71

عمران خان کی کامیابیاں اور ناکامیاں۔ دعوت غور و فکر

رضی الدین سید

میرا یہ ملک , جسے مسلمانوں نے ریاست مدینہ کے بعد ، اور بے شمارآرزئوں کے ساتھ ، اللہ تعالی سے ایک ہزار سال کے بعد حاصل کیا تھا, قائم و دائم رہے، میری تمام تڑپ اور بے چینی کا خلاصہ یہی ہے

عمران کو ہر وقت کوسنے اور برا بھلا کہنے والوں سے مجھے کچھ عرض کرنی ہے ۔ اس حکومت کو پچھلے مسلسل چالیس سالوں کی گندگی، بدعنوانی، اور غلامی کی مفصل رعایت دینے کا میں ضرور قائل ہوں ۔ مصائب سے قطعی ناواقفیت ،اور پھر بھی دھرنوں میں ہر ہر وعدے پورے کرنے کے فلک شگاف بیانات، کامل نا تجربہ کاری ، حکومت میں آنے کے بعد بھی عام جلسوں میں اپنے وعدوں کے ایفا کے بے دھڑک اعلانات، اور اس کے لادین و مفاد پرست ساتھیوں کی مسلسل حماقتیں اور گالم گلوچ ، میری نظر میں یہ وہ تمام وجوہات ہیں جن کے باعث وہ نہایت ناکام سا نظر آتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود اس نے بعض دوررس منصوبے بھی بنائے ہیں اور عالمی فورمز پر بعض بے خوف گفتگو بھی کی ہے جو پچھلی حکومتیں نہ کبھی کرپائیں تھیں اور نہ کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی تھیں ۔
اس لئیے عمران کو بے دھڑک گالیاں دینے کے فیشن سے مجھے بہرحال نفرت ہے۔ یہ طریقہ کسی سنجیدہ فرد کا ہونا بھی نہیں چاہئیے ۔ ملک کے عوام مدتوں سے جس غیبی نجات دہندہ کی آمد کے منتظر ہیں، وہ بھی جب کہیں سے برآمد ہوگا ، تو انقلابی اقدامات اس کے بھی اسی قسم کے ہوں گے۔ وہ ہر جگہ ہتھوڑے مار کر پرانی نشانیاں منہدم کررہا ہوگا ۔ جبکہ شرو فساد کی سابقہ تمام مضبوط قوتیں اس کے خلاف آج ہی کی مانند گٹھ جوڑ کررہی ، اور آئینی و غیر آئینی، اور جھوٹ و بدمعاشی کے سارے حربے اختیار کررہی ہوں گی۔ ادھر عالمی فورمز پر بھی جب وہ قائد ، آقا قوتوں کو للکارے گا ، تو پاکستان میں اس کے خلاف بدعنوان و بکائو سیاست دانوں سے مل کر وہ بھی اسے جڑ سے اکھاڑکر پھینک دینے کی منہ زور طاقت لگائیں گی اور ملک کو بھیانک نتائج کا سامنا کروانےکی دھمکی دیں گی۔
طریقے اور انداز تو اس منتظر انقلابی قائد کے بھی یہی ہوں گے ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہی منتظر ے مسیحا عوام ، دو تین سالوں ہی میں اسی پر لعنت اور دھوکے باز ی کا الزام لگانا شروع کردیں گے ۔ تو وہ متوقع انقلاب ، جس کا وہ مدتوں سے انتظار کررہے تھے، پھر آ خر کہاں سے برپا ہوگا؟ اور کون اسے برپا کرے گا؟
یوں بھی سوچنے کی بات ہے کہ چالیس سالہ تعفن و ناپاکی کو ، خوشبو و وپاکیزگی میں تبدیل کرنے کی خاطر کشمکش، آزمائشیں ، نا تجربہ کاری، پنجے گاڑی ہوئی افسر شاہی، اور بین الاقوامی سازشوں کے پس منظر میں ، محض پانچ سالہ مختصر عرصہ کیسے کافی ہوسکتا ہے؟ یہ مدت تو اس نئی اور باعزم حکومت کے ، کبھی پیر جمانے اور کبھی پیر لڑکھڑانے ہی میں گذر جائے گی۔

فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ عمران خان کی حکومت ، خونی و غدار دشمنوں کے درمیان ، اس حالت میں قائم ہے کہ وہ اتحادیوں کی بے ساکھیوں پر کھڑی ہے جو محض عارضی سہارا ہی ہوتی ہیں۔ اس کی جماعت تحریک انصاف کی تو یہ واحد حکومت ہے ہی نہیں ! ۔ تو ابتدا ہی سے کبھی لڑکھڑاتی اور کبھی قدم جماتی محض پانچ سالہ مدت کی اس حکومت سے جھرنوں، باغوں، پھلوں، دودھ کے چشموں ، شہد کی نہروں، اور مکمل امن و سکون والے وطن کی ارزو کیسے درست ثابت ہوسکتی ہے؟

مندرجہ بالا سنجیدہ تجزیہ ، سب کو ایک بار پھر دعوت غور و فکر دیتا ہے ۔ جلدی اچھی عادت نہیں ہوتی۔ بہتر نتیجے تک پہنچنے کی خاطر، تحمل و بردباری ایک بڑی صفت ہے۔

“بدترین جمہوریت بھی ، آمریت سے بہتر ہے”۔ پچھلی حکومتوں میں کبھی یہ بھی ہمارا نعرہ رائج الوقت تھا۔ لوٹ مار کرنے والی سیاسی پارٹیاں جو کل تک اس جذباتی و بے معنی نعرے کا طوفان اٹھائے ہوتی تھیں ، وہ آج محض ایک سوا سال باقی رہ جانے والی عمران خان کی جمہوری مدت کو بھی فوری طور پر لپیٹ دینے کی آ تشیں مہم چلائے ہوئے ہیں ۔
حالاں کہ یہ وہ لوگ ہیں، جمہوریت جن کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ انہیں صرف اقتدار چاہیے۔ عمران خان کی جمہوریت ، اگر بالکل لولی لنگڑی بھی ہے ، اور اگر ان کی مہم کی وجہ سے وہ کبھی لپیٹ بھی دی گئی ، تو عین ممکن ہے کہ اقتدار کل کسی اور جانی پہچانی مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجائے ۔
بد ترین جمہوریت کا راگ الاپنے والے یہ مریض سیاستدان ، آج خود ہی بدترین جمہوریت کو لپیٹ کر آمریت کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یوں وہ اپنی کل ہی کی بات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اللہ کے بندوں کو سوچنا چاہئے کہ اگر عمران کی یہ جمہوریت بد ترین ہے ، تب بھی اپنے ہی فارمولے کے تحت اسے جاری رہنے دو۔ گیارہ بارہ مہینے ہی تو اب باقی رہ گئے ہیں اس کی مدت میں، جس کے بعد پھر نئے انتخابات تو ہونے ہی ہونے ہیں ۔

اور پھر بھلا خود انہوں نے بھی اپنے پچھلے پینتیس سالوں میں کونسی خوبصورت جمہوریت ملک کو عطا کی ہے؟ پاکستان میں بدترین مہنگائی ان کے دور میں بھی عروج پر تھی , ڈالر کا سرکاری ریٹ 21 ، 22 روپے سے نکل کر 100 اور 110 تک ان کے دور میں بھی پہنچا تھا، اور ڈیزل کا نرخ 60 روپے لٹر سے آگے بڑھ کر 120روپے تک ان کے دور میں بھی پہنچا تھا ۔
اگر عمران خان چور ہے ، تو صاف بات ہے کہ یہ ہاں یہ لوگ زرداری، بلاول، فضل الرحمان، اور شریف خاندان، سب کے سب ہی اس سے بڑھ کر لوٹ کھسوٹ کرنے والے ہیں ۔
لہذا ان سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کریں، اسے عالمی غلامی میں نہ دیں، اور کسی حکومت کو گرانے کے لئے، اس کے آتے ہی ، ایڑی چوٹی کا زور نہ لگایا کریں ۔ کیونکہ ملک تو اس طرح تو برباد ہو جائے گا، بدنام ہوجائے گا۔ گھاگ سیاست دانو ں نے کبھی یکھا بھی ہے کہ کیا بھارت میں بھی دو دو اور تین تین سالوں کے لئے حکومتیں آتی اور جاتی ییں؟ کبھی دیکھا ہے انہوں نے کہ امریکہ میں جانے والی حکومت ، اگلی منتخب حکومت کو ہٹا کر درمیان ہی میں دوبارہ آنے کی خاطر ، مارو یا مرجائو جیسی مہم چلاتی ہوں ؟

جمہوریت کے دیوانے یہ لوگ کیا اس دنیا سے دور کہیں الگ تھلگ رہتے ہو؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں