170

عقیدہ شفاعت اور عقیدہ کفارہ میں مماثلت

ہمارے ہاں علماء کے تصوف و مہربانیوں سے لوگوں میں یہ تصورعام پایا جاتا ہے کہ ’’ کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ شافع محشر ہیں ، اللہ تعالیٰ کے بہت محبوب ہیں ، اللہ رب العزت ان کی ہر بات مانتے ہیں ، ان کی رضا رب کی رضا ہے، ان کی امت ہونے کے ناطے ان کی شفاعت ہم پر واجب ہے ۔ ہم چاہے جیسی زندگی بسر کریں ، چاہے ہمارے پلڑے میں جتنے گناہ ہوں گے ، جتنی غلطیاں ، زیادتیاں ، گستاخیاں ، والدین کی نافرمانیاں ہوں گی بلا آخر وہ ہمیں شفاعت رسول ﷺ کے صدقے معاف کر دی جائیں گی اور اس طرح ہم جنت میں چلے جائیں گے، اگر ہم میں سے کوئی دوزخ میں چلابھی گیا تو بہت جلد اس کی بھی شفاعت ہوجائے گی اور اسے دوزخ سے نکال کر جنت میں ڈال دیاجائے گا ۔ لوگوں کے ذہن علماء کی گناہوں کی بخشش، مغفرت، شفاعت و رحمت کی باتیں سن سن کے گمراہی اور بدعملی کی طرف جا رہے ہیں کہ فلاں فلاں اعمال کرنے سے گناہ تو معاف ہو ہی جانے ہیں تو پھر ڈر کیسا ، دنیا خوب انجوائے کرو، خوب لطف اٹھاو، خوب عیاشی کرو.
اے نادانو ! یہود بھی تو یہی کہا کرتے تھے۔

لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُاِلَّا اِیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً o (سورۃ البقرۃ2: 80)

’’اگر ہم آگ میں ڈالے بھی گئے تو آگ ہمیں نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چند روز ۔ ‘‘

اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَاللّٰہِ عَہْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ

عَہْدَہ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ o

’’کیا تم نے اللہ سے جنت کا کوئی عہد یا گارنٹی لے رکھی ہے کہ اللہ ہرگز اس کے خلاف نہیں کرے گا یا تم اللہ کے بارے میں یوں ہی من گھڑت بات کہتے ہو ۔ ‘‘

کیا عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ سے ہمارے عقیدہ شفاعت کی مماثلت جڑتی نظر نہیں آ رہی ۔ جیسے عیسائی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ کر ہمارے سب گناہوں کا کفارہ ادا کر گئے اب ہمیں بخشش کیلئے قیامت تک کوئی نیک عمل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ اور ہمارا عقیدہ شفاعت بھی یہی ہے کہ ہم کوئی نیک عمل کریں نہ کریں ہماری رسول اللہ ﷺ کے صدقے شفاعت ہو جائے گی اور ہم جنت چلے جائیں گے کیونکہ ہم ان کے کلمہ گو ہیں ۔ اگر ہم میں سے کوئی جہنم چلا بھی گیاتو وہ گنتی کے چند روز ہی رہے گا پھر بلآخر اس کی بھی شفاعت ہو جائے گی ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو پوری کائنات کو واشگاف الفاظ میں یہ نوٹس دے دیاہے کہ

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ‘

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہ‘o

’’جس نے ذرا برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اورجس نے ذرا برابر بھی برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔ ‘‘

بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْئتُہ‘ فَاُولٰٓئِکَ

اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ o (البقرۃ 81:2)

’’ہاں کیوں نہیں ، جس نے کوئی خطا ( برائی ، زیادتی یا گناہ) کیے ہوں گے وہ ضرور اس کو گھیر لیں گے اوروہ دوزخ والوں میں سے ہوگا اور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ ‘‘

جہاں تک شفاعت کا تعلق ہے ۔ شفاعت کر نے والا ، شفاعت کر دے گا لیکن اگر شفاعت کرنے والے کی بات اور اس کے اعمال (جس کیلئے شفاعت کی گئی) رحمن کو پسند آئے تومعاف فرمائے گا ورنہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا ۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے پوری انسانیت کو کھلے لفظوں میں یہ نوٹس دے دیا ہے

یَوْمَئذٍلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الَّرحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہ‘ قَوْلًاo یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًاo وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُوْمِ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًاo وَمَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَلَا ھَضْمًاo

’’اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جسے رحمن نے اجازت بخشی اور پھر اس کی بات کو بھی پسند فرمایا ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ اس کے آگے ہے اور جو کچھ اس کے پیچھے ، اور اس کا علم اسے نہیں گھیر سکتا ( یعنی شفاعت کرنے والے کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا ، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سفارش کر نے والا صرف اسی کی سفارش کرتا ہے جس کے بارے میں وہ تھوڑا بہت جانتا ہواور وہ انہی الفاظ میں اس کی سفارش کرے گا جو اسے معلوم تھے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اس (بندے) کے بارے میں سفارش کرنے والے کی نسبت زیادہ علم ہے) اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رہنے والے کے حضور، اور بےشک وہ نامراد رہا جس نے ظلم کیا (گناہوں کا بوجھ اٹھایا)اور جس نے نیک عمل کیے ہوں گے اور وہ ہو بھی سچا مسلمان ، تو اسے نہ کسی قسم کی زیادتی کا خوف ہو گا اورنہ نقصان کا ۔ ‘‘ (طہٰ 109:20)

اس آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آخرت کی بے خوفی و اطمینان صرف اسی کیلئے ہے جو عمل بھی نیک کرے اور ہو بھی سچا مومن مسلمان ، اور سچا مومن مسلمان وہ ہے جو اپنے نفس اور اس کی حیوانیت پر اس طرح قابو پا لے کہ پھر زندگی کے کسی گوشے میں بھی اس کی حیوانی خواہشات اور نفسانی جذبات اس کے نفس پر غالب نہ آ سکیں بلکہ اس کا نفس اس کی ان خواہشات وجذبات کو اس قدر زیر کر لے کہ کوئی بڑے سے بڑا خوف، لالچ، حرص، نفع و نقصان بھی اسے اطاعت الٰہی اور حدود اللہ کی پابندی و احترام سے نہ ہٹا سکے اور وہ دنیا کی سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اپنی جان ومال سب اللہ کی بندگی اور اس کے دین کی سربلندی کیلئے وقف کر دے ۔

ایک اور آیت مبارکہ میں اللہ کریم کا یہی پیغام ملتا ہے ۔

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئکَۃُ صَفَّا لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ

اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًاo ذٰلِکَ

الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآء اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ بًاo اِنَّا

اَنْذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْء مَا قَدَّ مَتْ یَدٰہُ o

’’اس روزجبرائیل اور فرشتے قطاریں باندھے دم بخود کھڑے ہوں گے ۔ کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ رحمن کی اجازت کے بغیر لب تک ہلا سکے مگر جس کو رحمن اجازت دے ۔ ( اگر کسی کو اجازت مل بھی گئی تووہ بالکل مناسب، درست اور واجب بات ہی عرض کر سکے گا ۔ اب خوب کان کھول کر سن لو) یہی وہ سچا دن ہے جو آ کر رہے گا ۔ اب جس کا جی چاہے اپنے رب کے ہاں اچھا ٹھکانہ بنانے کی فکر کر لے( ہم نے حجت پوری کر دی ہے) اور تمہیں اس عذاب سے آگاہ کر دیا ہے جو انتہائی قریب آن پہنچا ہے ۔ اس دن ہر شخص دیکھ لے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ۔ ‘‘ (النَّبَا 38-40 : 78)

اے لوگو!خدا کیلئے اپنا منہ سیدھا کرو اللہ رب العزت اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی اطاعت کاملہ کی طرف ۔ کیا قصداً ، ا راداتاً یا اس نیت سے کیے گناہ معاف ہو جائیں گے کہ حضور شافع ہیں ان کی شفاعت کی صدقے بخش دئیے جائیں گے، اور ان پر کوئی سزا و جزا نہیں ہو گی؟ کیا دین کوئی مذاق، کھیل اور تماشا ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی کر لیا اور پھر توبہ کرلی، پھر کر لیا پھر توبہ کرلی، پھر کر لیا پھر توبہ کرلی ۔ کیا ایسی توبہ قبولیت کا درجہ رکھتی ہے ۔ اللہ کے نزدیک توبہ صرف وہی قابل قبول ہے جو ایک بار غلطی سے، کم ظرفی سے غیر اراداتاً سرزد ہو جائے اور پھر وہ توبہ پوری زندگی کے لیے عبرت بن جائے اور گناہوں ، بدکاریوں اور فحواشات کے قریب تک نہ جانے دے ۔ ایسی توبہ اللہ کو پسند اور محبوب ہے جسے اللہ کریم نے توبۃ النسوع فرمایا ہے ۔

ٍ جہاں تک حضور ﷺ کی شفاعت کا تعلق ہے، میں معاذ اللہ شفاعت کا منکر نہیں ہوں ، آقا کریم ﷺ کی شفاعت برحق ہے، بلکہ شفاعت آپ ﷺ کا مقام ِ محمود ہے ۔ اور آپ ﷺ اپنے مقام ِ محمود کے صدقہ میں ہر اس شخص کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے جس نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ کلمہ طیب پڑھا ہو، اللہ رب العزت کی واحدنیت اور حضور ﷺ کی رسالت کادل سے اقرار کیا ہو،مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری شرط ہے کہ اس نے آپ ﷺ کے متعین کردہ ضابطہ حیات (نظامِ زندگی ) ، سیرت و اخلاق سے کبھی کسی نقطہ کا بھی اعتراض نہ کیا ہو اور نہ غفلت برتی ہو ۔ جنہوں نے آپ ﷺ کے متعین کردہ نظام ِ حیات (قرآن و سنت ) کے کسی ایک نقطہ سے بھی اختلاف کیا ہوگا یا اس پر پوری طرح عمل نہ کیا ہو گا ، آپ ﷺ کی عملی زندگی اور سیرت کو اپنا رول ماڈل نہ بنایاہو گا ان پر آپ ﷺ کی شفاعت واجب نہیں اور نہ ہی آپ ﷺ ان کی شفاعت فرمائیں گے ۔ قابل قبول شفاعت صرف اس بندے کی ہو گی جس نے آپ ﷺ کی سیرت کو اپنا رول ماڈل بنایا اور اپنے تعیں پوری طرح اس کی کوشش اور پابندی کی، اگر کبھی اتفاقاً، غیر اراداتاً، بغیر سوچے سمجھے کوئی غلطی سرزد ہو گی تو اس پر آقا کریم ﷺ شفاعت فرما دیں گے ۔

اور یہ بات بھی یاد رکھئے اور خوب کان کھول کر سن لیجئے کہ شفاعت سے صرف حقوق اللہ معاف ہوں گے حقوق العباد نہیں جو دین کا نوے فیصد ہیں ۔ حقوق اللہ تو صرف دس فیصد ہیں دین میں ، اگر تمہارا اعمال و اخلاقیات سے ہٹ کر محض بخشش اور شفاعت پے ہی بھروسہ ہے تو پھر باقی نوے فیصد کی معافی کہاں سے کرواؤ گے ۔ حقوق العباد معاف کرنے کا اختیار تو خود خدا وند کریم نے بھی اپنے پاس نہیں رکھا ، اس نے واشگاف الفاظ میں نوٹس دے دیا ہے کہ میں حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں کروں گا جب تک متعلقہ بندہ معاف اور اس کے لئے دعائے مغفرت نہیں کر دیتا ۔ لیکن کیا ایسے بندے کی شفاعت ہو جائے گی جو دین کی حدود کو اعلانیہ توڑے اور شفاعت کی امید پر گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی کرنے سے گرہیز نہ کرے اور حقوق العباد کی پرکھیاں بکھیرتا پھرے؟ کلام کرے تو گالی دے، بات کرے تو جھوٹ کا سہارا لے، مذاق میں تکذیب و تمسخر کرے اور دوسرے کی عزت ِنفس مجروع کرے ۔ صاحب ِ حق لوگوں کے حق ( زکوٰۃ و عشر)دبا کر کھا جائے، بلکہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ ہاتھوں میں قرآن لیے ایسے لوگوں پر گواہی دیں گے ، فرمائیں گے کہ اے رب قدوس ! یہ میری امت کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تیری اس کتاب اور میری سیرت کو پس پشت پھینک رکھاتھا یا اس کے کسی نقطہ سے اختلاف کیا تھا یا اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا تھا ۔

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَ ْیہ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ اتَّخَذْتُُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًاo یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا o لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآئ نِیْ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًاo وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًاo وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیِّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ o

’’اور جس دن ہر ظالم گنہگار اپنے ہاتھ چبا چبا کھائے گا اور حسرت و ندامت سے کہے گا، اے کاش ! میں رسول اللہ ﷺ ( جس کی رسالت کا زبانی اقرار بھی کرتا تھا) کی بتائی ہوئی راہ (ضابطہ حیات) پر سیدھا چلا ہوتا ۔ اے کاش ! میں نے فلاں فاسق وفاجر کی دوستی اور رفاقت اختیار نہ کی ہوتی ، اس کم بخت نے تو راہ راست میرے سامنے آنے کے بعد مجھے پھر گمراہی میں ڈال دیا( مجھے میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے بہکا دیا) اور بےشک شیطان تو ہے ہی انسان کو عین وقت پر دغا دینے والا ۔ اور اس وقت رسول اللہ ﷺ (ایسے لوگوں کی شفاعت کرنے کی بجائے قرآن مجید کو ہاتھوں میں اٹھائے ان پر گواہی دیں گے ) عرض کریں گے ’’ اے میرے رب! یہ میری امت کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تیرے اس قرآن کو پس پشت ڈال رکھاتھا ۔ ‘‘ اور اس طرح ہر نبی اپنی امت کے مجرم لوگوں کا دشمن بن جائے گا ۔ ‘‘ (الفرقان 27۔31 : 25)

جب قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ اور اس کے نبی و رسول مجرم و گناہگار لوگوں کے دشمن بن جائیں گے اور ہمارے مولوی کہتے ہیں کہ نہیں جی وہ تو شفاعت فرمائیں گے وہ تو معاف کروا لیں گے ۔ یہ لوگوں کونرم گوشہ اور گناہوں پر دلاسہ دیتے ہیں اور تھپکیاں دے دے سلاتے ہیں نتیجۃً لوگ گناہوں کو معمولی لیتے ہیں اور بد عملی کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ کیا علماء کو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ یاد نہیں ۔ جب حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ نے اپنی نعلین پاک دے کر فرمایا کہ یہ میرا جوتا لے جاؤ اور راستے میں تمہیں جو ملے اور وہ کلمہ حق کہہ دے ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اسے مجھ مصطفی ﷺکی یہ نشانی دیکھا کر کہہ دینا کہ اللہ نے تجھے جنت کا مالک بنا دیا ۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گلیوں میں حضور ﷺ کی نشانی لیے یہ اعلان فرما رہے تھے کہ ’’من قال لا الہ الا اللہ فا دخل الجنۃ‘‘ تو راستے میں حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ آواز سن کر تیزی سے ان کی طرف لپکے اوران کے سینے پر زور دار تھپڑ رسید کیا ، سیدنا ابو ہریرہ پیچھے گر گئے ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے غصے سے پوچھا تمہیں کس نے کہا یہ اعلان کرنے کو؟ فرمایا حضور ﷺ نے یہ اپنی نشانی دے کر بھیجا ہے کہ اعلان کر دو ’’من قال لا الہ الا اللہ فا دخل الجنۃ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا چلو حضورﷺ کے پاس میں بھی آتا ہوں ۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ہاتھ باندھ کر عرض کیا ۔ یارسول اللہ ﷺ آپ کی عنائت، آپ کی شفقت اپنی جگہ پر، مگر لوگ عمل کر رہے ہیں انہیں عمل میں لگا رہنے دیجئے اس طرح کے اعلانات سے لوگ خود کو جنتی یا بخش دیئے جانے والے سمجھ کر اعمال سے غافل ہو جائیں گے ۔

ہمارے معاشرے کے ساتھ بھی آج یہی کچھ ہوا ہے کہ لوگوں کو طرح طرح کے بخشش، درگذر، معافی کے اعمال و وظائف بتا دئیے گئے اور وہ بخشش و شفاعت کی امید پر گناہوں سے بے نیاز ہو کر طرح طرح کی گمراہیوں اور بد اعمالیوں میں مبتلا ہوتے چلے گئے ۔

حضور ﷺ نے تواپنی پیاری بیٹی حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بھی فرمایا دیا تھا کہ بیٹی قیامت کا خیال رکھنا میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکوں گا ۔ حضور ﷺ کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ آنے والی نسلوں کیلئے یہ بات تربیت پا جائے کہ تم نے اپنی زندگیاں عملی انداز میں بسر کرنی ہیں ، بد اعمالی، بے راہ راوی اور بد اخلاقی کا شکار نہیں ہونا ۔

آخرت کی بے خوفی اور :اطمینان صرف اس شخص کو ہے جو غفلت میں نہ پڑا، دین سے انحراف نہ کیا، رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم و ادا کو اپنایا اور اپنے تعیں دین پر قائم رہنے کی پوری کوشش کی اور آخرت کی کامیابی کیلئے اپنے رب کے حضور ایک مطمئن نفس لے کر حاضر ہوا کہ اسے اپنے رب کے حضور رسوا نہیں ہونا پڑے گا ۔ اور اسی مطمئن نفس کی قابل قبول شفاعت بھی ہو گی اور یہی وہ مطمئن نفس ہے جسے اللہ کریم خود صدا فرما رہے ہے ۔

یٰٓاَیَتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئنَّۃُ o ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَّۃً

مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْo وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْo

اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف آ، تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے ۔ اب تو میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں چلا جا ۔

مگر کم ظرف علماء نے لوگوں کو دین پرسختی سے قائم رہ کر رب کے حضور مطمئن نفس لے کر جانے کا درس نہیں دیا ۔ مغفرت، بخشش، شفاعت اور شفاعت عامہ ’’من قال لا الہ فا دخل جنہ‘‘ کا رٹا لگا رکھا ۔ شفاعت ، آپ ﷺ کے مقام محمود، روزِ محشر کے آپ ﷺ کے امت کی مغفرت کیلئے پے در پے سجدوں ،اور اللہ کریم کا یہ فرمانا ’’ ارفع راسک ، سل تعط، واشفاء تشفع‘‘کا ورد کر رکھا مگر قوم کو اس کا متعین وقت نہیں بتایا کہ یہ ہونا کب ہے؟ اس کے وقوع پذیر ہونے، مُنصہ ءشہود پہ آنے کا وقت کیا ہے؟ جب شفاعت کا یہ عمل شروع ہو گا اس وقت جہنم کی سزا پانے والے مجرم و گناہگار لوگ پتہ نہیں کتنے ہزار سال جہنم میں جل کر اپنے کیے کی پوری پوری سزا پا چکے ہوں گے ۔ پھر اس وقت کونسا منہ لے کر جانا اس محبوب ﷺ کی بارگاہ میں ، ان کے لیے بھی باعث شرم اور خودکےلیے بھی ۔

شفاعت ہو گی مگر میزان عدل پر نہیں ۔ جب حشر بپا ہو گا میزان عدل لگے گا ، اعمال تولے جائیں گے ، ہر نفس کو اس کے کیے کی سزا و جزا ملے گی ۔ سزا پانے والے جہنم جائیں گے اور جزا پانے والے جنت ۔ اگر شفاعت روز محشر میزان عدل پر ہوتی تو دوزخ کی سزا پانے والے دوزخ نہ جاتے انہیں وہیں سے جنت روانہ کر دیا جاتا ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ یہ تو اس پے در پے سجدوں والی حدیث سے بھی ظاہر ہے جو ہر آن مجرم و گنہگار لوگوں کو خوش کرنے کیلئے علماء کے لبو ں پر ہے ۔ اگر عقل و فہم کے قفل کھول کر اس حدیث کو پڑھا جائے تو یہ حدیث مبارکہ بھی واضح کر رہی ہے کہ مجرم و گنہگار لوگ ضرور جہنم میں جائیں گے ۔ ذرا غور کریں کہ پے در پے سجدوں سے لوگوں کو نکالاکہاں سے جا رہا ہے؟ ’’دوزخ سے‘‘ ۔ اب وہ دوزخ گئے کیسے؟ ’’ میزان عدل سے اپنے کیے کی سزا پا کر‘‘ ۔ یعنی یہ حدیث بھی واضح درس دے رہی ہے کہ مجرم و گنہگار لوگوں کو سزا ضرور ملے گی، وہ ضرور دوزخ کا منہ دیکھیں گے ۔ لَتَرَوّنَّ الْجَحِیْمَ گنہگار ضرور دوزخ کو دیکھ کر رہیں گے، ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ پس پھر وہ اس میں پڑ کر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے اور اپنے کیے کی پوری پوری سزا پائیں گے ۔

پھر صدیوں بعد حضور ﷺ کوہی ترس آئے گا کہ چلو مجرم سہی پر تھے تو میرے نام لیوا، میرے امتی اور آپ ﷺ سجدے میں سر رکھ کر اللہ کریم سے التجا کریں گے ۔ اس طرح ایک سے دوسرے سجدے کے درمیان بھی ہزاروں سال کا عرصہ ہے ۔ اس حدیث میں بھی کئی سبق اور کئی درس ہیں عبرت کے اور سزا و جزاءکے حتمی ہونے کے ۔ اگر علماء قوم کو ڈرانے پر آئیں تو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے بھی قوم کو ڈرایا جا سکتا ہے کہ اپنا قبلہ درست کرو تم کسی طرح سزا سے بچ نہیں سکتے وہ تمہیں ضرور ملے گی ۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ ہمارے علماء و مولوی حضرات کو ڈرانا آتا ہی نہیں ہے اور نہ یہ ڈرانا چاہتے ہیں کیونکہ ڈرانے سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا جبکہ خوش کرنے سے واہ واہ ہوگی اور اوپر سے پیسے بھی نچاور ہوں گے ۔

لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب
مگر لذتِ شوق سے بے نصیب
بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا
وہ صوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد
محبت میں یکتا، حمیت میں فرد
عجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں