30

اللہ لوک اور اللہ والے کون؟

آج معاشرہ پاگل، ذہنی طور پر مفلوج،مجنوں ، مست ملنگ، بھگنی، نشی و چرسی، پھٹے پرانے کپڑے ، بکھیرے بال، ننگے تن گھومنے والوں کو مجذوب اور اللہ لوک ، اللہ والے کہتا ہے ۔ جنہیں اپنا ہوش نہیں ، جو اپنی پہچان، اپنی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا کیا وہ اللہ کو پہچانتا ہے؟جو بے ہوش ہو، بے عقل ہو، کم فہم ہو، جسے نہ آگے کا پتہ ہو نہ پیچھے کا، لوگ اسے اللہ لوک کہہ کے اس کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کر دیتے ہیں ، ان کا تعلق اللہ رب العالمین سے جوڑ دیتے ہیں ۔ آخر کس بنا ء پر ایسے لوگوں کا تعلق اللہ کریم سے جوڑا جاتا ہے؟کیا معاذ اللہ ! اللہ ان جیسا ہے ؟یا یہ اللہ سے کوئی تعلق نسبتی رکھتے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ اللہ لوک ہیں ، اللہ والے ہیں تو عقل مند، دانا اور باشعور کس کے ہیں ؟کیا معاشرہ بتا سکتا ہے؟

لمبے لمبے بال رکھنا، انگلیوں میں بے تہاشا انگوٹھیاں پہننا ، کلائیوں میں کڑے ڈالنا، جنگلوں میں نکل کر ننگے بدن اللہ اللہ کرنا اور نماز و طہارت سے روگردانی کرنا، روزہ سے عاری کہ اس سے ان کے چرس و بھگن کا نشہ ٹوٹتا ہے ۔ شراب، جواء ، ہیروین و چرس کے کش لگانا، بھگن کے پیالے بھر بھر پینا یہ ولائت کی نشانیاں نہیں ہیں ؟یہ حقیقی دین فطرت کا مذاق ہے اور شریعت و طرےقت کو پامال کرنے والے گھٹیا کردار ہیں ۔ ان کا نعرہ ہے یا علی ہم تیرے ہیں عمل کےلئے اور بتھیرے ہیں ۔ شراب، بھگن، چرچ، ہیروئن پےنا ان کا شب و روز کا مشغلہ اور نعرہ ہم علی کے ملنگ ۔ جانے یا علی ۔ علی دے متوالے پی کے بھگن دے پیالے کہندے حشر نوں ہے بخشانا یا علی ۔ کیا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایسے ملنگوں کو گلے سے لگائیں گے ؟یہ ان کی بھول ہے ، ایک مہمل فریب اور زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ ۔

میں سمجھتا ہوں ایسے لوگوں کو اللہ لوک کہنا اللہ رب العزت کی توہین ہے ۔ معاشرہ اپنے اطوار بدلے اور کسی بے سدھ کی نسبت اللہ سے نہ جوڑے ۔ معاشرہ ایسے صفت لوگوں کو کم فہم ، کم عقل جاہل کہہ سکتا ہے اللہ لوک نہیں ۔ معاشرہ کو شعور ہی نہیں اللہ لوک کیا ہوتا ہے اور اللہ والے کی پہچان کیا ہے؟اللہ لوک وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ سے ملا دیں ، بھٹکے ہوئے انسان کا ناطہ اللہ سے ایسا جوڑ دیں جو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہو ۔ آج کے معاشرہ کی آنکھ نے اللہ لوک دیکھے ہی نہیں ۔ بلکہ صدیاں بیت گئیں کوئی حقیقی اللہ والا نہیں آیا دنیا میں ، نام نہاد دعویدار تو بہت ہیں ۔ شائد کہ اب اللہ والے بھی روٹھ گئے ہیں ہمارے مجموعی کردار و افعال، ہمارے اطوار و گفتار دیکھ کر ۔

صدیوں پہلے ایک اللہ لوک نے قدم رکھا تھا برصغیر کی دھرتی پے، جو روٹی میسر نہ آنے پر سوکھی گھاس کھاتا تھا اور دریا کا پانی پی کے گذر بسر کرتا تھا مگر اس اللہ لوک نے ایک وقت کی روٹی کےلئے بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ پھر زمانے کی آنکھ نے دیکھا کہ اس ایک اللہ لوک نے پورے برصغیر کی تاریخ بدل کے رکھ دی تھی ۔ آج برصغیر ہدایت و اےمان کے نور سے روشن ہے تو اسی ایک کے دم سے کیونکہ اس خطہ عرضی میں نورِ ہدایت کا بیج بونے والا وہ پہلا شخص تھا ۔ آج دنیا جسے حضور سیدی حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نام سے جانتی ہے ۔

گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما

ان کے بعد اگر تاریخ انسانی نے کوئی اللہ والا دیکھا تو وہ حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ تھے، حضور خواجہ سلطان الہند، معین الاسلام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ تھے، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ تھے، شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ تھے، حضرت خواجہ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ تھے، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔ حضور سیدی و مرشدی و مولا ئی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ تھے، حضرت بہاول الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔ امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ تھے جن کی نظروں میں فیض تھا ، وہ جس طرف اٹھ جاتی تھیں ان کی تقدیر بدل کے رکھ دیتیں تھیں ۔ یہ سب حقیقی اللہ والے تھے جن پرخود خدا کو بھی ناز ہے ۔ یہ وقت کے غوث اور مجد د تھے ۔ آج کوئی ایسا اللہ والاہے جو ان بزرگوں کی یادیں تازہ کرے؟

قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو، رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

وہ لوگ جو”قم باذن اللہ ” یعنی ” خدا کے حکم سے اٹھو “کہہ کر مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ۔ اب خانقاہوں میں یا تو مجاور رہ گئے ہیں یا پھر قبر کھودنے والے گورکن ۔ یعنی خانقاہیں جو کبھی ان درویشوں کا ٹھکانہ ہوا کرتی تھیں جن کے دل عشقِ حقیقی سے معمور ہوتے تھے اور قدرت نے ان کے اندر ناممکنات کو ممکن بنانے کی صلاحیت ودیعت کر دی تھی اب ان ہستیوں سے محروم ہو چکی ہیں ۔ اب ان میں مفادات کے غلام رہ گئے ہیں جو پیسے کیلئے ہر جائز و ناجائز کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اب خانقاہوں میں صرف پھونکیں مار کر پیسے بٹورنے والے، الٹے سیدھے تعویذ لکھنے والے، نوری اور کالے علم سے مشکلات کا حل نکالنے والے رہ گئے ہیں علم حقیقی سے دنیا منور کرنے والے نہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں