82

دین صرف عبادات کا نام نہیں

دین صرف عبادات کا نام نہیں ہے ۔ خدا کی رضاو خوشنودی کثیر ذکر و اذکار میں نہیں بلکہ معاشرتی پاکیزگی اور خدمت ِ خلق میں ہے ۔ یہ بالکل غلط تصور لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا دیا گیا ہے کہ دین صرف عبادات کا نام ہے ۔ عبادات تو ظہور اسلام سے قبل بھی ہوا کرتی تھیں ، اللہ رب العزت کے سامنے جھکنے والے تو پہلے بھی موجود تھے، روزہ، بیت اللہ شریف کا طواف اور حج تو اسلام سے قبل بھی ہوا کرتے تھے پھر وہ نئی چیز کیا ہے جو اسلام نے ہمیں عطاء کی ، جس کا تصور اس سے قبل نہیں تھا وہ کیا ہے؟ دین اسلام نے ہ میں وہ نئی چیز ’’ اسلامی نظام مساوات اور حسن اخلاق ‘‘ کی صورت میں دی، عدل و انصاف، حسن سلوک، رواداری کی شکل میں دی، تمام انسانوں کے برابری کے حقوق کی شکل دی ۔ شاہ و گدا، امیر و غریب، ادنیٰ و اعلیٰ، گورے اور کالے، راٹھ اور کمی کی تفریق ختم کر کے انسانی برابری و مساوات کی صورت میں دی ۔ یہ تاریخ انسانی کا پہلا موقع تھا کہ سیدنابلال رضی اللہ عنہ حبشہ سے، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فارس، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روم سے بطور غلام آکر عرب کے تاجداروں ، عرب کے سرداروں اور پیشواؤں کے برابر حقوق حاصل کیے ۔ یہ تاریخ بیت اللہ کا پہلا موقع تھا ایک حبشی غلام کو جوتوں سمیت کعبہ اللہ پر چڑھا کر اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے کا کہا گیا ۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے عربی و عجمی، کالے گورے، امیر و غریب، شاہ و گداکی تفریق کو مٹا کر ایک صف میں لا کھڑا کیا اور سب کو ایک جیسے حقوق دیئے، سب انسانوں کو ایک دوسرے کی نگاہ میں برابر کرکے ایک لائن میں کھڑا کر دیا ۔

اگر دین صرف عبادات کا ہی نام ہوتا تو انبیاء و رسل ساری زندگی بیٹھ کر عبادت کرتے اور کرواتے رہتے، تسبیح و اذکار کرتے رہتے، ہمارے آج کے پیرو مشائخ کی طرح، انہوں نے جہاد کیوں کیے؟ ان کی تو ساری کوششیں ، ساری توانائیاں ، ساری صلاحیتیں معاشرہ میں قیام امن کےلئے تھیں ، افراد معاشرہ میں باہمی مساوات، بھائی چارہ، حسن سلوک، اچھا برتاؤ، رواداری، انسانی مساوات، قانونی مساوات، معاشی مساوات، ذات پات کی تفریق ختم کرنے کےلئے دن رات ایک کیے ۔ یکساں حقوق، یکساں قانون، یکساں وسائل کی تقسیم ، سب کےلئے یکساں معاش و روزگار کے مواقع،عدل اور انصاف کی بالادستی کےلئے انتھک محنتیں کیں ، انہوں نے تو اپنے شب و روز ان فلاحی کاموں کی تنظیم و تنفیذ کےلئے گذاری ۔ کیا یہ سب سیاسی امور نہیں ؟ بلکہ یہ وہ سیاسی امور ہیں جو دین اسلام کی اصل ہیں ، دین اسلام کی بنیاد ہیں ۔ گویا ثابت ہوا کہ اسلام خود ایک سیاست کا نام ہے جس کی سیاست کا مقصد زمین پر خدا کی حاکمیت قائم کرناہے ۔ اب یہ حاکمیت مساجد و مدارس، حجروں اور خانقاہوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے سے تو قائم نہیں ہو گی؟ اس کے لئے باہر نکالنا پڑے گا، لوگوں میں گشت کرنا پڑیں گے ۔ لوگوں کے معمول پر نظر رکھنا پڑے گی، قربانیاں دینی پڑیں گی، جہاد کرنے پڑیں گے، پتھر کھانے پڑیں گے، کانٹوں پر چلنا پڑے گا ۔ یہ سب ایسے گھربیٹھے اللہ اللہ کرنے سے حاصل نہیں ہو گا ۔ آپ حضور سید عالم ﷺ کی عملی زندگی کا مطالعہ کریں تو ثابت ہو گا کہ آپ ﷺ نماز ، روزہ، حج ، فرض عبادات کے بعد جتنا بھی وقت ملتا وہ اسی طرح کے دنیاوی و سیاسی امور کی بجا آواری میں صرف ہوتا تھا ۔ آپ ﷺ گھر نہیں بیٹھے رہتے تھے ۔ نہ آپ ﷺکا ، نہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کا یہ وطیرہ رہا ہے جو آج کے پیرو ؟مشائخ، آج کے شریعت و طریقت کے رہبروں نے اپنا رکھا ہے ۔ کسی نبی و رسول نے گھروں اور حجروں میں مقید ہو کر اللہ اللہ اور دم درود کر کے نذرانے نہیں کھائے ۔ صبح گھر سے تیار ہو کر آنا اور ٹھکانے پہ جا بیٹھنا اور گاہکوں کا انتظار کرنا ۔ لوگوں نے آنا ،اللہ اللہ کروانی، دعائیں لینی، نذرانے دینے اور رہبر شریعت کا شام کو سب کچھ سمیٹ کر گھر چلے جانا، یہ تو دوکانداری طرز ہے، یہ قوم کی رہبری نہیں ہے ۔ یہ دوکاندار لوگوں کا معمول ہے کہ صبح گھر سے تیار ہو کر آئیں ، اپنے ٹھیے پر بیٹھیں اور شام کو سمیٹ کر گھر چلے جائیں ۔ یہ دین کے خادموں اور مجاہدوں کا کام نہیں ہے ۔ دین کوئی دوکانداری نہیں ہے یہ تو محنت مشقت اور جہد مسلسل کا نام ہے ۔ خدا کے انبیاء علیہم السلام نے تو ساری زندگی جہاد کئے ہیں ۔ خدا کے دین کے نفاذ کے لئے قربانیاں دی ہیں ،لوگوں کے معمول پر نظر رکھی ہے اور جہاں کہیں کوئی برائی دیکھی ہے اس کی جڑتک پہنچے اور اس کا خاتمہ کیا ہے ۔ معاشرہ میں خدا کے قانون کی بالا دستی ، عدل ، انصاف ، مساوات اور جملہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ساری زندگی لڑے ہیں اور دن رات قربانیاں دی ہیں ۔ آج ہمارے اسلامی معاشرہ میں کسی اسلامی قانون کا نفاذ نہیں ہے، مجموعی طور پر معاشرہ میں کسی ایک شرعی حکم کی پاسداری نہیں ہو رہی اور شریعت کے رہبر بڑے سکون و اطمینان سے گھر بیٹھے ہیں بہت مطمئن ہو کر، ان کے نزدیک یہ جنگ اور جہاد کی سی کیفیت ہی نہیں ہے ۔ خدا کا تو حکم ہے کہ اس وقت تک جہاد کرو جب تک دین غالب نہ آ جائے ۔ اس وقت دین کہاں غالب ہے؟ کوئی ایسا خطہ زمین ہے جہاں دین کسی اعتبار سے غالب ہو، معاشرتی رہن سہن کے اعتبار سے، اخلاقی پاکیزگی و مساوات کے اعتبار سے( اور یہ مساوات آئے بھی کیسے؟ جنہوں نے مساوات کا درس دینا تھا وہ تو کہتے ہیں ہم ارفع و اعلیٰ ہیں ، ہم فاضل و برتر ہیں ہمارے ہاتھ پاؤں چومے جائیں )، معاشی اعتبار سے یا عسکری اعتبار سے؟ ہمارے سب میدان مغلوب و سنسان پڑے ہیں اور کہیں کوئی دین کے مجاہد نظر ہی پڑتے ہیں جو دفاع کریں ۔

اگر یہ سب امور دین سے الگ ہوتے تو آپ ﷺ نے ان کےلئے قربانیاں کیوں دیں ؟ لڑے کیوں ؟ ان کے قیام و تنفیذ کےلئے جہاد کیوں کیے؟ ان کے حصول کے لیے جدوجہد کیوں کی؟ ان کے انفاذ کے لئے کیوں چھین سے نہیں بیٹھے؟ پتھر کیوں کھائے؟ ذکرو اذکار، تسبیح و تعریف اور حمد و ثناء تو گھر بیٹھے بڑے سکون و اطمینان سے کر سکتے تھے؟

آج ہمارا ملت اسلامیہ کا سب سے بڑا المیہ ےہی ہے کہ ہمارے بڑے کارپرداز، دین کے بڑے ٹھیکیدار،بڑے رہبرو رہنما،علماء اور پیرو مشائخ،شریعت اور طریقت کے رہبراور محراب و منبر والے خطیب و مولانا حضرات سب کے سب خواب ِغفلت کی بہت گہری آغوش میں محو ِ نوم ہیں اور بہت گہری نیند سو رہے ہیں ۔ ظلم و جفا کی تاریکی ، گمراہی و ضلالت کے بلند بانگ شور و غل سن کر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھل رہیں ۔ بڑے سکون و اطمینان سے اپنے اپنے سرد خانوں میں مقید ہیں اور ملت کی موجودہ صورت حال سے مطمئن نظر آتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے کچھ کرنے کرانے کی ضرورت نہیں ۔ انہیں معاشرہ میں کوئی تاریکی، کوئی شر، کوئی برائی ، ظلم و جفاکی نظر ہی نہیں آتی ہے کہ یہ جس کے خلاف آواز اٹھائیں اور سراپا احتجاج ہوں ۔

اس سے بڑی اور کم بختی کیا ہو سکتی ہے کہ آج نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ اور ملت کی بیداری و اصلاح کا نعرہ محراب و منبرسے بھی لگانا چھوڑ دیا گیاہے ۔ محافل و اجتماعات کے سٹیج ہیں تو وہاں پر سے بھی صرف شانیں اور فضائل و کمالات بڑھائے اور بلند کیے جاتے ہیں ، ایک دوسرے پر تنقید، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں سر گرم عمل ہیں ۔ کوئی اتحاد، مفاہمت، رواداری ، اخوت و بھائی چارہ کی بات نہیں کرتا ۔ آج سب کی صلاحیتیں ، سب کی توانائیاں افتراق و انتشار پھےلانے میں صرف ہو رہی ہیں ۔ سب ایک دوسرے پر کفر و شرک و بدعت کے فتوئے دینے میں ماہر ہیں ، ملت کے باہمی اتحاد و یکجہتی کی تدبیر و حکمت عملی کسی کے پاس نہیں اور نہ ہی کوئی چاہتا ہے کہ ایسا ممکن ہو ۔ آج نظام مصطفی ﷺ، اخوت و بھائی چارہ ، اسلامی مساوات ، اسلامی نظام حیات کے عملی نفاذ کا نعرہ ملت کے اجتماعات کے سٹیجوں سے بھی گرجتا اور جوش مارتا سنائی نہیں دیتا ہے ۔

اس سے بڑی کم بختی، اس سے بڑا المیہ اور ہمارے لیے کیا ہو سکتا ہے کہ ہم ایک اخوت، ہم ایک ملت ، ایک وحدت، ایک خدا، ایک رسول،ایک کلمہ، ایک کتاب، ایک شریعت،ایک قبلہ، ایک سمت والے ہو کر بھی خود ایک سمت نہیں ہو پا رہے ۔ اس میں سب سے بڑے مجرم و قصور وار ہر ہر مسلک اور گروہ کے علماء ہیں جو ایک ملت کو ایک نہیں ہونے دے رہے،جو ایک وحدت کو جسد واحد نہیں بننے دے رہے ۔ کوئی ایک دین ، ایک نظام کی بات نہیں کرتا، ہر کوئی اپنے اپنے عقیدہ و مسلک کا جھنڈا لے کر دنیا پر پنپنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ایک دین، ایک نظام،ایک ملت، ایک اخوت، ایک وحدت کو سب چھوڑ چکے ہیں تو اس کی بالادستی کی بات اور اس کی سربلندی کی جدوجہد سب کیسے کریں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں