72

مزارات اور مقالات اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ

آج جو کچھ مزارات اولیاء پر ہو رہا ہے ہم اہل سنت ، علماء حق اہل سنت اس کا ڈٹ کر انکار کرتے ہیں ۔ یہ لوگ جہلا میں سے ہیں ۔ یہ زمانے کے بدترین جاہل لوگ ہیں ان کا اہل سنت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہمارے اسلاف اور بزرگوں کی تعلیمات ہیں ۔ نہ یہ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کا درس ہے ۔ بعض مخالف اور اما م اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ سے بغض رکھنے والے لوگ یہ سب آپ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں کہ یہ آپ کے بعد شروع ہوا ، اور آپ کی تعلیمات میں سے ہے ۔ یہ سراسر غلط اور بہتان ہے آپ کی تعلیمات بھی یہ نہیں تھیں ۔ آپ سے عورتوں کے مزارات پر جانے سے متعلق پوچھا گیا کہ جائز ہے یا نہیں ؟تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ۔

’’غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے یا نہیں ؟بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے ۔ جس وقت عورت گھر سے ارادہ کر کے نکلتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس نہیں آ جاتی ہے ملاءکہ لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ سوائے روضہ رسول اللہ ﷺ کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں ۔ وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے اور قرآن کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایاہے ۔ (ملفوظات شریف ص 240‘ ملخصاً رضوی کتاب گھر دہلی)

اگر ہم لوگ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی کتابوں اور آپ کے فرامین کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بدعات و منکرات کے قاطع یعنی ختم کرنے والے تھے ۔ اب یہ بات چلی ہے تو مزارات ، عرس و میلہ پر ہونے والے خرافات کے متعلق آپ ہی کے کچھ مزید فرامین پیش کر تا ہوں تاکہ حقیقت آشکار ہو ۔

1 ۔ امام اہل سنت سے مزار شریف کو بوسہ دینے اور طواف کرنے کا پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ۔

’’ سجدہ قبور بالاتفاق حرام، طواف قبور بالاتفاق حرام، بوسہ قبور مختلف چیز، بہتر یہ ہے کہ نہ دیا جائے ۔ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ کےلئے ہے ۔ مزار شریف کو بوسہ دینا جائز ہے یا نہیں ۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے، اکثر علماء اس کے قائل ہیں مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے ۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیں ہوسکتی ۔ ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں ۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز (بچا) کیا جائے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

مزار میں قدموں کی طرف سے حاضر ہوں اور کم از کم چار ہاتھ فاصلے پر کھڑے ہوں ، درمیانی آواز میں سلام کہیں ، فاتحہ پڑھیں اور دعا مانگیں ۔ مزار کو نہ بوسہ دیں اور نہ قبر کو ہاتھ لگائیں ۔ قبر کو سجدہ تعظیمی کرنا حرام ہے اور اگر عبادت کی نیت سے کیا جائے تو کفر ہے ۔ ( ماخوذ فتویٰ رضویہ)

حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی تعلیم کیاتھی کہ گردن کٹتی ہے توکٹ جائے مگر خدا کے سواء کسی کے آگے سر نہیں جھکانا ۔ مغل شہنشاہ جہانگیر عالمگیر ترکیبیں کر تا رہ گیا کہ آپ سجدہ نہیں کرتے تو سر ہی جھکا دیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں جھکاؤ ں گا ۔ تو شہنشاہ نے آپ کے لئے جالا بُنا اور چال چلی، سازش کی، دربار میں بلاویا تو دروازہ چھوٹا رکھاکہ آپ جب دروازے سے گذریں گے سر جھکا کے ہی گذریں گے تو کہوں گا لو سر جھکا ہی لیاکی ۔ آپ جب دروازہ پر پہنچے تو سمجھ گئے کہ یہ میرے لئے جال بُنا گیا ہے تو آپ نے سر کی بجائے پہلے اپنی ٹانگیں داخل کیں تاکہ سر بلند ہی رہے ۔ حکیم الامت حضرت اقبال علیہ الرحمہ خراج پیش کرتے ہیں ۔ یہ اےسے اللہ والے تھے کہ آج بھی ان کے جسد خاکی زیر فلک انوار و تجلیات کی کرنیں بکھیر رہے ہیں اور اےمان و ہدایت کا نور ان کے دم سے روشن ہے ۔

حاضر ہوا میں شےخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

2 ۔ روضہ انور پر حاضری کا صحیح طریقہ:

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ خبردار جب کبھی رسول اکرم ﷺ کے روضہ انور پر حاضری کا شرف ہو تو جالی شریف (حضورﷺ کے مزار شریف کی سنہری جالیوں ) کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ (جالی شریف) سے چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاوَ ۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا، اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 765، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

روضہ انور پر طواف و سجدہ منع ہے:

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں روضہ انور کا طواف نہ کرو، نہ سجدہ کرو، نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو ۔ حضور کریم ﷺ کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 10ص 769 مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

آج کل لوگ صرف تعظیم کو ہی دین سمجھتے ہیں اور عملی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں ۔ قرآن پاک کی تعظیم کر لو، حرمین شریف کی تعظیم کر لو، اکابرین و پیروں کی تعظیم کر لو مگر ان کی تعلیمات کیا ہیں ؟ان کا درس کیا ہے؟وہ پس پست پھینک دیتے ہیں ۔ وہ تعظیم کو آسان سمجھتے ہیں اور اطاعت کو اپنے اوپر بھاری تصور کرتے ہیں ۔ حالانکہ اگر ظاہری تعظیم نہ بھی کی جائے اور فرمان سن کر اطاعت کر لی جائے تو یہ تعظیم سے ہزار گنا بڑھ کر ہے ۔ تعظیم اطاعت میں ہے، تعظیم اطاعت میں ہے ۔ اگر اطاعت نہیں ہے تو تعظیم بیکار ہے ۔ کوئی فائدہ نہیں ہوگا ایسی کھوکھلی تعظیم کا جس میں اطاعت نہ ہو ۔

3 ۔ مزارات پر چادر چڑھانا:

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب ارشاد فرمایا ’’جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام چادر پر صرف کر نے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کی نیت سے کسی محتاج و ضرورتمند کو پیش کر دیں یہ بہتر عمل ہے ۔ اس سے اس برزگ کی روح کو بھی ایصال ثواب پہنچ جائے گا اور کسی ضرورتمند کی حاجت بھی پوری ہو جائے گی ۔ ‘‘ (احکام شریعت حصہ اول ص 42)

4 ۔ امام اہل سنت سے عرس و میلہ میں آتش بازی اور نیاز کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ۔

’’ آتش بازی اسراف ہے اور اسراف حرام ہے، کھانے کا ایسا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے ۔ تصنیع مال ہے اور تصنیع حرام ۔ روشنی اگر مصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف داخل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24ص 112‘ مطبوعہ رضا فاوَنڈیشن لاہور)

5 ۔ آپ سے عرس و میلہ پر رنڈیوں اور خواجہ سراؤں کے ناچ راگ کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ۔

’’رنڈیوں اور خواجہ سراؤں کا ناچ بے شک حرام ہے ۔ اولیائے کرام کے عرسوں میں بے قید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 29ص 92‘ مطبوعہ رضا فاوَنڈیشن لاہور)

6 ۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزامیر یعنی آلات لہو و لعب بروجہ لہو و لعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیائے کرام و علماء کرام دونوں فریق مقتداء کے کلمات عالیہ میں مصرح، ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے اور حضرات علیہ سادات بہثت کبرائے سلسلہ عالیہ چشت کی طرف اس کی نسبت محض باطل و افتراء ہے ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص 54)

7 ۔ چراغ جلانا:

عرصہ داراز سے ہمارے معاشرہ میں روایت چلی آ رہی ہے کہ عرس و میلہ کے آخری رسومات میں چراغ بندی کی جاتی ہے ۔ محلہ بھر کی خواتین میلہ کی آخری شب چراغ جلا کر میلہ گاہ جاتی ہیں ، بتیاں جلا کر مزار کے گرد چکر کاٹتی ہیں جو طواف سے متشابہ ہے اور طواف سوائے بیت اللہ شریف کے کسی دوسری جگہ حرام ہے خواہ وہ کتنی ہی مقدس کیوں نہ ہو ۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں سوال کیا گیا توآپ نے شیخ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ کی تصنیف حدیقہ ندیہ کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ قبروں کی طرف شمع لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے ۔ اگرچہ قبر کے قریب تلاوت قرآن کے لئے موم بتی جلانے میں حرج نہیں مگر قبر سے ہٹ کر ہو ۔ ‘‘ (البریق المنار بشموع المزار ص 9 مطبوعہ لاہور)

ایک اور جگہ اسی قسم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا ۔ ’’اصل یہ کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے ۔ حضورﷺ فرماتے ہیں عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور جو کام دینی فائدے اور دنیوی نفع جائز دونوں سے خالی ہو عبث ہے اور عبث خود مکروہ ہے اور اس میں مال صرف کرنا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے ۔ ‘‘

8 ۔ اگربتی اور لوبان جلانا:

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبر پر اگر بتی اور لوبان وغیرہ جلانے کے متعلق دریافت کیا گیا توآپ نے جواب دیا گیا ’’ عود، لوبان وغیرہ کوئی بھی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز کرنا چاہئے (بچنا چاہئے) اگرچہ کسی برتن میں ہو اور قبر کے قریب سلگانا (اگر نہ کسی تالی یا ذاکر یا زائر حاضر خواہ عنقریب آنے والے کے واسطے ہو) بلکہ یوں کہ صرف قبر کے لئے جلا کر چلا آئے تو ظاہر منع ہے اسراف (حرام) اور اضاعیت مال (مال کو ضائع کرنا ہے) میت صالح اس عرضے کے سبب جو اس قبر میں جنت سے کھولا جاتا ہے اور بہشتی نسی میں (جنتی ہوائیں ) بہشتی پھولوں کی خوشبوئیں لاتی ہیں ۔ دنیا کے اگر اور لوبان سے غنی ہے ۔ (السنی الانیقہ ص 70 مطبوعہ بریلی ہندوستان)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اولیاء کرام کے مزارات پر ہر سال مسلمانوں کا جمع ہوکر قرآن مجید کی تلاوت اور مجالس کرنا اور اس کا ثواب ارواح طیبہ کو پہنچانا جائز ہے کہ منکرات شرعیہ مثل رقص و مزامیر وغیرہ سے خالی ہو، عورتوں کو قبور پر ویسے جانا چاہئے عام دنوں میں اہل خانہ کے ساتھ، نہ کہ مجمع میں بے حجابانہ اور تماشے کا میلاد کرنا اور فوٹو وغیرہ کھینچوانا یہ سب گناہ و ناجائز ہیں جو شخص ایسی باتوں کا مرتکب ہو، اسے امام نہ بنایا جائے ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 216‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

آج ہم معاشرہ میں چلتے پھرتے دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ محلوں ، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جعلی پیروں ، عاملوں کا ایک گروہ سرگرم عمل ہے، جوالٹے سیدھے تعویذ دھندے، فال نامے نکال کر عوام کے عقائد کو متزلزل کرتے ہیں ، سادہ لوح مسلمانوں کو بٹورتے ہیں ۔ ان سب کے سب جعلی باباءوں ، پیروں اور عاملوں کو مسلک حق اہل سنت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے کہ یہ سب ایسے ہی ہیں ۔ موجودہ دور میں ہر جانب جاہل پیروں اور جعلی صوفیوں کا ڈیرہ ہے، نادان لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اپنا مال ان پر لٹاتے ہیں پھر جب ہوش آتا ہے تو چیخ اٹھتے ہیں کہ پیر صاحب نے ہ میں لوٹ لیا ۔ ہمارا مال کھالیا ۔ ہماری عزت پامال کردی اور ہماری غرض بھی پوری نہ ہوئی ۔ اسی لئے امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے جاہل فقیر و پیر اور صوفی سے بیعت کرنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ ہمیشہ سنی صحیح العقیدہ عالم اور پابند شریعت پیر سے بیعت کی جائے ۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ جاہل و بے عمل پیر، فقیرو صوفی کا مرید ہونا کیسا ہے؟

آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ’’ بلاشبہ جاہل پیر و فقیر کا مرید ہونا شیطان کا مرید ہونا ہے ۔ ‘‘ (ملفوظات شریف ص 297‘ مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

امام ا ہل سنت کی تعلیمات تو یہ تھیں مگر آج اس کے برعکس جو کچھ مزارات اولیا ء پر ہو رہا ہے وہ سارے کا سارا سراسر اس کے منافی ہے ۔ یہ سب ہرگز آپ علیہ الرحمہ کی تعلیمات میں سے نہیں ہے اور جو لوگ یہ سب آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ سراسر بہتان اور افتراء کرتے ہیں ۔ مزارات پر خرافات کرنے کروانے والے لوگ جہلا میں سے ہیں اور جہلاء کی حرکات کو تمام اہل سنت پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے اور امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عرسوں اور میلوں پر ایسے لوگوں کی بہتات ہوتی ہے جو انتہا درجہ کے شیطان سیرت ہوں ، خائن اور بدکار ہوں ، جن کا یہ نعرہ ہے ’’ یا علی! ہم تیرے ہیں عمل کے لئے اور بتھرے ہیں ‘‘ اور ’’علی دے متوالے ،پی کے بھنگ دے پیالے، کہندے فیصلے ملنگاں دے مکانے یا علی‘‘ ۔ کہتے ہیں کہ ہم علی کے ملنگ ہیں ، قلندر و سخی کے ملنگ ہیں ہم سے کسی عمل کی بات نہیں کرنی ، وہ جانے اور عمل جانے، ہاں البتہ ہر قسم کے نشے، بھنگ ، شراب، چرس، جوا ء اور ہر طرح کی بدفعلی اور حرام کاری کے لئے ہم حاضر ہیں ۔ سیدنا علی وجہہ اللہ الکریم معاذ اللہ! ان علی کے نعرے بازوں کی طرح بد عمل تو نہیں تھے اور وہ کسی بد عمل کو گلے لگانا تو کیا ایک نظر تک دیکھ لینا بھی گوارا نہیں کریں گے ۔ وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جن کا فرمان ہے کہ

’’ اگر کسی بہتے دریا میں شراب کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے اور کچھ عرصہ بعد وہ دریا خشک ہو جائے اور اس میں گھاس اُگ آئے اور وہ گھاس میرا گھوڑا کھا لے تو میں اس گھوڑے کی سواری کرنا پسند نہیں کرونگا‘‘ ۔

کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شراب خور نعرے بازوں کو سینے سے لگائیں گے؟کیا وہ ایسے لوگوں کی بخشش کا وسیلہ بنے گے جن کے منہوں سے سگریٹ، چرس و نشہ وغیرہ کی بو آتی ہے؟آج جعلی پیروں ، جعلی علی کے چاہنے والوں کی کہانیاں آئے روز منظر پر آتی رہتیں ہیں جنہیں دیکھ کر، سن کر کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے ۔ ان دین سے دور ، بد عمل لوگوں نے مسلک حق اہل سنت کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے ۔

امام اہل سنت، حضور سیدی اعلیٰ حضرت، عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خاں صاحب کے صاحبزادہ قبلہ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے کسی صاحب نے آ کر سوال کیاکہ مجھے بتائیں کہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کے نام کیا ہیں ؟آپ سوال سن کر اٹھ کر اندر گھر چلے گئے اور پےچھے وہ صاحب عقیدتمندوں سے بحث کرنے لگا کہ یہ مفتی اعظم ہیں جسے حضور کی صاحبزادیوں کے نام تک یاد نہیں اور وہ اندر کتاب دیکھنے چلا گیا ہے؟تھوڑی دیر بعد جب مفتی اعظم تشریف لائے تو ان کے ہاتھ پاؤں گیلے تھے اور داڑھی مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ فرمایا! کتاب دیکھنے نہیں ، وضو کرنے گیا تھا اس لئے کہ بغیر وضو ایسی ہستیوں کا نام لینا بھی ان کی توہین و بے ادبی ہے ۔ ہمارے بزرگوں کا درس تو یہ تھا ۔ آج ایسے لوگ علی علی کرتے اور مقدس بیبیوں کے نام لیتے ہیں جو انتہائی گندی اور نجس حالت میں رہتے ہیں اور کئی کئی ماہ غسل نہیں کرتے ۔ کیا یہ ان کی توہین نہیں ہے؟کیا یہ مقدس ناموں کی بے حرمتی و گستاخی نہیں ہے؟ایک بزرگ صوفی شاعر فرماتے ہیں ۔

گر نہ داری از محمد رنگ و بو
از زبان خود میسا لا نام او

یعنی اگر تمہاری سیرت و کردار ، اخلاق و اطوار اپنے نبی کریم ﷺ کے رنگ و بو سے بہرہ ور نہیں ، یا تم سے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے اصحاب کے اخلاق حسنہ کی بو نہیں آتی تو تمہیں قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی ناپاک زبان سے ان کا نام تک لےنے کی جسارت کرو ۔

آج ہم اپنے عوام الناس کا تو کیا رونا روئیں ، ہمارے خواص اکثر رہبر ، گدی مکیں پیر حضرات، ہمارے قوال، ہمارے ثناء خواں ایسے آ گئے جن کی سیرت و اطوار اپنے اسلاف سے ملنا تو درکنار، ان کی ظاہری صورت ، ان کا واضع قطع، ان کا طرز عمل اپنے اسلاف سے ملتا نظر نہیں آتا ۔ وہ ایک طرف اپنے اسلاف ، اپنے بزرگوں کی ظاہری صورتیں رکھیں اور دوسری طرف مغرب کے نمونے اور پھر دیکھیں ، اپنا محاسبہ کریں کہ یہ ظاہری کن کے زیادہ قریب ہیں ؟کن سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ؟جن کی ظاہری شکل و صورت ، واضح قطع اور طرز عمل اپنے بزرگوں سے نہیں ملتا ، ان کے اندر کی حب الوطنی، حب دینی پر کیسے یقین کر لیا جائے؟ آج دین کے رہبر خود امت کو مغرب کی تقلید کی طرف لے کر جا رہے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں