36

علامہ اقبال جنہیں اب تک سمجھا نہ جا سکا

رضی الدین سید

شاعر مشرق علامہ اقبال اردو اور فارسی کے وہ واحد شاعر ہیں جن کی غزلوں اور نظموں میں عورت اور محبوب کا کہیں ذکرہی نہیں ملتا۔یہ ان کی انفرادیت ہے۔ مگر پھر بھی ان کی شاعری اعلی ترین ہی گنی جاتی ہے۔ وہ عمل کے، امید کے، دین و مذہب کے، مشرقی قدروں کے، سربلندی و سرفرازی کے، اور علم و کتب کے شاعر تھے۔ انہوں نے مغرب میں بڑا عرصہ گزارا مگر اس کی تہذیب ، تمدن ،اور مذہب سے بہت ہی دور رہے ۔ بلکہ زندگی بھر کراہیت ہی رکھتے رہے۔ اس معاشرے کو ، جسے دیکھ کر تمام مسلمانوں کی رال ٹپکنے لگتی تھی، اسے سدا ایک سڑا ہوا ناسور ہی سمجھتے رہے۔ افسوس کرتے تھے کہ یورپی قوم خود اپنی تباہی کو بھی محسوس نہیں کرسکتی ۔ کہتے تھے کہ
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ بنے گا آشیانہ، ناپائیدار ہوگا
اپنے ہر شعر میں انہوں نے یا تو یورپ کی زندگی پر بار بار حملے کیے ہیں، یا مسلم نوجوانوں کو اپنی تہذیب کے ساتھ شاہین کی مانند بلند پروازی سکھائ ہے۔ انہیں خوداداری و قناعت کادرس دیا ہے، یا مسلم عظمت ِرفتہ کی یاد میں انسو بہائے ہیں۔ان کی نظموں میں شدت جذبات اس قدر زیادہ ہیں کہ لگتا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ پکڑ کر ابھی وہ کسی میدان میں لے جائیں گے اور آسمان پر اڑتے ہوئے شاہینوں کو دکھا کر ان سے کہیں گے کہ دیکھو تمہاری منزل صرف آسمانوں ہی پر ہے۔’’نظر نظرآتی ہے تمہاری منزل آسمانوں میں!‘‘
کہتے تھے کہ
اگرچہ تھی زمستانی ہوا میں شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے لندن میں بھی مجھ سے آداب سحر خیزی
(زمستانی = برف جیسی سرد)
کہتے تھے کہ ’’قسم ہے اس خدائے ذوالجلا ل کی جس کے قبضے میں میری جان اور آبرو ہے، اور قسم ہے اس بزرگ و برتر کی جس کی وجہ سے مجھے خدا پر ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں، دنیا کی کوئی طاقت مجھے حق کہنے سے بازنہیں رکھ سکتی ‘‘(اقبالیات کے چند خوشے۔ڈاکٹر انعام الحق کوثر۔ ص ۹۳۔ سیرت اکادمی بلوچستان۔۱۹۹۶)۔اوریہ کہ ’’یہ ،قرآن ، کسی قیمتی اورخوبصورت غلاف میں لپیٹ کر رکھنے اور عطر میں بساکر رکھنے والی کتاب نہیں۔بلکہ یہ تو ہر انسان کے ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے۔ چونکہ مجھے اکثر اس کے حوالے کی ضرورت پیش آتی ہے، ا س لئے یہاں ،میز ،پر رکھی ہے ‘‘(اوراق ِ گم گشتہ۔ رحیم بخش شاہین۔ ص۱۳۶۔ اسلامک پبلی کیشنز لاہور۔۱۹۷۵)۔ایک بار انہوں نے واضح طورپر بتایاکہ’’میاں ایم اسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کریں اور کہیں کہ میں عورتوں کا محفلوں میں مل جل کر بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔یہ ہمارے لئے مفید نہیں ہے‘‘(ایضاََ۔ص۱۳۷) ۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’میرا منصب نہیں ہے کہ مذہبی اعتبار سے گفتگو کروں۔ مگر اس قدر کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ حالات ِ زندگی میں ایک عظیم الشان انقلاب آجانے کی وجہ سے بعض ایسی تمدنی ضروریات پیداہوگئی ہیں، جن کے مجموعےکو عام طورپر شریعت ِ اسلامی کہا جاتا ہے، ایک نظرِ ثانی کا محتاج ہے ‘‘ (عروجِ اقبال۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی۔،ص۱۸۳۔۱۹۸۷)
جاوید نامہ میں علامہ نے مسلم نوجوانوں کو سمجھایا تھا کہ ترقی عریانی وفحاشی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے کچھ اور ہی جذبے درکار ہوتے ہیں۔انہوں نے زوردیا کہ مغرب کی قوت بھی، نہ توچنگ و رباب سے آئی ہے،اورنہ بے پردہ لڑکیوں کے رقص کی وجہ سے آئی ہے۔سمجھاتے ہوئے وہ کہتےہیں کہ
نے ز سحرِ ساحرانِ لالہ روست ۔!
نے ز عریاں ساق ونے از قطعِ موست
یعنی ان کی یہ ترقی سرخ چہرہ محبوبوں کے جادو کی وجہ سے بھی نہیں ہے اور نہ ان کی عورتوں کی ننگی پنڈلیوں اور بال کٹانے سے ہے۔جدید معاشرے پر اسی سخت تنقید کی وجہ سے انہوں نے کہا تھا۔
اپنے بھی خفا ہیں مجھ سے ، بیگانے بھی ناخو ش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند۔!
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہ ءگستاخ کا منہ بند
لندن اور امریکا، جہاں سے مسلمان ایک عدد میم لانا ضروری سمجھتے تھے، اقبال وہاں سے بالکل اکیلے اور خشک ہی لوٹ کر آئے۔ کہتے تھے کہ مجھے لندن کے ماہ پاروں میں بھی وہ حسن نظر نہیں آیا جو مشرقی عورتوں میں پایا جاتا ہے۔
میں نےاے اقبال یورپ میں اسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیمائوں میں تھی
مغرب کے مقابلے میں انہیں اپنا مفلوک الحال ہندوستان بہت پسند تھا ۔ انہوں نے کہا تھا (بحوالہ’ روزگارِ فقیر‘۔ جلد دوم) ،کہ
میں ا س دربارکے، پچھم کے ساکنو، صدقے
جہاں کے کوچوں میں غیرت ہے،تنگ دستی ہے
عورتوں کی عفت و حرمت جو جرمنی و انگلستان کے بازاروں میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ملتی تھی اورجو انتہائی سستی قیمت میں ہر ایک کی دسترس میں تھی، اقبال نے ان کی طرف کبھی منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہ ایک آدمی تھا بالکل ہی عجیب!اس کے دل میں مسلمانوں کے لئیے جو درد، تڑپ، اور غم تھا، اس سے ان کا سینہ ہمیشہ ہی سلگتارہتا تھا۔ ایک آگ تھی جو ان کے اندر مسلسل جلتی ہوئی پائی جاتی تھی۔ادھر “ہند کے بت گر و شاعر و افسانہ نویس” تھےجن کے دلوں میں صرف اور صرف عورت و محبوب کی محبت اور غم بسے رہتے تھے۔ اسی لئے اقبال کہتے تھے ۔
دیکھا ہے جو میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرمادے، جو روح کو تڑپا دے
کہا اقبال نے کہ
خوداقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
یہی وہ غم ، دکھ، اور صدمہ تھا جس نے اقبال میں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہب اور تمدن کی حفاظت کی خاطر ایک علیحدہ خطے کا تصور پیدا کیا تھا، اور جسے قائد اعظم محمد علی جناح خوبصورتی کے ساتھ لے کر چلتے رہے تھے، اورجو بالآخر حصول پاکستان کی منزل پر جاکر ہی اختتام پزیر ہواتھا ۔
یاد رہنا چاہئے کہ ’’اقبال اورتحریک پاکستان کا مشن ایک ہی تھا ۔ نظریہء پاکستان!۔ اور یہ نظریہ مرکب تھا تین نظریات کا۔۱۔ دوقومی نظریہ،۲۔نظریہء جمہوریت، اور۳۔ نظریہء اسلام ‘‘۔ وہ دوٹوک انداز میں کہتے تھے کہ’’‘اسلام تمام عالم کے لیئے آخری پناہ گاہ ثابت ہوگا۔ اور جس قدر جلدی مغرب کے مہذب ممالک اس حقیقت کو تسلیم کرلیں، اتنا ہی ان کے اور مشرق کے حق میں بہتر ہوگا ‘‘۔ (سفرنامہ ءاقبال۔ محمدحمزہ فاروقی۔ ص ۲۴۲۔مکتبہء اسلوب۔ کراچی۔۱۹۸۹)۔ اقبال مجاوری تصوف کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ وہ صرف قرآنی تصوف کے داعی تھے۔
اقبال ایک ایسے شاعر تھے جو ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘
کاش کہ اس قوم نے انہیں صحیح طرح سے سمجھا ہوتا!
تاہم اقبال کو اگرکچھ حیات اور مل جاتی اور وہ پاکستان آجاتے تو یہاں آکر ہمارے سیاست دان ان کا بھی وہی حشر کرتے جو وہ ہر محب وطن کا اب تک کرتے چلے آئے ہیں۔ وہی مصور پاکستان جن کے خیالات پر پاکستان کی عمارت کھڑی کی گئی، غدار ِوطن اور ملک دشمن ٹھہرتا جیسا کہ ایک آمر نے مادر ملت محتمہ فاطمہ جناح کو کہا تھا۔اور اس کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چٹانوں کی جگہ جیل کی آہنی سلاخیں ہی ہوتیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں