو بنیادی تقاضے پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلمان ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ علوم نبوت پر شعوری گرفت ہو ،علمی مضبوطی اور نظم وضبط کا اجتماعی نظام اور اسے سمجھنے کی طاقت وقوت ہو۔ یہی دو بنیا دی تقاضے ہیں۔مسلمان قرآن مجید فرقان حمید کے ان دو تقاضوں کو سمجھ لیں۔اسی میں ہماری دنیا کی ترقی بھی ہے اور آخرت کی کامیابی اور بھلائی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام تر تقاضوں پر پورا اترنے اور عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں