27

بچپن کے دورکی تربیت

رضی الدین سید
ہمارے دور کے والدین اپنی اولاد کی تربیت میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے ۔ تر بیت ان کی زندگی کا اہم مقصد تھی۔ کہتے تھے کہ برے لڑکوں یا لڑکیوں کے ساتھ دوستی ہرگز نہ رکھا کرو ۔ بڑوں کے آگے نظریں نیچی رکھا کرو۔ محلے کے بڑے تمہارے بھی بڑے ہیں۔ اس لئیے ان کا نام لے کر نہ پکارا کرو۔ بیٹیوں سے کہتے تھے کہ جب بھی تمہارے بھائ یا ابا ہر سے گھر آئیں تو سر اور سینے پر فورا ہی دوپٹہ لے لیا کرو۔ ڈانٹتے تھے کہ کیسی لڑکی ہوکہ ٹانگ چیر کر بیٹھی ہو ۔کھانے کے دوران صرف اپنے آگے سے کھایا کرو اور لقمے بھی چھوٹے چھوٹے لیا کرو۔ پٹر پٹرزبان چلا کرنہ کھایا کرو. بڑوں کو جواب مت دیا کرو ۔ محلے کا ہر آدمی یا عورت تمہارے چچا اور خالہ ہی ہیں۔ محلے میں دوسروں کے کام بھی کر دیا کرو۔باہر سے تمہاری کوئی شکایت ہمارے پاس نہ آئے۔ ورنہ ہم بھی تمہاری ہی پٹائی کریں گے۔ اس طرح ہم باہر کے بڑوں سے بھی خوف زدہ رہتے اوراندر کے بڑوں سے بھی محتاط رہتے.۔ زبان و کردار کی بہت احتیاط کرتے تھے۔ امی ابا زور دیتے تھے کہ صرف اچھے دوست بنایا کرو اور مغرب سے پہلے گھر لوٹ آ یا کرو ۔ نماز پابندی سے پڑھا کرو اور صبح کی تلاوت کیا کرو ۔ وہ خود بھی تلاوت کرتے تھے۔بلکہ یہ اس دور کا راءج طریقہ ہی تھا۔سبق دیتے تھے کہ تمام رشتے داروں کی عزت کرو۔ پڑھنے لکھنے پر ساری توجہ دو ۔ کوئی بھی لڑکی اپنے رشتے دار لڑکوں یا مردوں سے بے تکلف ہوکر بات نہ کرے ۔ مردوں کو ہدایت تھی کہ جب بھی گھر آئیں، کچھ آواز لگا کر آئیں۔ یوں بے دھڑک گھر میں نہ داخل ہواکریں۔ زور دیتے تھے کہ دعوت میں جاؤ تو مہذب ہو کر بیٹھا کرو، اور اگر جلدی کھا لو تب بھی دسترخوان سے نہ ہٹا کروجب تک کہ او ر لوگ بھی نہ اٹھ جائیں ۔ کھانے کے بعد کلی کیا کرو اور ہاتھ دھویا کرو۔ سر میں سرسوں یا تل کا تیل لگایا کرو۔ چارپائی پر پاؤں لٹکا کے بیٹھو تو ٹانگیں کبھی نہ ہلائو ۔
ہماری دادی اور امی، ہمارے دلوں میں باپ کا سب سے زیادہ خوف بٹھاتی تھیں تاکہ بچے بگڑنے نہ پائیں ۔ مثال دیتی تھیں کہ’’ چھ گز کی ساڑھی سے اولاد اتنا نہیں ڈرتی جتناایک بالشت بھرکی ٹوپی سے ڈرتی ہے‘‘۔ بچوں کو چائے پینے کی ممانعت تھی۔ ایسی کہانیاں سنائی جاتی تھیں جن میں یاتواللہ کا خوف شامل ہوتا تھا یا کوئی اخلاقیات پوشیدہ ہوتی تھی۔ لڑکیوں اور عورتوں پر، پردے کی پابندی تھی۔ کوئی لڑکی اکیلے باہر نہیں جا سکتی تھی سوائے اسکول اور کالج کے !۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچپن کے دور میں، کم از کم ساٹھ کی دہائی تک تو ضرور، عورتیں بازار میں بہت کم نظر آتی تھیں۔ہر قسم کی خریداری مرد حضرات ہی کرتے تھے۔ ہمارے باپ اپنی بیٹیوں سے غصے میں کہا کرتے تھے کہ اگر میں نےتمہیں کسی لڑکے کے ساتھ ، یا شام کے بعد کہیں باہر دیکھا تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چیر دوں گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ معاشرہ اس دور تک بہت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہتا تھا ۔ گھر سے کسی لڑکی کے فرار ہونے کا تصور بھی دور دور تک نہیں تھا۔ لڑکیاں باپوں سے تھر تھر کانپتی تھیں اور حدود میں رہتی تھیں۔آج کل جس کا بالکل الٹ ہی ہوگیا ہے ۔ لڑکیاں بھی جس کے باعث سر بازار رسوا اور قتل ہورہی ہیں۔ تھوڑی سی بڑی ہو جانے پر برقعہ ان کے لئے لازمی لباس تھا ۔ کبھی کبھی ہمارے ابا ہماری کتابوں پر بھی ایک نظر ڈال لیتے تھے، یہ سوچ کر، کہ برخوردار کہیں کسی بے ہودہ کتاب کے دلدادہ تو نہیں ہو رہے؟ ۔ تب کا عام محاورہ تھا کہ “کھلائو سونے کا پیالہ۔ دیکھو شیر کی نگاہ سے” ۔ اگر کسی دوست کے گھر جانا ہوتا تو والدین سے سے اجازت لازمی تھی ۔ بیٹوں اور بیٹیوں کو محفل میں میں بڑھ چڑھ کر بولنے کی پابندی تھی۔ حد ادب کوپار نہیں کر نے دیا جاتا تھا۔
بھائی بہنوں کے دلوں میں محبت سموئ جاتی تھی اور ایک دوسرے کے لئیے قربانی کا جذبہ ابھارا جاتا تھا۔ مہذب گھرانوں میں فلمیں نہیں دیکھی جاتی تھیں۔ استاد کے بارے میں رائے یہ رکھی جاتی تھی کہ وہ تمہارے دوسرے باپ ہیں۔ لہذا ان کی مار پر ان سے کوئی محاسبہ بھی نہیں ہوتا تھا ۔ مائوں، نانیوں، اور دا دیوں سے لپٹ کر ہر روز کہانیاں اور لوریاں سننے کا ایک عجیب ہی چسکہ تھا جس کے بغیر ، سمجھ لیں، کہ نیند نہیں آتی تھی۔ باپ ہمارے سامنے ہمیشہ ایک آئیڈیل صورت میں نظر آتے تھے جو باہر کے ہربڑے اور بھاری کام کرجاتے تھے۔ باپوں کے سامنے شادی شدہ بیٹا کبھی اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بیتھ سکتا تھا۔ ایسا کرنا بہت بے ادبی سمجھی جاتی تھی۔ تاکید کی جاتی تھی کہ بڑا بھائی باپ کے برابر ہے ۔اس لئے تب کے لوگ بڑے بھائیوں کے سامنے بھی خاموش رہتے تھے یا کم بو لتے تھے۔ ان کی خاطربھی ادب و آداب وہی ہوتے تھے جو باپ کے سامنے کے ہوتے تھے۔ اول تو ئی سگریٹ نہیں پیتا تھا۔اور اگرکبھی کسی کویہ لت لگی بھی ہوتی تھی، تب بھی بڑوں یا استاد کے سامنے پینے کی اس کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اول تو ئی سگریٹ نہیں پیتا تھا۔اور اگرکبھی کسی کویہ لت لگی بھی ہوتی تھی، تب بھی بڑوں یا استاد کے سامنے پینے کی اس کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔شادی شدہ بھائی ،ابایا امی کے سامنے کبھی نہ تواپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ سکتے تھے اور نہ اپنے بچے کو ان کے سامنے بیٹا کہہ کر پکار سکتے تھے، یہ بات تہذیب کے بالکل خلاف تھی۔اساتذہ کا احترام حد سے زیادہ تھا۔ ااسی لئے کبھی سننے میں نہیں آتا تھا کہ طلبہ نے اپنے استادوں کو رودرروبرا بھلا کہا ہے۔اور آج کی مانندغصے میں ہیڈ ماسٹر کے کمرے کو تالا بھی ڈال دیاہے ۔
بعض ناخواندہ ماں باپ اچھی تربیت کی خاطر اپنے بیٹوں کو دوسرے تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی بھیجتے تھے تاکہ بچہ کسی مہذب انسان کی شکل لگے۔
والدہ ہمیں فلمی گانا گانے سے منع کرتی تھیں۔ اس دور میں ایک گانا چلا تھا ۔ تن ڈولے۔ من ڈولے۔ میرے دل کا گیا قرار۔ سومیں بھی اسےگھر میں بے سوچے سمجھے گنگناتا رہتا تھا۔ (ابا کے سامنے نہیں) تو امی مجھے اس گانے سے یہ کہہ کر منع کرتی تھیں کہ یہ گاناگندا ہے۔اسے مت گایا کرو۔ گھر کے ملازموں کے ساتھ بھی عزت سے بات کرنے کی ہدایت تھی تاکہ چھوٹے بڑے کا ذہن نہ بن سکے۔
بچپن کی تربیت کا انداز دیکھنا ہوتو سر سید کی زندگی پر نطر ڈالنی چاہئے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ میں بچوں کی تربیت کا کیا انداز تھا۔ مولانا حالی سرسید کی زبانی لکھتے ہیں کہ ’’میری والدہ کی نصحت تھی کہ جہاں تم کو ہمیشہ جانا ہو،وہاں کبھی سواری پر جایاکرو اورکبھی پاپیادہ جایا کرو۔ زمانے کا کچھ اعتبار نہیں ۔کبھی کچھ ہے، کبھی کچھ ہے۔پس ا یسی عادت رکھو کہ ہمیشہ اس کو نباہ سکو ‘‘۔(حیات ِ جاوید۔ از مولانا حالی۔ ص۲۵)۔مزید لکھتے ہیں کہ’’جس زمانے میں میری عمر گیارہ برس کی تھی، میں نے ایک نوکر کو جو کچھ پرانا اوربڈھاتھا، کسی بات پر تھپڑ ماردیا۔ والدہ کو بھی خبر ہوگئی ۔تھوڑی دیر بعد جب میں گھر میں آیا تو انہوں نے ناراض ہوکر کہا کہ اس کو گھر سے نکال دو۔ جہاں اس کا جی چاہے چلا جائے۔ یہ گھر میں رہنےکے لائق نہیں رہا۔ چنانچہ ایک ماما ہاتھ پکڑکر گھر سے باہر لے گئی اورر سڑک پرلاکر چھوڑ دیا‘‘۔(ایضاََ) ۔سرسید کہتے ہیں کہ ’’اس زمانے کے اشراف خاندانوں کے نوجوان ،جو کچھ کرتے تھے، ایسی طرح پر کرتے تھےکہ کوئی اس سے واقف نہ ہوتاتھا۔ کوئی حرکت عام طورپر برملانہیں ہوپاتی تھی‘‘(ص۔۲۷)۔ یاد رہے کہ علامہ اقبال کی تربیت بھی کچھ اسی طرح سے ہوئی تھی۔
ایک تربیت سی تربیت تھی جس کی کٹھالی میں ڈھل کر ہم سب ایک نئی اور خوبصورت شکل میں برآمد ہوتے تھے۔ کوئ مولانا محمد علی جوہر بنتا تھا۔کوئی علامہ اقبال بنتا تھا۔ کوئی سید مودودی نکلتا تھا۔ کوئ بی اماں نکلتی تھی۔ کوئی سچ مچ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کی نقل بن کے ابھرتی تھی۔ اور کوئی الجزائر کی مجاہدہ ، فاطمہ کی شکل اختیار کرتی تھی ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں