144

پرندوں کی دنیا۔ہجرت

رضی الدین سید

پرندوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ان پرندوں کی ہے جو روس اور سائبیریا جیسے سردبرفانی علاقوںمیں رہتے ہیں۔ سال کے بڑے حصے میں وہاں برف جمی رہتی ہے جس کے باعث ان کے لئے خوراک کی کمی کا مسئلہ درپیش ہو تاہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ پرندوں کی بہت ہی مرغوب غذا کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں وہ اپنا ٹانک سمجھتے ہیں۔ برف جمی رہنے کے باعث عام خوراک کے ساتھ ساتھ یہ کیڑ ے بھی انہیں دستیا ب نہیں رہتے۔ آشیانہ بندی کا کام بھی سخت متائثر ہوتاہے۔ چنانچہ اپنے بچائو اور بقائے نسل کی خاطر وہ گرم ممالک ، ہندوستان، پاکستان، اور سری لنکا، بنگلہ دیش،اور مشرقِ بعید کی جانب خود کو ہجرت پر مجبور پاتے ہیں۔ہر سال کی یہ طویل ہجرت اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کر رکھی ہے۔
یہ ہجرت محیر العقول ہے کیونکہ کس طرح وہ اس قدرہزاروں میلوں کی ،(بعض اوقات چودہ و پندرہ ہزار میل کی)طویل مسافت طے کرتے ہیں، کس طرح وہ اپنے ہدف شدہ علاقوں کی جانب ہجرت کرتے ،اور پھر گرم دنوں میں واپس اپنے اپنے رہائشی ممالک میں پہنچ جاتے ہیں؟۔بظاہر ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے اور حیاتیاتی سائنس دان بھی آج تک ان کی مکمل فطرت نہیں سمجھ سکے ہیں۔ لیکن سینکڑوں سالوں سے جاری مسلسل ہجرت احساس دلاتی ہے کہ یقیناََکوئی بڑی قوت اس عمل کے پس پردہ ہے۔ وہ جو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن دیکھی دیکھی سی بھی دکھائی دیتی ہے۔البتہ جوبے خدا مغربی سائنس دان ہیں،انہیں وہ بالکل نظر نہیں آتی۔اپنی سائنسی تحقیق میں انہوں نے شاید ہی کبھی کائنات کو سنبھالنے والے پروردگار کا ذکر کیا ہو۔مگر یہی لو گ ہیں جنہوں نے لگاتار تحقیق کرکے دنیا کو پرندوں کی یہ تمام سائنس باورکروائی ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ اپنی یہ ہجرت وہ اپنی دماغی صلاحیتوں اور سورج و ستاروں کی روشنی کی مدد سے کیا کرتے ہیں۔یہ بھی پتہ چلاہے کہ یہ معصوم مخلوق ماحول کی مہک اور بوسے بھی رہنمائی لیتے ہیں۔ دنیا کے دس ہزار اقسام ِ پرند میں سے ۱۸۰۰ ،اقسام کے پرندے وہ ہیں جو ہجرت پر مجبور رہتے ہیں، خواہ رکاوٹیں کیسی ہی کیوں نہ ہوں!۔اسی دوران وہ انڈے بھی دیتے ہیں اور بچے بھی پرورش کرتے ہیں۔ البتہ اس قدر لمبی مسافت لگاتار نہیںطے کرتے بلکہ وقفے وقفے سے مناسب مقامات Habitats پر اترتے اورچند روزہ آرام کرتے ہیں۔دوران ِ پرواز یہ معصوم سی جانیں مختلف آوازیں بھی نکالتے ہیں جوگویا ان کے لیے حدی خوانی کا کام انجام دیتی ہیںاور ان کے تمام ریوڑ کو باہم مجتمع بھی رکھتی ہیں۔ Habitats وہ مقامات کہلاتے ہیں جہاں پانی ، غذا،خوشگوارموسم،درخت، کیڑے مکوڑے ،اور حفاظت تمام سہولتیں ایک ساتھ موجود ہوں۔ہر پرواز سے قبل وہ خورا ک کا کافی ذخیرہ چربی کی شکل میںاپنے جسم میں ذخیرہ کرلیتے ہیں۔
بعض ا وقات انہیں اپنی منزل ِ مقصود (گرم علاقوں ) تک پہنچنے میں ایک سے دو مہینے بھی لگ جاتے ہیں جبکہ بعض پرندے ۱۴ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرلیتے ہیں۔ زیادہ تر ہجرت ان کی دن کی روشنی میں ہوتی ہے۔پرندوں کے ذہنوں میں ہجرتی راستوں کا نقشہ پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے جبکہ دوران ِ پر وازاوہ اپنی نظروں ،قوت ِ شامہ (سونگھنے کی حس)اور صلاحیتو ں کا بہترین اورچوکس استعمال کرتے اور مقناطیسی لہروں کو خو ب محسوس کرتے ہیں۔سمندر پر ان کی بلندی کم اور زمین پر زیادہ ہوتی ہے ۔ نوٹ کیا گیا ہے کہ ۶۰۰ میٹر کی بلندی پر بھی ان کے حادثات ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ دوران ِ پرواز ان کے پر ٹوٹتے بھی رہتے ہیں۔تاہم ’’ہیبی ٹاٹ‘‘ پر وقفے کے دوران انہیں اپنے ٹوٹے ہوئے پر دوبارہ حاصل ہوجاتے ہیں۔اجتماعی پرواز ان کا دانستہ فیصلہ ہوتا ہے تاکہ ایک تو حوصلہ باقی رہے اور دوم شکار سے بھی محفوظ رہیں۔بعض اوقات پرندوں کاایک غول ایک میل سے بھی زیادہ کا گھیر لیتا ہے جس سے آسمان پر کسی قدر تاریکی چھا جاتی ہے۔ طوفان، دھواں، جنگلوں کی آگ، انسانی شکار، ہوائی چکیاں،مواصلاتی ٹاور، اورپٹرول نکالنے کی بڑی مشینںان کے راستے کی بڑی رکاوٹیں ثابت ہوئی ہیں۔
ان کی ہمت پرواز اور راستہء سفر ہزاروں سال سے ایک ہی رہتا ہے۔دن میں زمین کی ساخت، مختلف نشانیاں مثلاََ عمارتیں ا ورمیدان وغیرہ ان کی کافی مدد کرتے ہیں۔سائنس دانوں نے ان کی فطرت جانچنے کی خاطر ان میں سے بعض کو تجرباتی طور پر پکڑکر جہاز سے کافی فاصلے پر فضا میں چھوڑا لیکن حیرت انگیز طور پر اپنی ذہانت ، نظروں ،اوررقوت شامہ کے باعث چند دنوں کے بعد وہ دوبارہ اپنے اصل رہائشی مقام پر لوٹ آئے جس دوران انہوں نے روزانہ ۲۵۰ میل کاسفر بھی طے کیا تھا ۔
اپنے طے شدہ ہجرتی مقام پر پہنچنے کے بعد وہ خوش وتروتازہ ہوتے ہیں جبکہ ان کے نر شہوانی قوت کو بڑھانے کے لئے طاقت ور کیڑے کھا تے ہیں۔ اگر کسی نے کھیتوں میں کسان کو ہل چلاتے ہوئے دیکھاہو تو وہ یہ سوچ کر حیران ہوا ہوگا کہ سفید مرغآبیاں کسان کے ہل کے پھل کے ساتھ زمین میں کس طرح چپک کر چلتی رہتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ کیا انہیں اس کا خوف نہیں ہوتا کہ ہل کے نیچے وہ کچلی جائٰیں؟۔ لیکن یہ مرغابیاں بہت ذہین ہوتی ہیں ۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ زمین کی کھدائی کے ساتھ ہی انہیں کھانے کے لئے نت نئے کیڑے بھی ہاتھ آئیں گے جو ا ن کی مرغوب غذاہے اور جو ان کے لئے ٹانک کا درجہ رکھتی ہیں۔
ہجرت کے دوران یہ ایک بڑے غول کی صورت میں  اجتماعی پرواز کرتےہیں اور تمام راستے گنگناتے اور آوازیں نکالتے چلتے ہیں تاکہ ایک تو وہ باہم مجتمع رہیں ،کوئی ایک ساتھی بھی ادھر سے ادھر نہ ہو،اوردوسرے سفر کی تھکن کا احساس بھی انہیں کم سے کم ہو۔ یہ ان کا ایک عمدہ فن ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اتفاق سے دوران تحریر ہی مارچ کے اوائل میں ہم نے صبح صبح اچانک محسوس کیا کہ گنگنانے کی ایک نئ مدھم مدھم سی آواز کہیں سے آرہی ہے۔ ادھرادھر دیکھا تو کچھ بھی نہ پایا۔ پھرنظر اچانک آسمان پر گئی تو پرندوں کی ہجرت کا حقیقی مشاہدہ سامنے آگیا۔ بے شمار ملگجی مرغابیاں اوپر آسمان میں ایک بڑے دائرہ نما غول کی صورت میں ہمارے اوپر سے گذررہی ہیں۔ گنگنانے HUMMING کی یہ مسلسل آوازیں دراصل انہی مرغابیوں کی تھیں۔ ہم حیرت سے ڈوب گئے اور زبان پر بے ساختہ سبحان اللہ کے الفاظ جاری ہوگئے۔
اچھے ممالک اپنے ہاں ان پرندوں کے شکا ر پر سخت پابندی عائد کرتے ہیں تاکہ علاقے کا حسن برقرا ررہے۔پاکستان میں بھی کچھ ایسے ہی قوانین موجود ہیں لیکن حکمرانوں نے خودہی ان قوانین کی کبھی پابندی نہیں کی ہے اور وہ شکار کی عام اجازت دیتے ہیں۔دوسری جانب بعض عرب ممالک کے حکومتی ارکا ن خصوصی طور پر انہی پرندوں کے شکار کے لئے پاکستان آتے رہتے ہیں جنہیں ہماری حکومت کی جانب سے آزادانہ لائسنس عطا کئے جاتے ہیں۔اس طرح ان معصوم پرندوں کی نسل کشی ہوتی ہے اور وہ ان علاقوں کی طرف آنے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔
پرندوں کی دنیا حیرتوں کاایک گہرا سمندر ہے۔
چند دیگر دلچسپ حقائق
۱)۔ ہر پرندے اور جانور کو اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی گذارنے کاعلم خصوصی طور پر الہام کیا ہے۔ چنانچہ وہ اسی غیر محسوس الہام کے تحت اپنی تمام زندگی آرام سے گذار لیتاہے۔اور اسے کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی۔ شہد کی مکھیاں اسی باعث دور دراز فاصلوں سے واپس اپنے ہی گھونسلے میں آتی ہیں خواہ راستے میں کوئی دوسرا چھتہ بھی ایسا ہی موجود ہو۔
۲)۔ فارمی مرغیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میںہر دس مرغی پر ایک مرغا طے کیا جاتا ہے جو اس مرغے کا حرم کہلاتی ہیں۔قدرتی شناخت کے بعدیہ مرغیاں اپنے حرم سے باہر نہیں جاتیںاور ان میں کی ہر مرغی اپنے مجازی ’’خدا‘‘ کو خوب شناخت بھی کرتی ہے۔
۳)۔ پرندوں کے بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں تو انہیں اڑنا سکھانے کی خاطر ماں وہاں مسلسل نگرانی کرتی ہے تا کہ ننھے بچے کہیں گرنہ جائیں یا انہیں کوئی اچک کر نہ لے جائے۔ گھونسلے سے دور کسی ٹہنی یا چھجے پر بیٹھی ماں،اپنے ننھوں کو پر پھیلاتے اور اوپر نیچے کی قریبی شاخوں پر چھلانگ لگاتے دیکھ دیکھ کے خوش ہوتی رہتی ہے ۔آخر دو تین دن کی مسلسل مشق کے بعد بچوں میں جب گرنے اور ڈرنے کا خوف ختم ہوجاتاہے تو ماں مطمئن ہوکر ان سے الگ ہوجاتی ہے اور وہ بچے ایک بالغ جوڑے کی صورت میں آزاد فضائوں میں اعلیحدہ زندگی گذارنے لگتے ہیں۔
۴)۔ پرندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ تالابوں اور جوہڑوں میں وہ وقتاََفوقتاَ نہاتے بھی ہیں۔ ہم سب نے انہیں اکثرڈبکی لگاتے اور پروں کو پھڑ پھڑاتے لاتعداد مرتبہ دیکھا ہے۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان َکے پروں پرپورے جسم میں ایک ہلکی سی قدرتی چکنائی موجود ہوتی ہے جس کے باعث ان کے پر پانی میں بھیگنے سے بچ جاتے ہیں۔
۵)۔انسانوں کی مانند انہیں بھی صفائی کاشوق لاحق ہوتاہے جس کے تحت وہ اپنے جسم کو پروں،چونچوں، اوردموں کے ذریعے وقفے وقفے سے صاف کرتے اور پسوئوں کو مارتے ہیں۔بلیوں میں یہ عادت ذرا زیادہ ہوتی ہے۔وہ ہر وقت ا پنے جسم کو زبان کی مدد سے چاٹتی یا صاف کرتی رہتی ہے۔
۶)۔ ایک انسان کو جس طرح اپنی زندگی کو متحرک رکھنے کے لئے لحمیات و روغنیات کی ضرورت ہوتی ہے ،اسی طرح مرغیوں کو بھی ان اجزا کی ضرورت لاحق رہتی ہے ۔اسی باعث ہم دیکھتے ہیںکہ دیسی مرغیاں دیواروں سے کھرچ کھرچ کر چونا اور مٹی کھاتی رہتی ہیں۔’فارمی سائنسی مرغیوں‘کے لئے اسی لئے ایک متوازن غذا تیا رکی جاتی ہے جس میں روغنیات، خون، گوشت،جوار،گندم، جست، پروٹین اور دیگر قوتی اجزا جان بوجھ کرشامل کئے جاتے ہیں تاکہ نشو ونما مطلوبہ نتائج دے سکے۔اسی لیے دور سے ہجرت کرکے آنے والی مرغابیاں کھیتوں میں کسی ہل چلانے والے کے ہل کے ساتھ ساتھ مسلسل چلتی رہتی ہیں تاکہ زمین کے اندر سے انہیں مقوی کیڑے حاصل ہوتے رہیں۔ یہ کیڑے ا ن کے لئے گویا سویٹ ڈش ثابت ہوتے ہیں
۷)۔کووّں میں اللہ تعالیٰ نے ایک وصف یہ رکھا ہے کہ مرنے والے اپنے ساتھی کا وہ باقاعدہ ماتم کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ کبھی اگران کا کوئی ساتھی زمین میں مراہوا پایا جائے تو اس کا ماتم کرنے کے لئے دیگر کوّے بھی نہ جانے کہاں کہاں سے وہاں آن موجود ہوتے ہیں۔
۸)۔ اڑنے والے پرندے رات کو عام طور پر بجلی کے تاروں یا درخت کی شاخوں پر سوتے ہیں جبکہ انہیں نہ توکوئی کرنٹ لگتاہے اور نہ وہ نیچے گرتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ پرندوں کے جسم بنائے ہی ایسے گئے ہیں کہ وہ بجلی کے اچھے’ کنڈکٹر‘ نہیں ہوتے ۔یعنی بجلی کا کرنٹ تاروں سے بغیر ان کے جسم کو چھوئے بآسانی گذرجاتا ہے اور وہ بلا خوف سوئے رہتے ہیں۔ دوم جب وہ کسی شاخ پر سونے کے لئے بیٹھتے ہیں تو اپنے لمبے پنجے ایک دوسرے کے اندر بری طرح پیوست کرلیتے ہیں۔اس طرح کہ وہ ایک قسم کی آہنی گرفت بن جاتے ہیں جن کا علیحدہ ہوناآسان نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ پوری رات آرام سے درخت یا بجلی کے تار پر گزار لیتے ہیں۔
البتہ وہ آبی پرندے جن کا اوڑھنا بچھونا صرف پانی ہوتا ہے ،وہ اپنی نیند پانی کے اندر کھڑے کھڑے ہی پوری کرلیتے ہیں ۔مگر گرتے بالکل نہیں ہیں!۔ البتہ اس بات کا ضرور خیال ر کھتے ہیں کہ جگہ ایسی محفوظ ضرور ہو جہاں تک ا ن کے شکاریوںکی رسائی نہ ہو۔ کبھی کبھی جب ان کی چھٹی حس بیدار ہوتی ہے،تو پہلے پہل محض ایک آنکھ کھول کر جائزہ لیتے ہیں۔ اور پھر ماحول کو محفوظ جان کر دوبارہ نیند کی دنیا میں لوٹ جاتے ہیں۔
۹)۔ بطخیں عام طورپر اپنی ایک آنکھ کھلی رکھ کر ہی سوتی ہیں تاکہ کوئی شکاری انہیںبآسانی شکار نہ کرسکے۔
۱۰)۔شتر مرغ کے انڈے کو سخت اور قابل ِ طعام بنانے کے لئے دو گھنٹے تک ابالنا پڑتاہے۔
۱۱)۔ شتر مرغ کی آنکھ پرندوں کی نسل میں سب سے بڑی ہوتی ہے۔ یعنی ایک بلئیرڈ گیند کے جسامت جیسی!
۱۲)۔جنگ عظیم دوم تک کبوتر خفیہ پیغام رسانی کا کام بحسن و خوبی انجام دے لیتے تھے۔
پسینہ نہ نکالنے کی صلاحیت کی وجہ سے پرندہ باہر سے تین چوتھائی ہوا (سانس )اندر لیتاہے تاکہ اس کا جسم ٹھنڈا رہ سکے۔
۱۳)۔ پرندوںکی دنیا کا سب سے ذہین پرندہ کوا ہوتاہے۔ اسی لیے اسے سیانا کوا کہتے ہیں۔
۱۴)۔ شاہین کی آنکھ پرندوں میں سب سے تیز ہوتی ہے ۔وہ کئی میل کی بلندی سے بھی مطلوبہ شے کو دیکھ لیتا ہے۔ اور اس تک پہنچنے کے وقت تک اس قدر بلندی سے بھی مطلوبہ شے کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔
۱۵)۔ کبوتر کی ہڈیوں کا وزن ا س کے پروں کے مجموعی وزن سے بھی کم تر ہوتاہے۔
۱۶)۔ اونچائی میں سب سے بلندپرندہ شترمرغ ہے جو کبھی کبھی۳ میٹر تک بھی اونچا ہوتا ہے۔
۱۷)۔پینگوئین ہوا میں چھ فٹ تک چھلانگ لگا سکتاہے لیکن بیچارہ اُڑ نہیں سکتا۔
۱۸)۔پرندوں کی ہڈیاں اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں تاکہ ان کے اڑنے میں آسانی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اگران معصوم جانوں کو دنیا میں بھیجاہے ،اور ان کی عقل بہت محدودرکھی ہے، تو اس نے انہیں ان کی زندگی گزارنے کے مکمل سامان بھی عطاکئے ہیں جنہیں وہ اپنی فطرت سے خود ہی سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کا یہ شعر پرندوں پر کتناپورا اترتاہے کہ ؎
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ کرم ہے تیرا
مجھ کو گرنے نہیں دیتا ہے سہار ا تیرا!
حقیقت یہ ہے کہ پرندوں کی دنیا کا مطالعہ ایک بہت دلچسپ و معلوماتی شغل ہے بدقسمتی سے مسلمانوں میں جس کی مہم جوئی تقریباََنہ ہونے کے برابر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محض ایک قسم کے پرندے کی زندگی کے گہرے مطالعے ہی سے ہم اپنے پروردگار تک بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔

رضی الدین سید۔کراچی۔۲۶۴۶۱۰۹۔۰۳۳۱

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں