50

آفسانوی آستانوں کی بہتات

ایک عرصہ سے ہمارے معاشرہ میں آفسانوی ، خیالی، جعلی اور فرضی آستانوں کی بھی بہتات ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ ہمارے ہاں ضعف الاعتقادی اتنی پھیل گئی ہے کہ جہاں کہیں کوئی ٹیلہ، کری، ون یا شرعیں وغیرہ کا درخت ہو، اسے کسی نہ کسی ولی کا آستانہ تصور کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد وہاں علامتی قبر بن جاتی ہے ، کوئی نہ کوئی نام دے دیا جاتا ہے ۔ شیطان صوفی بن کر کسی بد عمل کے خواب میں آیا، کہا میں فلاں صوفی ہوں ، فلاں ٹیلہ پر، فلاں درخت کے نیچے میرا مقبرہ ہے، وہاں میرا دربار بنواؤ اور میلہ لگوایا کرو ۔ پھر وہاں علامتی قبر بن جاتی ہے، وہاں میلہ لگنے لگتا ہے، طرح طرح کی خرافات اور منکرات ہونے لگتی ہیں ۔ لگتا ہے کہ بد عملی کی طرف راغب کرنے کا شیطان کویہ کھلا راستہ مل گیا کہ یہ اس طر ح دین کے نام پر صحیح طرح قابو میں آتے ہیں اور یہاں دین سمجھ کر ہر طرح کی شیطانیت بڑی عقیدت و احترام سے کرتے ہیں ۔ یہ محض فرضی بات نہیں لکھ دی گئی اس کے کئی ثبوت موجود ہیں ۔ ہمارے گاؤں کے آس پاس چار ایسے آستانے بن گئے ہیں جن کی کوئی ہسٹری نہیں ہے ۔ چاروں کے منصہ شہود پر آنے کا سبب بد عملوں کے خواب ہیں جنہیں کلمہ اور نماز تک نہیں آتی ۔ ایک کی تو سجادہ نشین اور خواب بیان کرنے والی ایک مائی ہے جیسے پہلے کلمہ بھی نہیں آتا تھا اور اب وہ پیرنی بن کر میری امی حضور کے پاس آ کر کلمے اور نماز یاد کرتی ہے ۔ اس کے جسم کے کسی حصہ میں درد کا اٹھنا پیر کی طرف سے کوئی نہ کوئی پیغام بتاتی ہے، جسم کے فلاں حصہ میں درد ہو تو یہ پیغام، فلاں میں درد ہو تو یہ پیغام،پھر وہ جہاں کہیں ہو فوری اپنے سب کام چھوڑ کر دربار پر پہنچتی ہے ۔ خواب میں دیکھائی جگہ پر اس نے دربار بنوا دیا ہے اور میلہ لگتا ہے ۔
اللہ کے ولی کبھی بے نام و نشاں نہیں ہوتے اور نہ ہی بے نام دنےا سے رخصت ہوئے کہ اکیسویں صدی میں انہیں اپنی پہچان کرانے کے لئے خوابوں کا سہارا لینا پڑ جائے ۔ ہم بھول گئے ہیں کہ اس بارے ہمارے رسول حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کیا تھیں ؟ اور آپ ﷺ کا یہ حدیث بیان فرمانے کا مقصد کیا تھا؟یہ آپ ﷺ نے کیوں فرمایا کہ

’’ خبردار! اگر شیطان کوئی ( اولیاء و صوفیاء ) کا روپ دھارکر تمہارے خوابوں میں کسی ایسی بات کا تذکرہ اور مطالبہ کرے جس کا وجود تمہارے دین میں نہ ملتا ہو، جو دین سے موافقت و مطابقت نہ رکھتا ہواس پر چلنے سے،اس پر عمل سے پرہیز کرنا ۔ خبردار رہنا کہ شیطان سوائے میری صورت کے ہرطرح کی صورت اختیار کر سکتا ہے ۔ ‘‘ ( بخاری و مسلم شریف، حدیث متفق علیہ)

مطلب یہ کہ شیطان سوائے حضور نبی کریم ﷺ کی شکل و صورت کے سبھی پیر، پیغمبروں کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور ایسے کام کروا سکتا ہے جو دین میں رہ کر، دین کے نام پر دین سے دوری کا سبب بنیں ۔ کیا آج یہ منظر ہمارے چار سو دیکھنے کو نہیں مل رہا؟ آج دین کے نام پر، دینی عقیدت کے ہوتے ہوئے ایسا کچھ ہو رہاجس کا خالص دین میں تصور تک نہیں کیا سکتا ہے ۔ سب رونا دھونا آ جا کے پھر علماء پہ ہی آجاتا ہے کہ انہوں نے سماج کو ایسے واقعات ہونے اور شیطان کی اولیاء کی شکل اختیار کرکے دین کے نام پر استعمال کرنے سے باخبر کیوں نہیں رکھا؟ایسے خیالی اور فرضی آستانوں سے دین کا دفاع کیوں نہیں کیا جو آج خرافات اور شیطانیت کا گڑھ بن چکے ہیں ؟ چھتن شاہ، لچھن شاہ، ابن شاہ، ککڑ شاہ (جہاں جب تک دیسی ککڑ لے کر نہ جایا پیر صاحب حاضری قبول نہیں کرتا)، کاواں والی سرکار،مندراں والی سرکار، ٹالی والی سرکار، ٹلیاں والی سرکار، کانگنا والی سرکار، چھٹانکی پیر، گھوڑے شاہ، کوڑے شاہ،پیر دلہن شاہ ( جو خود کو رب کی دلہن کہتا ہے ) پتہ نہیں کیسے کیسے اخلاق سے گرے گھٹیا و بیہودہ نام ۔ بلکہ یہاں تک آستانوں کے نام ’’ بابا کاکی تاڑ‘‘ کاکی یعنی لڑکی، لڑکیاں تاڑنے والا بابا،’’ کڑی تاڑ شاہ‘‘ بھی سننے کو ملے ہیں ۔

نگہباں بن کے جو اہل چمن کی آبرو لوٹے
چمن والوں عقیدت چھوڑ دو اےسے نگہبا ں کی

ہمارے سماج میں ہر طرف ایسے درباروں کی بہتات ہے جن کی کوئی ہسٹری نہیں ہے، جن کی کوئی دینی خدمات نہیں ہیں ، البتہ اب وہاں لادینی خدمات اپنے پورے جوبن پر ہیں ۔ فیصل آباد آتے جاتے ہوئے ڈجکوٹ کے آس پاس دیکھتے ہیں کہ وہاں روز گم نام پیروں کے دربار ابھرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ میرے خیال میں وہاں بلند گنبد کا مقابلہ لگا ہے کہ سب سے اونچا گنبد کس کا بنتا ہے ۔ پانچ پانچ، چھے چھے منزل اوپر جا کر اوپر جا کر ان کے گنبد بن رہے ہیں ۔ کوئی دینی خدمات نہیں سنی اور قبر پر گنبد کئی منزل اوپر جارہے ۔ یہ جتنی منزل اوپر جا رہے اتنے بے گھروں کو گھر نہیں دیا جا سکتا ۔

میں سمجھتا ہوں معاشرہ سے خرافات اور منکرات کو ختم کرنے کےلئے سرکاری سطح پر علماء کا ایک بورڈ تشکیل پانا چاہیے جو ایسے تمام مزارات کی ہسٹری اکٹھی کرے،ان کی دینی خدمات معلوم کرے، ان کے حقوق اللہ، حقوق العباد، دیگر فرا ئض و واجبات کا سراغ لگائے کہ کس حد تھے ، تقویٰ، طہارت و پاکیزگی، ایمانداری و پارسائی دیکھے کہ کس حد تک تھی ۔ ایک لیول متعین کیا جائے کہ ایک پیر کس لیول پر جا کر دربار و مزار و مقبرہ کا اہل ہے ۔ جو اس لیول اور حد تک نہیں پہنچتا وہ سبھی مسمار کر دئیے جانے چاہیں ۔ اور آج کل کے پر فتن دور میں ایسے بورڈ کا تشکیل پانا انتہائی ضروری ہے ورنہ کوئی خطہ ز میں ایسا نہیں رہے گاجہاں کوئی جعلی اور فرضی مزار نہ بنیں ، وہاں میلے نہ لگیں اور خرافات نہ ہوں ۔ مزید دین سے دوری اور بے راہ روی سے بچنے کےلئے یہ انتہائی ضروری ہے ۔
ولائت، مزار و مقبرہ کا معیار یہ ہونا چاہیے، دیکھا جائے کہ کیا کوئی سر تاج اولیاء حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ جیسا ہے؟ کیا کوئی سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ جیسا ہے؟ کیا کوئی قطب اولیاء حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ جیسا ، حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ جیسا،حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ جیسا ہے؟ کیا کوئی حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے رتبہ کو پہنچتا ہے؟کیا کوئی حضور غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرتبہ کمال تک پہنچتا ہے؟ میں نے آستانوں کی ہسٹری میں پڑھا کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کا آستانہ ایسا آستانہ تھا جو برصغیر میں فروغ دین، علم و حکمت بانٹنے کا مرکز تھا ۔ حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ بھی یہاں سے فیض پاتے رہے ہیں ، پورے برصغیر سے اولیاء و صالحین،دہلی سے حضرت قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ و دیگر بھی یہاں سے فیض لینے آیا کرتے تھے ۔ یہاں سے قافلے دین کی دعوت لے کر برصغیر کے طول و عرض میں جایا کرتے ہیں ۔ ان کی باقاعدہ علمی و عملی تربیت کا خاص اہتمام تھاحتیٰ کہ انہیں حربی و عسکری تربیت بھی دی جاتی تھی کہ اگر راستے میں تمہارے قافلے پر کوئی گروہ حملہ آوار ہوتا ہے تو ان سے لڑنا کس طرح ہے؟ اپنا دفاع کس طرح کرنا ہے؟ آج کرہ ارضی پر کوئی ایسا آستانہ ہے جو ایسی کوئی مثال پیش کرے؟

آج آستانوں سے فروغ دین کے قافلے روانہ کرنا تو دور کی بات رہی ، اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کی اصلاح کےلئے قافلے کوئی نہیں بھیج رہا ۔ ہاں لنگر سمیٹنے اور نذرانے اکٹھے کرنے کی کمیٹیاں ضرور ترتیب دی گئی ہیں جو ماہوار، ششماہی اور سالانہ کی بنیاد پر پیرانے اکٹھے کرنے جاتے ہیں ۔ ہر طرف صرف کھانے کا چکر ہے ۔ مال اکٹھے کر لو، نذرانے سمیٹ لو، مریدین و متوسلین کی تعداد بڑھا لواور فخر کرتے پھیرو کہ میرے اتنے مریدین ہیں ، میرے اتنے چاہنے والے ہیں ، میرے اتنے عقیدت مند ہیں ۔ اور پھر سیاسی میدان میں ان کی بولیاں لگا دو،جو سیاستدان زیادہ فوائددیں ان کے ساتھ ہو کر مریدین کے ووٹ مانگنے چل پڑو یا خود سیاسی بن کر ان کا فائدہ اٹھا لو ۔ آج کل آستانوں اور گدیوں کا استعمال دین کے لئے نہیں صرف مالی و سیاسی مفادات سمیٹنے کےلئے ہو رہا ہے ۔

عارف کا ٹھکانہ نہیں وہ خطہ کہ جس میں
پیدا کُلّہِ فقر سے ہو طُرّہ ء دستار
باقی کُلّہِ فقر سے تھا ولولہ ء حق
طُرّوں نے چڑھایا نشہ ء خدمت ِ سرکار

حکیم الامت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جب علماء ، پیرو مشائخ نے کُلّہِ فقر کو چھوڑ کر لمبے لمبے طُرّے اور دستار باندھنا شروع کیے اس وقت سے فقر نابود ہو کر رہ گیا ۔ فقر دوسروں کی خدمت کا درس دیتی تھی اور طُرّہ ء دستاروالوں نے مخدوم بن کر اپنی خدمت کادرس دینا شروع کر دیا ۔ فقر میں خوف خدا تھا اور طُرّہ ء دستار والوں نے خود خدا بن کر لوگوں پر اپنا خوف طاری کر دیا کہ اگر پیر ناراض ہو گیا، پیر کی خدمت نہ ہوئی تو پتہ نہیں کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔ کُلّہِ فقر نے ولولہ ء حق زندہ رکھا ، حق کا بول بالا کیا،اور طُرّہ ء دستار والوں نے اپنی انا کا ۔ اصل میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ جو دین کی چار کتابیں پڑھ جاتا ہے وہ بجائے خادم بن کر دین اور سماج کی خدمت کرنے کے خود مخدوم بن کے بیٹھ جاتا ہے اور اپنے نام کے ساتھ کیا کیا القاب سجا لیتا ہے ۔ حضرت علامہ مولانا قاری سے کم تو ایک ٹکے کا مولوی نہیں رکتا جو دین کو بہت معمولی سا جانتا ہے ۔ جس نے اپنے نام کے ساتھ ایسے اعلیٰ القاب لگا کر مخدوم ، معزز اور محترم بن جانا ہے اس نے خدمت خاک کرنی ہے ۔ ایسے القابات سے فخرکا پہلو نکلتا فقر کا نہیں ۔ جو اپنے نام کے ساتھ ایسے القاب لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے وہ فقر سے بہت دور ہے اور بندے میں جب تک فقر نہ آئے اس میں کبھی ولولہ حق زندہ نہیں ہو سکتا ۔

آج کل خانقاہوں اور آستانوں پر ایک اورگمراہ کن دھندہ کی روایت چل پڑی ہے اور وہ دم درود، تعویذ دھاگہ ، کالے اور نوری علم سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کا ۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج چند نام نہاد پیر اور صوفی گھرانوں نے بھی الٹے سیدھے، نفع و نقصان والے تعویذ لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ۔ ہر طرح کے کام کرنے والے دیوتا ان کی دوکانوں سے ملتے ہیں ۔ حفاظت کرنے والے، ستار ہ بلند رکھنے والے، ہرمیدان میں کامیابی عطا کرنے والے دیوتا گلے ڈال کر رکھنے کو ملتے ہیں کہ یہ آپ کی ہر بلا سے حفاظت کرتے ہیں ۔ خاص طور پر دےہی علاقوں میں یہ کام بہت عروج پر ہے ۔ کم فہم ملاں حضرات اور کم آمدن پیر و صوفی گھرانوں کا ذریعہ معاش بھی اسی عمل سے وابستہ ہے ۔ بعض پیر اور صوفی تو دم درود ، تعویذ دھندہ کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتے ہیں کہ فلاں کا دم بہت چلتا ہے، فلاں کا تعویذ بہت اثر دکھاتا ہے ۔ لوگ بڑی دور داراز سے ان کے پاس دم درود اور تعویذ دھاگہ کے لئے آتے ہیں ۔ یہ آج کل کے پیروں اور صوفیوں کا ایک پیشہ و کاروبار بن گیاہے ۔ آج کل آستانوں پہ لوگ صرف مریض بن کر شفایاب ہونے ، مرادیں اور حاجتیں پوری کروانے کےلئے آتے ہیں ، دین سیکھنے کے طلبگار بن کر نہیں ۔

یہ طبقہ اپنے باطل عمل کو حق ثابت کرنے کے لئے دلیل دیتے ہیں کہ یہ عمل حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے ۔ آپ ﷺ نے دم فرمایا اور لوگ شفایاب ہوئے ۔ بیشک ہوئے اوراس کے چند ایک واقعات ہیں ، آپ ﷺ نے اس عمل کو شب و روز کا معمول نہیں بنایا ۔ آپ ﷺ سے مستقل یہ روایت نہیں چلی کہ آپ ﷺ صبح شام دم ہی کرتے رہے ہوں ۔ کوئی ایک روایت ثابت کریں کہ دور داراز سے کوئی صحابی آپ ﷺ کے پاس صرف دم کروانے ، مراد یا حاجت پوری کروانے کی غرض سے آیا ہو اور کروا کے واپس چلا گیا ہو ۔ یا آپ ﷺ نے کسی کو کوئی رکھ، تعویذ دھاگہ بنا کے دیا ہو کہ اسے گلے ڈال لو تمہاری حفاظت کرے گا ۔ کوئی ایک بھی ایسی روایت نہیں ملے گی ۔ لیکن اس کے برعکس ایسی کئی روایات ہیں جس میں آپ ﷺ نے تعویذ دھاگہ گلے ، کلائی یا بازو وغیرہ باندھنا سخت ناپسند اور منع فرمایا ہے ۔ مگر آج یہ سب کچھ شاہوں کے آستانوں اور دین کے رہبروں سے ہو کر رہاہے ۔

کامل اولیاء عظام، خدا کے نیک اور صالح بندوں کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا ۔ کسی بزرگ ہستی نے مستقل یہ پیشہ اختیار نہیں کیا ۔ اسے اپنا کاروبار اور حصول آمدن کا ذریعہ نہیں بنایا ۔ کامل بزرگان ِ دین دم درود اور تعویذ دھاگے میں مشہور نہیں تھے بلکہ وہ دین سیکھنے اور سیکھانے میں مشہور تھے ۔ وہ جس طرف نگاہ اٹھاتے تھے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں کافر لوگ کلمہ پڑھنے لگتے تھے اور حق حق کی صدائیں بلند کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ دور داراز علاقوں سے حضور سید عالم ﷺ کے پاس صرف دین سیکھنے کی غرض سے آیا کرتے تھے اور آپ ﷺ عملی طور پر ان کی دینی تربیت فر ماتے تھے ۔ ہمارے اسلاف خود باعمل ہو کر لوگوں سے عمل کروانے میں ماہر تھے ۔ وہ لوگوں کو تقویٰ و پرہیزگاری کا درس دیتے تھے بے عملی کا نہیں ۔ آج ہر طرف بے عملی کا درس ہے جسے سن سن کر ہمارا مجموعی معاشرہ عمل گریز ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

وہ آستانے جو روحانی و قلبی سکون کا ذریعہ تھے، دور جدید کے سجادہ نشینوں نے ان آستانوں کو سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ روحانی آستانوں سے علمی اور فکری و تخلیقی کام ختم ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے امت گمراہی و ضلالت کے دلدل پھنس چکی ہے، امت کو نفرتوں اور عداوتوں کے سیلاب نے گھیر رکھا ہے ۔ آج کل کے پیر خانقاہوں اور آستانوں کو صرف ذاتی، مالی و سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ آستانوں کو استعمال کرکے سیاست میں بڑے عہدے اور مالی مفادات تو حاصل کئے جاسکتے ہیں ، لیکن سکون قلب حاصل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دین کا پرچار ممکن ہے ۔ فقیروں کو شاہوں سے کیا کام؟پیروں کو مال اورمنصب سے کیا غرض؟ ہمارے بزرگ اولیاء تو مال و اسباب بانٹنے والے تھے ، سمیٹنے اور اکٹھا کرنے والے نہیں تھے ۔ وہ تو ایک وقت کی کھا کر اگلے وقت کے لئے خدا پر بھروسہ رکھتے تھے ۔ ان کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ

تخت سکندری پر وہ تھوکتے نہیں ہیں
بستر لگا ہوا ہے جن کا تیری گلی میں

قیامت کے دن خدا کے ہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس کے ساتھ کتنے ہیں ۔ وہاں صرف عمل دیکھا جائے گا کہ کس کے کتنے اعمال ہیں ؟ کس کی کتنی دینی خدمات ہیں ؟کس نے کتنی دین کی فکر اور جدوجہد کی ہے؟ اسے تو باہتر (72) بھی قبول ہیں مگر ہوں حق پے ڈٹے ہوئے ۔ ہمارے تو وہ اسلاف ہیں جن کے لاشے بھی کلمہ دیتے تھے، جن کے جنازے دیکھ کر بد دین لوگ بھی کلمہ پڑھ لیا کرتے تھے اور آج؟ آج تو پیروں سے اپنے کلمہ گو مرید نہیں سدھر پا رہے، یہ غیروں کو کلمہ خاک دیں گے ۔ آج ہمارے زندہ لاشے لوگوں کے ایمان کے راستے میں رکاوٹ ہیں ۔ عطائے رسول ، معین الاسلام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی تو اک نظر نے نوے لاکھ ہندؤں کو کلمہ پڑھا دیاتھا، ان کے جلال نے تو مندر کے بے جان پتھر کے بتوں کو خدمت پر معمور کر دیا تھا ۔ حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں اتنی قوت تھی کہ جس طرف اٹھتی تھی ان کی تقدیر بدل کے رکھ دےتی تھی ۔ آندھیوں اور سمندری طوفانوں کے رخ موڑ دیا کرتی تھی ۔ ان کی تجلیات کا یہ عالم تھا کہ پورا ہندؤستان لرز جاتا تھا ۔ آج گلی گلی ، نگر نگر ایک سے بڑھ کر دوسرے خواجہ خواجگان، غوث، قطب، ابدال بےٹھے ہیں مگر ان سے غیر مسلم، ہندؤ اور سکھ تو کیا اپنے عقیدت مند نہیں سدھر پا رہے اور خطابات و القابات اپنے ناموں کے ساتھ حضور خواجہ اجمیر اور غوث الوراء حضور غوث اعظم سے بھی بڑے بڑے القابات لگا رکھے ہیں ۔ آج ہمارا المیہ ہے کہ ہمارا کردار وہ چمک نہیں رکھتا تو گفتار کے اندر روشنی کہاں سے آئے ۔ ایک مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ تھا اس نے پورے ہندوستان کی کایا پلٹ کے رکھ دی، آج ہر جماعت، تنظیم، گروہ کا قائد مجدد ہے مگر قوم کی کایا نہیں پلٹ رہی، قوم تبدیل نہیں ہو رہی، قوم میں شعور اور جذبہ بیدار نہیں ہو رہا ۔ ایک غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے پورے زمانے کو روشنی دی اور دنیا کی تقدیر بدل کے رکھ دی ۔ آپ کی نظر کا یہ عالم تھا کہ بیک وقت پوری کائنات کو اےسے دےکھ رہے تھے جےسے ہاتھ کی ہتھیلی پہ سرسوں کا دانہ ہو ۔ کرہ ارض کا کوئی کونہ ان کی نظر کے دائرہ سے اوجھل نہ تھا ۔ آج گلی گلی، نگر نگر ہرآستانے کا گدی نشین وقت کا غوث ہیں مگر قوم کی تقدیر کیوں نہیں بدل رہی، اس کا مرید اس کی آنکھوں سے اوجھل ہے؟ آج تک سنتے آئے ہیں کہ دنیا میں صرف اڈھائی قلندر ہوئے مگر آج تو گلی گلی قلندر بیٹھے ہیں مگر قوم نہیں سدھر پا رہی ۔

صوفی کی طریقت میں فقط مستیَ احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستیَ گفتار!

آج صوفی کی شریعت صرف احوال کی مستی ہے اور ملاں کی شریعت صرف گفتار کی مستی رہ گئی ہے ۔ آج وہ دور آ پہنچا کہ عظیم آستانوں کے حاضر مکین، سجادہ نشین دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ وہ اپنے بزرگوں کی سی طریقت،واضح قطع، ظاہری شکل و صورت تک بھی کھو بیٹھے ہیں ۔ آج ان کا واضح قطع، شکل و صورت اہل مغرب سے ملتی دیکھائی دیتی ہے، مغربی تقلید نے ایسے آستانوں کو بھی گھیر لیا ہے تو باقی سماج کی بات کیا کرنا ۔ ایک نہیں آج تقریباً سب آستانوں کا ےہی حال ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی پیروی چھوڑ چکے ہوئے ہیں اور اس کی جگہ مغربی تقلیدنے لے لی ہے اور اغیار کے کلچر کو فروغ دیا جا رہے ہے ۔ جب آج کا پیر مغرب کا مقلد ہے توپھر عقیدت مند تو اس سے چار ہاتھ آگے ہو ں گے ۔ آج کثیر آستانوں کے وارثین کے چہروں پر ایک ظاہری سنت رسول ﷺ اور اپنے اسلاف کی پہچان دیکھنے کو نہیں ملتی تو خفیہ و باطنی سنت، سیرت و اطوار کا کیا عالم ہوگا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں