102

فلسطین کے معاملے میں عرب ممالک کی قلابازیاں

رضی الدین سید کراچی

سب جانتے ہیں کہ عرب کے عین ددرمیان میں فلسطین کاقضیہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا تھا۔ فلسطین میں اسرائیل کےقیام سے عیسائ حکومتوں کا مقصدایک تیر سے دوشکار کرنا تھا۔ ایک تو وہ یہویوں کو اپنے پیغمبر کا قاتل کردانتے اور انہیں اپنے ہاں رکھنےکے قائل نہ تھے۔دوم ریاست کے اندر ان کی یاست کی پالیسی یا سازش سے بھی وہ بہت تنگ تھے۔ چنانچہ جب صیہونیوں نے برطانیہ سےمجبور ہوکر خود فلسطین ہی میں اپنے لئے ایک سکون کی جگہ طلب کی تو عیسائی حکومتوں اور پاپائوں نے بالکل درست طوپر سوچا کہ یہی وقت ہے کہ انہیں یورپ سے ہمشہ کے لئے نکال باہر کرکےیروشلم ہی میں دھکیل دیاجائے ۔ اس طرح ہم بھی ان کی اندرونی سازشوں سے محفوظ ہوجائیں گے اور عین مسلم قلب میں ان کی موجودگی سے مسلم ممالک بھی تنازعے اور جنگوں کا شکار ہوجائیں گے۔،یاد رہے کہ برطانیہ اس وقت کی سب سے زیادہ طاقتور قوم تھی۔ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور کے ۱۹۱۷کے اعلان بالفور کے بعد ، اس وقت سے۲۰۱۸ ءتک تقریبا ایک سو سال تک تمام عرب ممالک ایک ہی سخت موقف رکھتے تھے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست اور ناجائز وجودہے ،اور یہودیوں کو فلسطینی سرزمین میں باقاعدہ منصوبے کے ساتھ بسانا فلسطینی عربوں کے ساتھ بدترین ظلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کی جنگوں اور جھڑپوں کے سلسلےکا جاری رہنا تب ایک عام سی بات تھی۔ کوئی بھی عرب ملک انہیں اپنے درمیان دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔جیسے وہ عیسائیوں کے لئے ایک اچھوت تھے ،اسی طرح وہ عرب مسلمانوں کے لہے بھی اچھوت تھے ۔ چنانچہ ان ممالک کے اسی اصولی موقف کے باعث فلسطینی بھی خود کو بہت مضبوط محسوس کرتے تھے۔
بعد ازاں مئی ۱۹۴۸ میں اسرائیل کے یکطرفہ اعلان قیام کے بعد بھی یہ عرب ممالک ہی تھے جہاں مظلوم فلسطینیوں کو پناہ مل جا یاکرتی تھی۔ لبنان ، شام ،عراق ،اور کویت وغیرہ ۔، اس دور تک سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کا ہر ملک ان کا پشتیبان تھا۔فلسطین کے قضئےمیں پی ایل او Palestine Liberation Organisatio اور اس کے سربراہ کا کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یاسر عرفات نے بھی اسرائل کی بہت مزاحمت کی تھی۔اسی دور میں ایک فلسطینی خاتون لیلی خالد نے “ٹرانس ورلڈ” کا اسرائل کی طرف جانےوالا ایک طیارہ اغوا کیاتھا اور دنیا کی پہلی طیارہ اغوا کنندہ خاتون بنی تھی ۔ یاسر عرفات کی تنظیم مذہبی نہیں تھی بلکہ عرب قومیت کی نمائدگی کرتی تھی۔ لیکن ۴۰سالہ سخت مزاحمت کے بعدبھی عالمی طاقتوں کی کل حمایت صرف اسرائل ہی کو حاصل رہی۔ اورجب حسب سابق فلسطینیوں کی ایک بات بھی نہ سنی گئی تو مزاحمت کی طاقتور علامت، یاسر عرفات بھی نرم پڑتے گئے یہاں تک کہ ا یک امریکی مصنف رون ڈیوڈ کے مطابق یاسر ہر وہ بات مانتا رہا جس کا عالمی طاقتیں اس سے مطالبہ کرتی رہیں۔(کتاب قومیں جو دھوکہ دیتی رہیں۔ ترجمہ راقم)۔اسی باعث یاسرسے پھر فلسطینیوں اور مسلمانوں کی دلچسپی بھی ختم ہوتی گئی۔ لگ رہا تھا جیسے فلسطین اب اسرائیل کا مکمل غلام بن کر ہی رہے گا۔
تاہم اسی کے بعد عین یاسر عرفات کی زندگی ہی میں فلسطین ہی میں مسلم جہادی نوجوانوں کی ایک نئی مزاحمتی تنظیم “حماس” ابھر کے سامنے آئی جس نے بے شمار شہادتوں کے باوجود اسرائیل اور بڑی قوتوں کی اطاعت کرنے سے انکا ر کردیا۔ عراق نے بھی اسی دشمن کی وجہ سے خود کو ایٹمی قوت بنانے کی طرف پیش قدمی کی تھی جسے بعد میں اسرائیل نے تہس نہس کردیا تھا۔اسرائیل بھی اسی باعث اپنی بقا کی طرف سے خود کو غیر محفوظ سمجھتا تھا ۔عالمی طاقتوں کا منصوبہ چونکہ خود مسلم ممالک کو بھی کمزور کرنا تھا ،اس لئے اسرائیل کی مکمل مدد کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ وہ مسلم حکومتوں کو اسرائیل کی جانب گنجایش پید اکرنےپربھی زور دیتےرہتےتھے۔ ستر کی دہائ تک تمام عرب ممالک اسرائیل کو رستا ہو اناسورہی سمجھتےتھے
مگر ۱۹۷۰ کی اسرائیل مصر جنگ کے بعد ، جس میں اسرائیل نے بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مصر اور اردن کے چھینے ہوئے علاقے واپس کرنے سے انکار کردیا تھا، اور جس میں سب سے زیادہ ہزیمت جمال ناصر اور اس کے ملک ،مصر ہی کو ہوئی تھی، مصر نے خود کو اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے اور اپنے قدیم اصولی موقف سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ حتی کہ۱۹۷۹میں کیمپ ڈیوڈ امریکہ میں صدر کارٹرنے اسرائیلی صدرمناہم بیگن اور مصری صدانور السادات سے اپنی حالت ِجنگ ختم کرنے کا اعلان کروا ہی لیا ۔چنانچہ اسرائیل کو تسلیم کرکے مصر نے اس سے سفارتی تعلقات بھی قائم کرلئے۔تاہم اس کا نتیجہ انورالسادات کے قتل کی صورت میں نکلا۔اکتوبر ۱۹۸۱ میں فوجی پریڈکے دوران اسی کے ایک فوجی نے اس پر پورا ایک برسٹ خالی کردیا ۔دوسری طرف نومبر ۱۹۹۵ میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحق رابن کو بھی اسرئیلی جنونیوں نے قتل کردیا ۔ باقی عرب ممالک نے اس معاملے میں مصرکا عرصہ ء دراز تک بائیکاٹ کئے رکھا ۔
سوچا جاسکتا ہے کہ اس دورتک مسلم حکومتوں میں اسرائیل سے نفرت کا عنصر باقی ہی تھا۔یوں مصر تمام عرب اور مسلم دنیا سے کٹ کر تنہا رہ گیا۔ بعد ازاں عشرے دو عشرے تک عرب ممالک میں خاموشی چھائی رہی۔ مگر عالمی طاقتیں چین سے بیٹھی ہوئی نہیں تھیں۔ درمیان میں عربوں کو رام کرنے کے لئے انہوں نے یکایک’’ دو ریاستی ‘‘فارمولہ پیش کیا کہ اسرائیل میں صرف ایک یہودی حکومت ہی نہیں بلکہ دوسری ضمنی حکومت فلسطینیوں کی بھی ہونی چاہئے۔تاہم یہ مختصر حکومت اسرائیلی متعصب حکومت کے آگے سنبھل نہ سکی اور دو حکومتی فارمولہ بھی دم توڑ گیا۔پھر یہیں سے عرب حکومتوں کی رائے صیہونیوں کے حق میں مڑنی شروع ہوئی۔ مارچ ۲۰۲۱ میں متحدہ عرب امارات نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کل کے غاصب اور دشمن ملک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا سرکاری اعلان کیا۔ مسلم دنیا کے لئیے یہ ایک خوف ناک دھماکہ تھا۔ ادھرپس پردہ اسرائیل اور امریکہ ، سعودی عرب پر بھی مسلسل دبائو ڈالتے رہے ہیں ۔ نئی سعودی قیادت نے جو پہلے ہی مغربی تہذیب سے چکا چوند مرعوب ہے، آہستہ آہستہ دبائو کو قبول کرنا شروع کردیا اور اپنے سابقہ سرکاری خیالات کے برعکس ، پہلے حماس کو دہشت گرد قرار دیا اور بعد ازاں اسرائیل کے لئیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے اپنی فضا ئی حدود سے اسرائیلی جہازوں کو آ مدورفت کی اجازت بھی دے دی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے پس پردہ مذاکرات بہر حال جاری ہی رہتے ہیں۔

سعودی حکومت صرف اس خوف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے دور ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے خود ساختہ علمبردار ہونے کی وجہ سے سعودی عوام کہیں ان کے خاندان کو تخت شاہی سے سدا کے لئیے محروم نہ کردیں۔ اس کے بعد بس اب پاکستان ہی کی باری ہے۔ کئی عشروں سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی خاطر وقتا فوقتاً فیلرس چھوڑے بھی جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف عربوں کا ہے۔ اور یہ ممالک بھی جب اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں تو ان سے ہٹ کر دنیا میں ہم کب تک تنہا رہ سکتے ہیں؟۔تنہا ؟ یعنی کیا مطلب ؟ ۔اب تک تنہا رہے تو ہم نے اپناکیا نقصان کرلیا؟ بلکہ بہت آگے ہی چلے گئے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہم پیچھےکیسے رہ سکتے ہیں؟ایک سمجھ میں نہ آنے والا معمہ ہے۔عرب ممالک میں سے بھی کوئی ملک گذشتہ ۷۴ سالوں میں ایک انچ اپنی ترقی میں پیچھے نہیں رہا۔
کتنی دکھ بھری داستان ہے کہ عرب ممالک اپنے عشروں پرانے درست بیانئے سے بھی ہٹتے چلے جارہے اور اسرائیل کے بارے میں خودا پنی ہی تسلیم شدہ دہشت گردی اور قبضہ گیری کو تسلیم کئے جارہے ہیں؟

نام نہادعرب مسلم حکومتوں سے یہ سوال پوچھنا بھی ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ جو اس قدر کثیر زرمبادلہ بھاری اسلحے اورجدید جنگی طیاروں کی خرید پر ہرسال ملسل خرچ کرتےہیں تو وہ کون سا دشمن ہے جس کے خلاف وہ یہ تیاریاں کرتے رہتے ہیں؟ ۔کیا یمن اور ایران جو مسلم ممالک ہی ہیں؟ ۔ تمہار ادشمن تو تمارے سامنے موجود ہے جس کی بربریت سے تم ہر صبح و شام گذرتے ہی رہتے ہو۔َ تو یہ اسلحہ تم انسانیت دشمن اسرائیل کے خلاف استعمال کیوں نہیں کرتے؟ اس نے بغیر جنگ و جدل کے ہی خود ہی زیر کرلیاہے؟۔سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ آٹھ عشروں کی فلسطینیوں کی ہمہ گیر و مسلسل مزاحمت، اورعرب ممالک کی سابقہ اخلاقی و مالی امدد بھی امریکیوں اور اسرائیلیوں سے فلسطین کو حقوق نہ دلواسکی تو اسے تسلیم کرکے ہم یا عرب ممالک کیا حاصل کرسکیں گے؟ ۔ گویا “اصول اور انصاف”, اسلام اور عالمی امن میں اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ جہاں تک موجودہ پاکستانی حکومت کے نظریات کا سوال ہے، بے شک اس کے وزیر خارجہ نے غزہ کی حالیہ صورت حال پر بہت عمدگی کے ساتھ اسرائیل کی مذمت کی تھی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر نئی حکومت، سابقہ پالیسیوں سے منہ موڑ لیتی ہے۔ خارجی ، مذہبی، اقتصادی، اور تعلیمی وغیرہ ، ہماری کوئ بھی پالیسی دائمی نہیں ہے ۔ اس لئیے حق الیقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کل ہماری سرکاری پالیسی کیا ہوگی! دنیا کے ممالک اپنا بیانیہ لے کر ہی آگے چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیاں ہر حکومت میں کم و بیش یکساں ہی رہتی ہیں۔ ان کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے۔
لطف یہ کہ فلسطینی حضرات بھی نسل در نسل عرب ہیں اور باقی عرب ممالک بھی نسل در نسل عرب ہیں ۔لیکن خود عربوں نے بھی اپنے مظلوم پڑوسی عربوں سے قطع تعلق کرلیا اور قصائیوں کے آگے انہیں ذبح ہونے کے لئے کھلاچھوڑ دیاہے ۔

فلسطین اسرائیل قضئیے کو محض عربوں کا مسئلہ قرار دینے والے تمام مسلم دانشمند، جان بوچھ کر قبلہ اول ، مسجداقصی کو اس میں سے نکال دیتے ہیں تاکہ یہ محض ایک مقامی مسئلہ بن کے رہ جائے۔نہیں بھولنا چاہئے کہ سفارتی عملے و سفارت خانے کو بہت ساری بین الاقوامی چھوٹ اور رعایتیں حاصل ہوتی ہیں جن کی آڑ میں یہ سفارت خانے لاتعداد گھنائونے کھیل کھیل لیتے ہیں جیسا کہ کبھی کبھی ہم بھارتی سفارتی عملے پر شک کرتے ہی رہتے ہیں۔ اور جیسا کہ سعودی عرب نے انقرہ ترکی میں جا کر اپنے ہی شہری کو خفیہ طور پر قتل کردینے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کیا تھا۔ اس بنیاد پراسرائیلی سفارت خانہ بھی بعد میں ہمارے لئیے وبال جان بن کر سامنے آئے گا۔ ان غیر ملکی سفارت خانوں سے روزانہ کی بنیاد پر مراسلات اور اپ ڈیٹس اپنے اپنے ممالک کو بھیجے جاتے ہی ہیں۔
عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا خود ان کے اپنے اندرونی مسائل و اذیت رسانی کا سبب بنے گا جبکہ امت مسلمہ اس فیصلے سے بہت دکھی بھی ہے۔ تمام عرب ممالک کو ا پنی محبت کا اسیر بنا لینے کے بعد اسرائیل کو بھلا کتنی دیر لگے گی کہ وہ نعوذ باللہ مسجد اقصیٰ کو بھی زمین بوس کردے؟۔ اس مقدس مسجد کو وہ ویسے ہی زمین پر بوجھ جانتے اور اپنے تمام منصوبوں کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔اسرائیل اور صیہونیوں کا ماضی بربریت سے بھر اہوا ہے جس پر کتابوں کی کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔ سو جوملک و فرد بھی ایسی قوم سے و فا کی امید رکھتا ہے ، احمقوں کی جنت میں رہتا اور مسلمانوں کی جڑیں کھودتا ہے۔ یہی اسرائیل ہے جس نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو بمباری کرکے تباہ کیا تھا ، یہی اسرائیل ہے جس نے آج تک کم از کم پچیس نامور مسلم سائسدانوں کو قتل کیا ہے جن میں سے بعض کو تو اس نےانہی کے ممالک میں گھس کر شہید کیا تھا،اوریہی اسرائیل ہے جس نے اردن اور مصر کے قبضہ شدہ علاقے ،بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہت ڈھٹائی سے اب تک اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے۔
نہیں سمجھ میں آتا کہ مسلم ممالک عموماِ، اور عرب ممالک خصوصاَ،َ اسرائیل کو تسیم کر نے کی خاطر بےچین ہو تے ہوئےسازشوں سے بھری ہوئی، پہلے اسرائیل اوریہویوں کی تاریخ کا مطالعہ کیوں نہیں کرلیتے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں