202

زوال معاشرہ میں علماء و مشائخ کا کردار

مذہبی قیادت (علماء و مشاءخ، صوفی و پیر حضرات ) قوموں کے عروج وزوال میں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہے ۔ اخلاقی اطوار و اقدار کو فروغ دے کر یہ نہ صرف معاشرے میں استحکام پیدا کرتی ہے ، بلکہ اجتماعی قومی زندگی کی مشکلات و مصائب میں یہ سب سے بڑھ کر افراد کا حوصلہ بلند رکھتی ہے ۔ اسی طرح قومی مفادات کے حصول کے لیے جس اجتماعی تحریک وتوانائی کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ بھی مذہبی قیادت ہی فراہم کرتی ہے ۔ اس اعتبار سے قوموں کی زندگی کے کٹھن لمحات میں مذہبی قیادت غیر معمولی کردار ادا کرکے قوم کو عروج کی طرف لے جا سکتی ہے ۔ اس کے برعکس بعض اوقات مذہبی قیادت پوری قوم کو بے عملیت ، گمراہی و ضلالت، جمود اور پستی کی طرف لے جاتی ہے، خود اخلاقی انارکی کا شکار ہوکر، ایک دوسرے کے متضاد ہو کر، آپس میں تفرقہ و انتشار ڈال کر یا اہل اقتدار کی آلہ کار اور اپنے مفادات کی حریص ہوکر ۔ ان تمام صورتوں میں یہ قومی زوال کا اہم ترین سبب بن جاتی ہے جیسا کہ آج کا منظر اس کی عکاسی کرتا ہے ۔

اللہ کریم نے قرآن مجید میں انسان کو بے را ہ راوی اور اخلاقی پستی میں گرنے سے باز رکھنے کے انتہائی سخت لب ولہجہ اختیار کیا اور شدید اُخروی عذاب کی وعید یں دیں تا کہ انسان سخت اُخروی عذاب کے خوف سے ڈر کر کسی طرح بھی بے راہ روی میں نہ بہک سکے ۔ دین اسلام کی اس امتیازی خصوصیات سے کسی غیر مسلم کو بھی مجال انکارنہیں کہ اسلام نے دنیا سے انسداد فواحش کا جس طرح اہتمام کیا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی ۔

اسلام نے بدکاری و بداخلاقی پر شدید آخروی عذاب سنانے کے علاوہ دنیا میں بھی اس کی بڑی بھاری سزائیں مقرر کی ہیں اور پھر اسی پر قناعت نہ کی بلکہ بدکاری و بداخلاقی کے تمام ذرائع اور وسائط کو بھی بدکاری ہی کا شعبہ قرار دےتے ہوئے انہیں نہایت سختی سے بین کےا اور بدکاری تک پہنچنے والے ہر راستے پر ایک مضبوط بند باندھا ۔ انبیائے کرام علیہ الصلوۃ و السلام کی عملی زندگی اس پر مہر ِ ثبت ہے کہ انہوں نے احکامِ دین کے اجراء کے معاملہ میں کبھی کسی سے بھی رعایت نہیں برتی خواہ وہ ان کے قریبی یا خاندان کے افراد ہی کیوں نہ تھے ۔ ہمارے آقا و مولا ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کی حد تک فرمایا دیا کہ ’’ خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔

کیونکہ اب نبوت و رسالت کا سلسلہ ہمارے آقا کریم ﷺ پر ختم ہو چکا، اور حضور ﷺ نے علماء کو اپنا وارث قرار دیا، کہ اب قیامت تک فریضہ نبوت ورسالت اور خلافت کی ادائیگی، امر بالمعروف ا ور نہی عن المنکرکی ذمہ داری علماء کی ہے کہ وہ امت کو دین کی مضبوط زنجیر میں جکڑ کے رکھیں اور گمراہی و ضلالت میں نہ پڑنے دیں اور دین کے اجراء کے معاملہ میں کسی سے کوئی رعاءت نہ برتیں ۔ مگر ہمارے کاہل ملاں اور جاہل صوفیوں نے کیا کردار ادا کیا، سب سے پہلے تو انہوں نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پوری طرح حق ہی ادا نہیں کیا جیسے کہ انہیں کرنا چاہیے تھا اور اس کے تقاضوں پر پورے نہیں اترے ۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے عوام الناس کو راہ راست سے بھٹکنے اور بے راہ راوی کا شکار ہونے پر سخت لب و لہجہ اپنانے اور آخرت کے شدید غضب ناک عذاب سے ڈرانے کی بجائے عوام کی طبع کے مطابق نرم لب و لہجہ اپنایا ا ور خدا کے غضب سے ڈرانے کی بجائے خدا کی ستاریت (عیبوں کو چھپانے)، غفاریت (معاف کرنے، بخش دینے)، رحیمیت (رحم کرنے)، کریمیت (کرم کرنے )، رحمن (سب سے بڑھ کر مہربان ہونے) کے خواص ان کے سامنے رکھے، رحیمیت کے واعظ سنائے کہ وہ بہت رحمن ہے، بہت رحیم ہے، بخشن ہارے ہے معاف فرما دے گا ۔ وہ تومعاف کرنے اور بخشش کےلیے بہانے ڈھونڈتا ہے ۔

حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے دور کا ایک سو بندوں کے قاتل کاواقعہ ہزاربار سن چکا ہوں علماء کی زبانوں سے کہ وہ کس طرح بخشا گیا ۔ ایسے واقعات لوگوں کو سنانے کا مقصد کیا ہے ؟کیا انہیں اور ہوشیار کرنا مقصود ہے کہ گناہ تو بخشے ہی جانے ہیں کر لو جتنے ہوتے ہیں ؟اور ایسے واقعات سنانے سے فرق کیا پڑا معاشرہ میں ؟بگاڑ تو روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اس کے برعکس اگر خدا کے غضب، ڈر اور خوف کے واقعات سنائے جاتے تو یقینا کچھ تو اثر پڑتا معاشرہ پر؟آپ ملک بھر کی کسی بھی مسجد میں چلے جائیں ، جمعہ کے خطبات سنیں ، محافل کے بیانات سنیں آپ کو موضوع بخشش کے، وسیلہ کے، کرم، رحم و مغفرت، شفاعت و رحمت کے، شخصیات کے فضائل وکرامات اورمقام و مرتبت کے، دنوں اور مہینوں کے فضائل کے، مخصوص ایام کے فضائل سننے کو ملیں گے نہ کہ بد اخلاقیات، بدکاری و فحواشات،موسیقی، ڈرامہ و فلم بینی، ضلالت و گمراہی اور دین سے بے راہ راوی پر خدا کے غضب و قہر سے ڈرانے ، اور آخرت کی سخت وعیدیں دینے کے، اور نہ دین سے غافل ہونے پر مَعِیْشَۃً ضَنْکًا اور نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی کے غضب سے ڈرانے کے ۔

اگر ستار، غفار، رحمن، رحیم ، کریم خدا کے اوصاف ہیں توعلماء بتائیں شدید العقاب کون ہے؟واحد القوی القہار کس کا نام ہے؟جبار کون ہے؟خافض اور مذل، پست کرنے اور سخت ذلت دینے والا کون ہے؟منتقم و الضار کون ہے؟سخت بدلہ لینے اور سخت سے سخت تر عذاب دینے والا کون ہے؟کیا خدا کے یہ اوصاف کم ظرف علماء کو نظر نہیں آتے؟

معاذ اللہ مجھے خداوند کریم کے ان خواص(ر حمن و رحیم ہونے) سے مجال انکار نہیں ، مگر جب امت گمراہ ہو چکی ہو، اخلاقی درندگی، بدکاری و بے راہ راوی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب چکی ہو تو اس وقت ایسے خواص بیان کرنے سے مسائل کا حل نہیں ہوگا ۔ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر خدا کے بڑے بڑے عذاب سے ڈرانا ہو گا نہ کہ بخشش و مغفرت کے بہانے ، طریقے اور وسیلے بتا کر ۔ اگر ملاں جی کا اپنا بیٹا انتہائی بدکارو بدکردار ہو چکاہو تو کیاوہ اسے اپنے اچھے اوصاف بتا کر راہ راست پر لا سکیں گے؟قطعاً نہیں ، وہاں سخت لہجے اور ڈنڈے سے کام لینا پڑے گا ۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو وہ مزید تاریکیوں میں پڑتا چلا جائے گا کہ باپ تو کچھ نہیں کہتا معاف کر دیتا ہے پھر کاہے کا ڈر ۔ آج کے مسلمان اتنے باکمال نہیں ہیں کہ تمہاری نرم و نازک گفتار سن کر اور اشاروں سے سمجھائی گئی بات ادارک کر کے عمل کرنے لگیں ۔ نرم و نازک کلام آج کے بدنصیب مسلمانوں پر اثر نہیں کرتا ہے ۔ ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں اشاروں ، کنایوں اور علامتی گفتگو مؤثر نہیں ، صاف اور کھری بات کی ضرورت ہے، ایسی گفتار کی ضرورت ہے جو ان کے کلیجے ہلا کر رکھ دے، انہیں پوری طرح جھنجھوڑ کر رب کا خوف، ملت کا احساس اور فکر دلائی جائے ۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر

یہ بالکل حقیقت ہے کہ نرم و نازک کلام اپنے اندر کوئی اثر نہیں رکھتا ہے ۔ کلام ہمیشہ وہی اثر کرتا ہے جس میں اس کے ساتھ سزا اور خوف شامل ہو، جس میں فکر اور احساس ہو جسے سن کرانسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ، جو لوگوں کے ضمیر جھنجھوڑ دے ۔ مجھے ایک دانا برزگ کے کلام کا ایک پنجابی جملہ یا د آ رہا ہے ۔ ’’ چار کتاباں آسمانوں اتریاں تے نال اتریا ڈنڈا ‘‘

آپ پورے قرآن کریم کا مشاہدہ کریں آپ کو اندازہ ہو گا کہ قرآن کریم میں ڈر اور خوف زیادہ دلایا گیا ہے بانسبت بشارتیں سنا کر خوش کرنے کے ۔ اس لئے کہ خدا کا ڈراور خوف ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو راہ راست پر قائم رکھ سکتی ہے ۔ جس شخص یا معاشرہ میں خدا کا اور قانون کا خوف نہ ہو وہ وحشی درندوں کا روپ دھار لیتا ہے جو آج ہمارے معاشرہ میں سب پر واضح ہے ۔ نہ ہمارے خدا کا خوف پایا جاتا ہے نہ ہی قانون کا ۔ علماء نے قرآن سے سبق نہیں سیکھا ۔ اللہ کریم نے قرآن میں جہاں بدکاریوں ، فواحشات اور بداخلاقیات سے باز رکھنے کی بات کی وہاں پہ ا نتہائی سخت لہجہ اپنایا اور باز نہ آنے پر دنیا و آخرت میں غضب ناک عذاب کی وعیدیں سنائیں ۔ اور جہاں پہ رشد و ہدایت کا درس دیا وہاں ان پر عمل پیرا ہونے پر اپنے انعامات، رحم و کرم، تواب الرحیم ہونے ، بخشنے والے مہربان کا پےغام دیا مگر آج کے ہمارے ملاؤں نے الٹی روش اپنا لی ۔

آج کے علماء ہمیشہ رٹی ہوئی تقریریں ، نقل کیے ہوئے واقعات، سنی سنائی باتیں بغیر تصدیق کیے، فضائل ، کمالات، بخشش و شفاعت پر بات کرتے ہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر نہیں ۔ سختی سے برائی سے روکنے اور بدی سے باز رکھنے کی حکمت عملی اختیار نہیں کرتے ۔ علماء کیوں لوگوں کو خدا کا خوف اور غضب یاد نہیں دلاتے؟کیا آج تک کسی عالم نے کھلے عام محافل و مجالس میں رواعتی تقاریر سے ہٹ کر بد اخلاقیات اور معاشرتی برائیوں ، موسیقی، ڈرامہ و فلم سازی پے بات کی؟کیا کسی بھری محفل میں یا جمعہ کے خطبات میں علماء نے معاشرتی ناسوروں کو اپنی خطابت کی گرج چمک کی نظر کیا؟ہمیشہ علماء سے یہ سنا کہ فلاں عمل سے اتنے سالوں کے گناہ معاف، فلاں عمل سے اتنے سالوں کے، حتیٰ کہ دو، چار رکعت نماز کے عوض سو سو سال کے گناہ معاف کے فارمولے اور طور طریقے ملتے ہیں علماء اور صوفیوں کی وظاءف کی کتابوں میں ۔ کیا کبھی علماء نے ایک قضا نماز کی سزا کا حساب لگا کر بھی لوگوں کے سامنے رکھاتاکہ ان میں دلوں میں نماز قضا کرنے کا ڈر پیدا ہو؟کیا کبھی علماء نے بتایا کہ ایک نماز قضا کرنے پر کتنے سال جہنم کی سزا ہے؟کیا کبھی یہ بھی کسی نے درس دیا کہ فلاں برے اعمال پے فلاں اور اتنے سالوں کی سزا ملے گی اور فلاں پے اتنے کی؟کیا آج تک کسی عالم نے کھلے عام محافل میں لوگوں کو موسیقی ڈرامہ و فلم سازی اور فحش بینی پر خدا کے غضب سے ڈرایا اور اس کی سزا ء و جزا کا حساب لگا کر عوام کے سامنے رکھا؟؟؟

ایک معروف عالم نے کم علم ملاؤں کو واعظ کے اطوار سیکھا نے کےلئے سال کے بارہ مہینوں کی مناسبت سے بارہ تقرریں نامی کتاب لکھ دی، اس طرح کی اور بہت سی سال بھر کی تقاریرکی کتابیں موجود ہیں ۔ سال کے بارہ مہینوں کا وظیفہ و کورس دے دیا مساجد کے ملاں حضرات کو ، کہ سال بھر انہی کو دہراتے رہنا ۔ عمومی طور ملاں جی حضرات نے انہی کتابوں کا رٹا لگا رکھا ہے ۔ سالہا سال انہی کو دہرایا جاتا ہے اور مجال ہے ان کتابوں میں ماسوائے فضائل و کمالات ، مقام و مرتبت کے، شفاعت و بخشش کے، معاشرہ کی اخلاقی پاکےزگی و پاکدامنی کو برقرار رکھنے کے گُرملتے ہوں ، یا قوم کو بدکاری و بد کرداری سے باز رہنے کے ڈھنگ اور طور طریقے سیکھا ئے گئے ہوں یا غفلت، سر کشی و بے راہ راوی پر سخت لب و لہجہ اور وعیدیں ملتی ہوں ۔

اے لا الہ کے وارث ، باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ ، کردار قاہرانہ !

میں سمجھتا ہو ں ہمارے کاہل ملاں اور جاہل صوفی، پیر و مشاءخ حضرات آج کی معاشرہ کی بدکرداری،بے عملیت، ضلالت و گمراہی اور اخلاقی تباہی و بربادی اور بیخ کنی کے ذمہ دار ہیں ۔ آج جو قوم میں اتنا بگاڑ پےدا ہو چکا یہ ان کی مجموعی غفلت کا نتےجہ ہے ۔ یہ فریضہ نبوت و رسالت اور فریضہ خلافت کی ادائیگی میں پوری طرح ناکام رہے ہیں اور اس کا حق ادا نہیں کیا جیسا انہیں کرنا چاہیے تھا ۔ ماسوائے محدود چندتمام ملاؤں ، صوفیوں ، باباؤں ، نام نہاد پیروں اور گدی مکینوں نے قرآن سے پھونک مار کر لوگوں سے نذرانے لینا اور پیسے بٹورنا سیکھا اور سیکھایا ۔ مذموم اور گھناؤنے مقاصد کے حصول کےلئے قرآنی آیات کی مشق، ورد ، وظیفے اور تجزئیے کیے کہ فلاں آیت سے یہ غرض نکل سکتی ہے اور فلاں سے یہ ۔ فلاں آیت سے فلاں مقصد کا یہ تعویذ، فلاں سے فلاں مقصد کا یہ ۔

ایسے فارمولے اور حکمتیں تو بہت یاد ہیں علماء و مولوی حضرات کو مگر دنیا میں سر اٹھا کرعزت و وقار سے جینے کی حکمت عملی اور گُر کسی نے نہیں سیکھائے قوم کو ۔ علماء نے قرآن سے آسانی سے مرنے کا ڈھنگ تو ڈھونڈ نکالا کہ جو جان کنی کی تکلیف میں مبتلا ہو ، جس کی جان آسانی سے نہ نکل رہی ہواس پر سورہ یٰسین پڑھ دو آسانی سے نکل جائے گی، مگر جینے کے ڈھنگ نہ سیکھ پائے نہ سیکھا پائے ۔ ہرمرض سے شفاء، ہر دکھ اور مشکل سے نکلنے کے ورد وظیفے تو ڈھونڈ نکالنے ، نجات و حفاظت کے تعویذات تو واضح کر دئیے مگر امت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے معاملہ میں کچھ نہیں کر سکے ۔ امت کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکے ۔ امت کو مشکلات سے نکالنے کی تدابیر و حکمتیں نہیں دے سکے ۔ دنیا میں قوموں کی صفوں میں امت کی سروخروئی و بڑاکپن اور غلبہ کے کوئی طریق و لائحہ عمل واضح نہیں کر سکے ۔ کاش کہ علماء نے لوگوں کو قرآن سے سر اٹھا کر عزت و سربلندی کے ساتھ جینے کے اطوار سیکھا ئے ہوتے ۔ ہم نے قرآن کو صرف گھر اور دوکان میں خیرو برکت رکھا، تعویذ دھندے کے لئے رکھا، کچہری میں سر پے اٹھانے کےلئے رکھا، کسی کے مر جانے پر ایصال ثواب کےلئے پڑھا، کسی محفل، مجلس، اجلاس یا کسی بھی تقریب کے آغاز میں دو آیتیں باعث برکت پڑھنے کے لئے رکھا ۔ کیا قرآن کے نزول کا مقصد یہ تھا؟کیا قرآن دنیا میں محض رسماً پڑھ کر ثواب کمانے کے لئے نازل ہوا، زندگی میں عملی طورپر اپنانے کےلئے نہیں ؟

ہم نے قرآن کوکتاب برکت و مغفرت سمجھ لیا، کتاب زندگی، کتاب جاویدانی اور مکمل ضابطہ حیات نہیں سمجھا ۔ ہم جاہل صوفی اور کاہل ملاؤں کے ایسے پھندے میں پھنسے کہ قرآن سے راہنمائی نہیں لی، قرآن سے زندگی تلاش نہیں کی، قرآن سے کامیاب زندگی بسر کرنے کے گور نہیں سیکھے ۔ قرآن سے دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کے ڈھنگ نہیں سےکھے ۔ میں تو آج اس نتیجہ پر پہنچا مگر حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے آج سے بہت پہلے علماء کی غفلت کے اس نتیجہ کو پرکھ کے فرما دیاتھا کہ یہ سب جاہل صوفیوں اور کاہل ملاؤں کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ آج مسلم معاشرہ ذلت و پستی کی اس نوبت تک پہنچا ہے ۔ فرمایا

بہ بند صوفی و ملاں اسیری
حیات از حکمت قرآن نگیری
بہ آیاتش تورا کاری جز این نیست
کہ از یٰسین او آسان بمیری

ہمارے معاشرہ میں صرف کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوجانا کافی سمجھا جانے لگا ہے، اس کے بعد ہمارےلیے فسق و فجور کی راہیں کھلی ہیں ، جیسی چاہیں فاسقانہ زندگی بسر کریں ،جیسی چاہیں قرآن و سنت سے انحراف اور روگردانی کرلیں ،دین سے بھٹک جائیں ، انکار ِخدا تک نوبت آ جائے ، پوری کی پوری زندگی غیر اللہ کی اطاعت میں دے دیں ، اللہ کے قانون کی جگہ اہل باطل کا قانون رائج کر دیں ،اللہ و رسول ﷺ کے ہر حکم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مرضی کی زندگی بسر کریں اور کہلائیں بڑے عاشق ۔غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے کا نعرہ لگانے والے آپ ﷺ کی سنتیں، آپ ﷺ کا واضح قطح تو اپنی عملی زندگی میں قبول کرنے کو تیار نہیں اور دعویٰ موت کا؟ رسول اللہ ﷺ کے نام و ادا پر نثار ہونے کو تیار مگر عملی زندگی میں اپنانے سے عاری ۔ لیکن اس کے باوجود نہ اطاعت میں کوئی شک، نہ ایمان میں حرج، نہ جنت کے ملنے میں کوئی شک، نہ بخشش میں کوئی شک، نہ شفاعت ِ رسولﷺ میں کوئی شک ۔

اسی عنوان سے متصل دیگر مضامن جو اسی مضمون کا تسلسل ہیں زیادہ طویل ہو جانے کی وجہ الگ الگ پارٹس میں تقسیم کیا گیا.
1۔عقیدہ شفاعت اور عقیدہ کفارہ میں مماثلت
2۔کیا مصنوعات کے بائیکاٹ سے قوم سدھر سکتی ہے؟
3۔حضور ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کے سبب کون؟
4۔ ‪قوم کیا چیز ہے؟ قوموں کی امات کیا ہے؟‬
5۔ ہمارا روحانی نظام بگڑ گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

زوال معاشرہ میں علماء و مشائخ کا کردار” ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم۔ آپ کا مضمون خصوصیت سےپڑھا۔ بہت تحقیق اور درد نظر آیا۔ حضرت لقمان سے نکات کشید کرکے بہت عمدگی سے بات آگے بڑھائی گئی ہے۔ حضرت لقمان ایک بے حد علمیت والے انسان تھے۔ صرف انہی کے نکات سے بھی بہت اہم نصابات تیار کئے جاسکتے ہیں۔
    آپ کی یہ بات بھی بہت توجہ طلب ہے کہ طلبہ کو اور تو سب کچھ کی صفائ پر لگایا جاتا ہے مگر کبھی مسجد کی صفائی پر نہیں لگایا جاتا
    موجودہ سارا نصاب ہی آدھیڑ کر پھینک دینے کے قابل ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ یہ دین دشمن و وطن دشمن نصاب ہے
    علمی مضمون کا شکریہ
    رضی الدین سید ۔ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں