95

تحریک عدم اعتمادکی شرعی و قا نونی حیثیت

تحریک عدم اعتمادکی شرعی و قا نونی حیثیت

سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے کون سے عوامل ہیں جن کو جواز بنا کر تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی؟اگر تو یہ جواز شرعی وقانونی طور پر درست ہیں اور معاشرہ کے باشعور افراد کی اکثریت ان کو درست تصور کرتی ہو تو اس کا ساتھ دینا شرعی و قانونی طور پر واجب ہو جاتا ہے بلکہ یہ ایک مسلمان کا شرعی و قومی فریضہ بن جا تا ہے کہ وہ حق کا ساتھ دے اور حق کی گواہی کو ہرگز نہ چھپائے ۔ وہ عوامل ، وہ قابل قبول جواز یہ ہو سکتے ہیں کہ

1 ۔ کسی شرعی اصول و ضابطے کو کوئی خطرہ لاحق ہو ۔

2 ۔ حکومت کسی مجموعی قومی مفاد کے خلاف جا رہی ہو ۔

3 ۔ حکومتی اقدام سے ملکی خود مختاری اور سلامتی کو خطرہ ہو ۔

4 ۔ ملکی مفاد کو نظر انداز کر کے اغیار کے مفاد کو اہمیت دی جا رہی ہو ۔

ہر مجموعی قومی مفاداور قومی سلامتی کے ایشو پر عدم اعتماد قابل قبول ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی مجموعی قومی ایشو نہیں اور اپوریشن پارٹیاں اپنے اپنے ذاتی مفادات کو جواز بنا کر تحریک پیش کر رہی ہیں تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں بھی کبھی حکومت سے خوش اور پر اعتماد ہوئی ہیں ؟اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے حکومتی امور میں رخنہ ڈالنا ، روڑے اٹکانا ۔ اپوزیشن کا مطلب ہے حکومت کی ٹانگیں کھینچنا، حکومت کو کام نہ کرنے دینا، حکومت کو بہر صورت ناکامی کی طرف لے جانا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا، اس کی کامیابی کے ہر راستے پر بند باندھنا ، گاڑھا کھودنا اور ہمہ وقت حکومت کو ناکام کر کے، حکومت کو گرا کر خود براجمند ہونے کی سازش کرتے رہنا ۔ اپوریشن اور بھی ملکوں میں ہوتی ہے مگر جس طرح کی اپوریشن ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے ’’ فساد اور فتنہ‘‘ یعنی کبھی بھی ملک میں سکون نہیں ہونے دینا، ہمیشہ کوئی نہ کوئی فساد اور فتنہ برپا کرتے رہنا ہے اور ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کا جرم قرآن و حدیث کے نزدیک قتال ِ ناحق سے بھی بڑھ کر ہے جو آج کی شیطانی جمہوریت کھلے عام بڑے زور و شور سے کر رہی ہے ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ آپ کا کوئی اختلاف نہ بھی ہو پھر بھی بنانا پڑتا ہے اس لئے یہ سارا کھیل ایک محض جھوٹا پروپیگنڈہ ہوتا ہے جس کا عدلیہ اور دفاعیہ کو بغور جائزہ لےکر اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔ عدم اعتماد پیش کرنے کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ جب کوئی اپوریشن عدم اعتماد پیش کرے تو وہ عدم اعتماد کے نکات کی مکمل وضاحت کرے اور ان نکات کا قومی سلامتی سے متعلق ہونا ضروری ہے کہ کہاں کہاں اور کیاکیا حکومتی اقدام قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ؟اور پھر سپیکر یہ نکات بیک وقت عدلیہ ، دفاعیہ اور خفیہ ایجنسی کو بھیجے کہ حکومت پر قومی سلامتی کے یہ یہ نکات اٹھائے گئے ہیں ان کی تصدیق کی جائے کہ ان میں کتنی صداقت ہے؟اگر قومی سلامتی کے یہ ادارے ان نکات کی تصدیق کر دیں کہ واقعی یہ حکومتی اقدام قومی سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتے ہیں تو رائے شماری کےلئے یہ تحریک منظور کر لی جائے ۔ اگر کوئی قومی ایشو نہیں ہے تو اس پر ووٹنگ کی قطعاً اجازت نہیں دینی چاہیے تاکہ حکومت کے وقت کا ضیاع نہ ہوکیونکہ حکومت کے یہ آخری ڈیڑھ دو سال کام کرنے کے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے ہیں ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حالیہ عدم اعتماد کے پیچھے کون سے عوامل ہیں اور اس کا مفاد پاکستان کے عوام کو ہو گا یا سیاسی پارٹیوں کو؟ کون سے قومی جواز ہیں اور کیا عوام کا ان کے ساتھ کھڑے ہونا قومی فریضہ بنتا ہے؟پہلا جواز جو بیان کیا کہ کسی شرعی اصول و ضابطے کو خطرہ لاحق ہے ۔ کیا حقیقت میں ایسا ہے؟کیا واقعی حکومت سے کسی شرعی اصول کو کوئی خطرہ لاحق ہے؟ایسا بالکل نہیں ! بلکہ گذشتہ حکومتوں میں شرعی اصولوں کو خطرہ لاحق رہا ۔ کئی اصولوں میں من پسند ترمیم کی گئی ۔ شریفوں کی قیادت میں ختم نبوت ﷺ کے قوانین میں چھیڑ خوانی کی گئی ۔ عمران خان صاحب تو گذشتہ حکومتوں سے بڑھ کر قوم کو زیادہ دین کی طرف راغب کر رہے ہیں ۔ نظریہ پاکستان کی تکمیل ان کا عزم ہے ۔ آج خان صاحب پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ مذہبی کارڈ استعمال کر رہے ہیں تو میں ان حقیر غلام ذہنوں سے پوچھتا ہوں کہ بتائیں نظریہ پاکستان کیا تھا؟کیا نظریہ پاکستان اسلام کی بنیاد نہیں تھا؟اور خان صاحب انہی اسلام کے بنیادی اصولوں کی بات کر رہے ہیں جس کی ان کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ اور فضلو ملاں دیکھو ویسے تو بڑا دین کا ٹھیکیدار بنتا ہے اور جب دین کے بنیادی اصولوں کی بات ہو رہی ہے تو اسے آگ لگی ہوئی ہے، شریر شر پھیلانے کےلئے دوڑتا پھرتاہے ، فتنہ انگیز ملک میں فتنہ پیدا کر رہا ہے، قصور تمہارا نہیں ملاں جی! جب تمہارے باپ دادا نظریہ پاکستان کے مخالف تھے تو ان کی گندی مورثی اولادتکمیل پاکستان کی مخالف نہ ہو یہ کیسے ہو سکتاہے ؟میں تو سمجھتا ہوں کہ مولانا بذات ِ خود قومی سلامتی کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے جو پاکستان کا یوم آزادی منانا گناہ تصور کرتا ہے وہ پاکستان کا مخلص کیسے ہو سکتا ہے؟یہ اور اس کے اتحادی ن لیگی اور زر خواری اس کیٹگری ، اس قسم کے لوگ ہیں کہ اگر یہ کسی الیکشن میں دھاندلی کے ساتھ جیت جائیں تو یہ الیکشن ان کے نزدیک بہت ہی منصفانہ ہیں کیونکہ دھاندلی سے جیت جو ان کی ہوئی ہے ۔ لیکن اگر یہ کسی الیکشن میں دھاندلی کر کے بھی ہار جائیں تو ان کے نزدیک یہ الیکشن غیر منصفانہ ہے، ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، اقتدار ان کا حق تھا جو ان سے چھین لیا گیا ہے ۔ اگر عدلیہ سے کوئی فیصلہ ان کے حق میں آ جائے تو یہ فیصلہ بہت ہی منصفانہ اور غیر جانبدار ہے لیکن اگر کوئی فیصلہ ان کے خلاف آئے تو عدلیہ کی خیر نہیں ۔

گذشتہ اسمبلیوں میں اللہ و رسول ﷺ کی باتیں اور دین کی طرف رغبت سننے کو نہیں ملتی تھی مگر آج ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پائے کا اسلامی سکالر خطاب کر رہا ہو ۔ گذشتہ حکومتیں کسی انٹرنیشنل فورم پر دین کی بات کرنے ، اللہ و رسول ﷺ اور اسلام کا نام لینے سے ڈرتی تھیں اسلام کے مفاد کی بات کرنا تو بہت دور کی بات تھی ۔ اور عمران خان صاحب نے جس جرات اور بے باکی سے دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیشنل فورم پر اسلام کا مقدمہ لڑا،ناموس ِ رسالت ﷺ کا مقدمہ لڑا، اسلامک فوبیا کا مقدمہ لڑا اور جس کامیابی سے سرفراز ہوئے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ آج دنیا میں اسلام کی عزت بن رہی ہے، لوگ عمران خان صاحب کی شخصیت سے متاثر ہو کر اسلام کو قریب سے دیکھ رہے ہیں ، اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ناموس ِ رسالت ﷺ کی اہمیت و حساسیت کو دنیا مان چکی ہے اور انٹرنیشنل سطح پر باقاعدہ قانون بن رہا ہے تاکہ آئندہ کوئی ناموس ِ رسالت ﷺ پر حملہ کی جرات نہ کر سکے ۔ بڑے بڑے طاقتور ملکوں کے سربراہوں نے اس کی حساسیت کو سمجھا اور دنیا کو باور کروایا کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی کے خلاف عالمی قانون بنایا جائے ۔ دنیا اسلامک فوبیا پر 15مارچ’ جس روز نیوزی لینڈ میں ایک مسجد پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا ٗ کو اسلامک فو بیا کے خلاف عالمی دن قرار دے چکی ہے ۔ قلیل عرصہ میں اتنی بڑی کامیابیاں سمیٹنے پر قوم کو، خاص طور پر مذہبی طبقوں کو خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے تھا اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے گلی بازاروں میں ریلیوں کی صورت میں نکلنا چاہیے تھاکہ ایک تن تنہا شخص دنیا میں اسلام کی عزت و وقار کا باعث بن رہا ہے مگر مذہبی طبقوں کی طرف سے کوئی ایسا اقدام دیکھنے کو نہیں ملا جو ان کی کم ظرفی اور عصبیت پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ کہ انہیں اسلام کی عزت و وقار سے نہیں اپنی خودنمائی سے غرض ہے ۔ اگر انہیں صرف اسلام اور ناموس کے عزت و وقار سے غرض ہوتی تو خواہ جس کے ہاتھ سے بھی ہوتی یہ خوشی سے جھوم نہ اٹھتے ۔ ساری مسلم دنیا، ساری مسلم لیڈر شپ مان چکی ہے کہ خان صاحب اسلام کے ہیرو ہیں ، عرب میڈیا صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ اور نور الدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کے روپ میں دکھاکر ان کے ترانے گا رہا ہے اور یہاں کے خود غرض، خود نما بغض کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ اچھے کو اچھا کہنا بھی گوارا نہیں ۔ یاد رکھیں ! جو قوم اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرتی وہ تباہ ہو جاتی ہے ۔ اگر اس کے مقابلہ میں ایک ذرا برابر سی کامیابی اگر کوئی ملاں سمیٹتا، اگر کوئی دین اور ناموس کا ٹھیکیدار سمیٹتا تو آپ دیکھتے گلی بازاروں میں جگہ جگہ ریلیاں اور مبارکبادی کے بینرز آویزاں ہوتے، ہیرو، ہیرو، مجددِ ملت، مجاہد ملت اور پتہ نہیں کیا کیا القابات دے کر سر پر اٹھایا ہوتا ۔ یہی سب سے بڑی کم بختی ہے اس قوم کی کہ محراب و ممبر والوں کے دل و دماغ میں بڑئی رعنائی کے ساتھ رخنائی بھری ہوئی ہے اور وہ اپنی عصبیتی حدوں سے آگے نکل کر حق شناسی عبث خیال کرتے ہیں ۔ وہ اپنے جیسوں کے علاوہ کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنے کو تیار نہیں ۔ اس طبقہ کے یہی وہ اسلوب ہیں جو خدا کو پسند نہیں ہیں وگرنہ کیا وجہ ہے کہ خدا کے پسندیدہ ہونے کے باوجود خدا نے ان کو قوم کی قیادت کےلئے پسند نہیں کیا اس لئے کہ جن کی اپنی صفوں میں اتحاد نہ ہو وہ امت کا اتحاد کیسے کر سکتے ہیں ؟جن کی اپنی صفوں میں انتشار ہو وہ امت کو ایک پلیٹ فارم پر کیسے لا سکتے ہیں ؟برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کےلئے قدرت الہٰیہ نے ان کے مقابلہ میں ایک نڈر، خود دارلبرل شخص کا انتخاب کیا جسے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ۔ دانائے راز، حکیم امت، واقف ِ رموز ِ اسرارِ حقیقت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال علیہ الرحمہ کیوں قائد کو بے تابی سے خط لکھتے تھے کہ آپ کے سوا کوئی اسلامیان ہند کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتا آپ خدارا !واپس آئیں اور امہ کی قیادت کریں ؟انہیں امہ کی قیادت کےلئے بڑے بڑے نامور علماء اور گدیاں نظر نہیں آ رہی تھیں ؟وہ جانتے تھے کہ ان چمکتی ہوئی رگوں میں اتنا دم نہیں ہے کہ ملک و قوم کے لئے لڑ سکیں ۔ اگر تحریک پاکستان کی قیادت علماء کے ہاتھ ہوتی تو انہوں نے آپس میں ہی جائز اور ناجائز کے چکر میں لڑ مرنا تھا اور نہ ہی ان کی بات انگریز کے ایوانیوں میں سنی جانی تھی جن سے قیام پاکستان کا مطلب نکالنا مقصود تھا ۔ جن سے کوئی غرض نکالنا مقصود ہو قدرت ان کے مقابلہ انہی جیسی باعزم خود دار اور با اصول شخصیت کو لاتی ہے تاکہ اس کی بات ان کے ایوانیوں میں سنی جا سکے ۔ آج بھی قدرت کا یہی اصول کار فرما ہے ۔ آج بھی قدرت نے غربوں کے مقابلہ میں بظاہر انہی جیسا مگر اندر سے نڈر، بے باک، اسلامی فلاحی ریاست کے جذبہ سے سرشار با اصول اور خود دارشخصیت کو لا کھڑا کیا ہے جس کی بات ان کے ایوانیوں میں سنی بھی جاتی ہے اور مانی بھی جاتی ہے ۔ اور آج جب پچھتر سال گذرنے کے باوجود مسلمان قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول میں ناکام جا رہے تھے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے دردوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں تھاتو خدا نے پھر ایک نڈر، خود دار و بے باک لبرل شخص کا انتخاب کیا جسے عمران خان کہتے ہیں ۔ آج قدرت ایک بار پھر اسلامیان عالم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے اسی کامیاب تجربہ اور حکمت عملی کو دہرا رہی ہے جو قیام پاکستان میں کار آمد ثابت ہوئی اور انشاء اللہ یہ قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول میں بھی کارآمد ثابت ہوگی اور امت کے باہمی اتحاد ویکجہتی میں بھی ۔ اور یہ تحریک نہایت خوش اسلوبی سے اس طرف بڑھتی بھی نظر آر ہی ہے ۔ آج ملک کے ایوانوں میں ، اغیار کے فورمز پر علماء کی محافل سے زیادہ دین و ملت، ملک و قوم کی بقاء و سلامتی کی سنجیدہ کوششیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،قوم کی اخلاقی قدریں بڑھانے اور سنورنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جبکہ علماء کے خطابات شخصی فضائل و کمالات سے نکل ہی نہیں رہے ۔ آج قرآن کریم باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر سکولوں و کالجز اور یونیورسٹیز میں نافذ ہو رہا ہے، سیرت النبی ﷺ کا مضمون لازمی قرار دیا جا چکاہے ، رحمتہ العالمین اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، پردہ و طہارت، معاشرتی پاکیزگی پر ان کا مفصل بیان آ چکا ہے اور یہ ایک تن تنہا لبرل شخص ’’جسے مذہبی حلقوں کی طرف سے یہودی ایجنٹ کہا جاتا تھا ‘‘ کا کارنامہ ہے ۔ اس کے پیچھے کسی مذہبی حلقہ کا ہاتھ نہیں اور نہ ہی پچھتر سال گذرنے کے باوجود مذہبی حلقوں نے اس کا مطالبہ کیا کہ قرآن کریم کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر راج ہونا چاہیے ۔ یہ آواز اس لئے نہیں اٹھائی گئی ، یہ مطالبہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ اس سے ان کے مدارس کی حیثیت ختم ہو کر رہ جانی تھی جس سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو جانا تھا ۔

دوسرا جواز جو شروع میں بیان گیا وہ یہ کہ حکومت کسی مجموعی قومی مفاد کے خلاف جا رہی ہو ۔ ایسا بھی بالکل نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت سے کسی قومی مفاد کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ حکومت دنیاکے ہر فورم پر نہ صرف ملکی بلکہ عالم اسلام کے باہمی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنا رہی ہے ۔ موجودہ حکومت دنیا کے بڑے سے بڑے حکمران کے ساتھ برابری کی سطح پر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتی ہے کسی کے قدموں میں لیٹ کر نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے قدموں میں لیٹنے والوں کو تکلیف ہو رہی ہے کہ خان صاحب نے ان کے آقاو مولا امریکہ کو ABSOLUTELY NOT کیوں بولا ۔ ہمارے پیرو مرشد یورپین یونین کو کیوں کہا کہ ہم تمہارے غلام نہیں ہیں ۔ جو جو ان کے غلام ذہن تھے اس سے انہی کو تکلیف پہنچی ہے کہ ہمارے آقا کو ایسا جواب کیوں ملا ۔ غلام چہرے اور غلام ذہن قوم کے سامنے پوری طرح عیاں ہو گئے ہیں ۔ خود دار ذہن تو اس پر فخر کر رہے ہیں اور اپنے لیڈر پر نازاں ہیں ۔ اغیار کے سامنے لیٹ کر یا اپنی عزت و غیرت اورخودمختاری کو اس کے پاءوں تلے روند کر یا اس کی غلامی قبول کر کے کرسی بچا لیناکوئی بہادری نہیں اور یہ زندگی کوئی زندگی نہیں ،زندگی شیر کی بھی ہوتی ہے اور گیڈر کی بھی،زندگی عقاب کی بھی ہوتی ہے اور ممولے کی بھی، زندگی گھوڑے کی بھی ہوتی ہے اور گدھے کی بھی، زندگی مچھلی کی بھی ہوتی ہے اور غلاظت سے بھر ے کیڑے کی بھی،مگر زندگی، زندگی میں فرق ہے ۔ دنیا میں عزت کی زندگی سر اٹھا کر جینا ہے ، سر اٹھا کر چلنے کی تمنا ہے ، اپنی خودی کو بلند کرناہے، آزادی و خودمختاری سے لگاءو اور محبت ہے جو خا ن صاحب میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ خان صاحب جہاں جاتے ہیں اپنے قومی لباس میں جاتے ہیں ، دنیا بھر میں اپنے قومی لباس کی پہچان کروا رہے ہیں ۔ اپنے قومی مفاوات کے ساتھ ساتھ قومی لباس کو بھی اغیار کے لباس پر فوقیت دے رہے ہیں ۔ شریف لٹیرے اور زر خوار ڈاکو تو اپنے قومی لباس میں ملک سے باہر جانا اپنی ہتک سمجھتے تھے ۔

ایک انگریز مورخ ’’ نپولین (Napoleon) نے کہا تھا کہ’’ اگرسو کتے اکٹھے کرلیے جائیں اور ان کی قیادت ایک شیر کے ہاتھ دی جائے تو سارے شیر کی طرح لڑیں گے، اس کے برعکس اگر سو شیر اکٹھے کرلیے جائیں اور ان کی قیادت ایک کتے کے ہاتھ دے دی جائے تو سارے کتے کی موت مریں گے ۔ ‘‘

اور آج ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہماری قیادت ایک شیر کے ہاتھوں میں ہے ذہنی غلام کتوں کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ خان صاحب نے پورے عالم اسلام کو اپنے باہمی مفادات کے تحفظ اور اتحاد و یکجہتی کی سنجیدہ سوچ اورفکر دی ہے اور خود داری کی سمت کا تعین کیا ہے ۔ آج ملت اسلامیہ خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک مرکز پر آرہی ہے اور بات ایک طاقتور اسلامی بلاک کی طرف بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے بیرونی اسلام مخالف عناصر متحرک ہوئے ہیں اور اپوریشن کو آلہ کار بنا کر خان صاحب کی حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ وہ انہیں عالمی منظر نامہ سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اقتدار پھر اپنے غلام ذہنوں کو سوپنا چاہتے ہیں جو آج کی باشعور عوام ہرگز نہیں ہونے دے گی ۔

تیسرا جواز جو عدم اعتماد کے مد میں شروع میں پیش کیا گیا وہ یہ کہ حکومتی اقدام سے ملکی خود مختاری اور سلامتی کو خطرہ ہو ۔ ایسا بھی بالکل نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے ملکی دفاع اور خود مختاری کی ضامن عظیم پاک افواج حرکت میں آتیں ۔ خان صاحب ملک و ملت کے محافظ ہیں وہ کبھی بھی کسی سے بھی ملکی سلامتی اور قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ ہاں البتہ گذشتہ حکومتوں سے ایک نہیں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ انہوں نے ملکی قومی سلامتی کو بالکل داؤں پر لگا دیا، کرسی کی خاطر ملک کو دو لخت کروا دیا، کرسی بچا لی اور ملک کو تقسیم ہونے دیا ۔ محض ایک کرسی کی خاطر مشرقی اور مغربی پاکستان میں رخنہ کس نے ڈالا؟اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ کس لگایا؟کس نے پاکستان توڑا؟کون پاکستان توڑنے کا سبب بنا؟بھٹو ! جسے بڑا عظیم لیڈر کہا جاتا ہے ۔ کیا عظیم لیڈر شپ یہ ہوتی ہے کہ کرسی بچانے کی خاطر ملک کو تقسیم ہونے دیا جائے ۔ اور پھر اِسی عظیم لیڈر نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا نیشنلائزیشن کا قانون لا کر جس سے ساری انڈسٹری مایوس ہو کر ملک سے باہر منتقل ہو گئی ۔ پاکستان جو دنیا کی تیزی سے پروان چڑھتی ہوئی معیشت تھیں اور جرمنی جیسے ملک اس سے اپنی ترقی کے لئے قرض لیا کرتے تھے وہ معیشت پل بھر میں منہ کے بل آگری بڑے عظیم لیڈر کے بڑے عظیم اقدامات کی وجہ سے ۔ شرم آنی چاہیے ایسے ملک توڑنے والے اور اس کی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے والے کو عظیم لیڈر کہتے ہوئے ۔ عظیم لیڈر تد ہم مانتے جب وہ ملک کی تقسیم بھی بچاتا، اس کی معیشت بھی بچاتا اور کرسی بھی ۔ اور پھر وہ دوسرا بھگوڑالیگیوں کا عظیم لیڈر بھارت نواز، مجھے کیوں نکالا ایک نہیں کئی بار ملکی قومی کے سلامتی کے در پے ہوا ۔ کارگل پاکستان کی عظیم افواج فتح کر چکی تھیں اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑی تھی اور پھروہ پاک فوج کی فتح بھارت نواز نے بھارت جا کر معذرت کر تے ہوئے بھارت کو نواز دی اور پاک فوج کو کارگل خالی کرنے پر مجبور کیا ۔ پاک فوج کے سپہ سالار کا طیارہ پاکستان میں لینڈ کرنے سے روکا گیا، عدلیہ پر حملے کیے گئے ۔ ملک دشمن عناصر کو شادیوں پر مہمان خصوصی کا اعزاز دیا گیا، بھارت نواز بھارت جا کر تسلیم کرتا ہے کہ بھارت میں ہونے والی دہشتگردی میں پاکستان کی ایجنسیاں ملوث ہیں کیا یہ سب قومی سلامتی پر حملہ نہیں تھا؟ملک و قوم سے غداری نہیں تھی؟

چوتھا جواز جو شروع میں پیش کیا گیا وہ یہ کہ ملکی مفاد کو نظر انداز کر کے اغیار کے مفاد کو اہمیت دی جا رہی ہو تو یہ آج کون کر رہا ہے؟کون ملکی مفاد نظر انداز کر کے اغیار کے مفا کو اہمیت دے رہا ہے؟عدم اعتماد کس کی ایماء پر لایا گیا؟اس کے پیچھے کون سے بیرونی عوامل ہیں ؟کونسے بیرونی ہاتھ ہیں ؟کونسی بیرونی سازشیں ہیں ؟یہ اپوریشن سب جانتی ہے اور ان کی آلہ کار بن کر میدان میں نکلی ہے ۔ اگر فرض کیا خدانخوستہ کہ حکومت گر جاتی ہے تو کس کے مفاد نکلیں گے؟کس کے مفاد پورے ہوں گے وطن ِ عزیز کے یا ملک دشمن عناصر کے؟اپوزیشن کو تو صرف عہدے ملیں گے اور مفاد ملک دشمن عناصر کا پورے ہوں گے جو اس سازش اور تخریب کاری کے پیچھے ہیں پھر وہ تخریب کار ان کو اپنے اشاروں پر نچائیں گے جیسے آج ان کی شہ پر ناچ رہے ہیں ۔ اور میری ملت دیکھے کہ یہ کیامحض ایک عجب اتفاق ہے یا حقیقت کہ محب ِ وطن،ملی جذبہ سے سرشار محب ِملت عمران خان صاحب ملک دشمن عناصر کےلئے برے اور ناپسندیدہ ہیں اور بھارت نواز اور اس کی لیگ ملک دشمن عناصر کےلئے اچھی اور نہایت پسندیدہ ہے ۔ حافظ سعید ملک دشمن عناصر کے نزدیک کے نہایت بُرے اور بہت ہی ناپسندیدہ ہیں جبکہ شریر مولانا صاحب بہت ہی اچھے اور نہایت پسندیدہ ہیں ۔ ملت کو بہت گہرائی سے اس منطق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

اس بیرونی سا زش اور تخریب کاری کو کامیاب کرنے کےلئے جو انہوں نے تحریک انصاف کے رکن خریدے ہیں ان کے دوٹ کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہے ۔ کیا ان کا خود ساختہ اپنی پارٹی سے نکل کر دوسری پارٹی کو ووٹ دینا شرعی و قانونی طور پر جائز ہے ؟بالکل ہی نہیں ۔ شرعی طور پر کوئی بھی ممبر خود ساختہ کسی پارٹی کو دوٹ نہیں دے سکتا یا ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری میں نہیں جا سکتا ہے، کامیاب آزاد امیدوار بھی کوئی پارٹی جائن کرنے کا فیصلہ خود نہیں کر سکتا اس لئے کہ وہ اپنے حلقے کے لاکھوں لوگوں کے ووٹ اور رائے کا امین ہے مالک نہیں ۔ مالک خود ساختہ فیصلہ کر سکتا ہے امین نہیں کر سکتا ۔ امین پاس رکھی ہوئی امانت کو بیچ کر کھا نہیں سکتا ۔ اور جنہوں نے کسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے حلقہ کے لوگوں اور پارٹی دونوں کی رائے اور حقوق کا امین ہوتا ہے ۔ اس نے پارٹی اور حلقہ کے عوام کے حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوتا ہے اس لئے اس کا خود ساختہ اقدام دونوں کے ساتھ خیانت ہو گی ۔ ممبر اسمبلی کیونکہ وہ لاکھوں لوگوں کی رائے کا امین ہے، اس کے ووٹ کی طاقت لاکھوں لوگوں کے ووٹس کی وجہ سے ہے اور ہر شخص کی رائے اور ضمیر مختلف ہوتا ہے اس لئے شریعت اسلامیہ اسے کبھی تنہا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دے گی ۔ اس کے اگر کوئی ممبر ایک پارٹی سے دوسری میں جانا چاہتا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ اپنے حلقہ میں پورے حلقہ کے معززین کا اجلاس بلائے یا ہر حلقہ کی مجلس شوریٰ ہو جس میں حلقہ کے ہر محلہ اور دیہہ کے لوگ ہوں ، کو جمع کرے ، ایک غیر جانب دار منصف اور اوبزور (Observer)کے طور پر میڈیا کو بھی بلایا جائے اور ان کے سامنے پارٹی تبدیل کرنے کا معاملہ رکھ کر باقاعدہ ووٹنگ کروائی جائے اور منصف ووٹوں کا شمار کرکے جس طرف کے دوٹ زیادہ ہوں ان کے حق میں فیصلہ دے ۔ یہ طریقہ شرعی اور قانونی دونو ں لحاظ سے قابل قبول ہو گا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا اور خود ساختہ فیصلہ کرتا ہے تو امانت میں خیانت کا مرتکب ہو گا اور خیانت کرنے والوں کو قرآن کریم نے خائن کا لقب دیا ہے اور لعنت بھیجی ہے اور ان پر آئندہ کا اعتماد اور ان کی گواہی کو بھی رد کیا ہے ۔

وائے قومے کشتہء تدبیر غیر

کار او تخریب خود تعمیر غیر

حکیم الامت حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے یہاں بہت حکمت بھری باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ آج ہماری قوم غیروں کی تدابیر اور اشاروں پہ چل رہی ہے، اس قوم کا کام فقط یہ رہ گیا ہے کہ وہ خود اپنی قوم کی تخریب کاری کر کے غیروں کی تعمیر کر تاہے ۔

ہمارا دکھ اور رونا صرف یہی نہیں کہ ہماری سیاسی قیادت بک گئی بلکہ ہمارا دکھ، ہمارا رونا اور بھی زیادہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت بک جانے کے بعد اس کے دل میں احساس زیاں بھی باقی نہیں رہا اور یہی ہماری سب سے بڑی بد نصیبی و کم بختی ہے ۔ مال و متاع لٹ جائے تو پھر سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے مگر جب احساس ہی ختم ہو جائے تو قوموں کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے ۔ آج قوم انتشار و افتراق کا شکار ہے اور قوم کو منتشر کرنے والے عقل کے اندھے تفرقہ پرست علماء و سیاستدان خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں کہ ہم نے لوگوں کی کثیر تعداد اپنے اپنے اےجنڈے، مسلک اور عقیدے پر جمع کر دی ہے اور انہیں بانٹ کر، ان کے ذہنوں میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا ہے ۔ انہیں نہ کوئی دین و ملت کا احساس ہے نہ کوئی فکر ۔ ہاں فکر ہے تو صرف اپنی دنیا بنانے کی ، دین و ملت کی دنیا میں رفعت و سربلندی کی نہیں ۔ آج پوری قوم تناؤ اور الجھاؤ کا شکار ہے اور وہ اپنے مشترکہ مفاد کےلئے نہیں لڑتی بلکہ چند مخصوص ٹولوں ، لابیوں کے مفاد کےلئے لڑتی اور مرتی ہے ۔ اپنے ذاتی نہیں کسی کے مفاد کےلئے آپس میں دست و گریباں ہے ۔ جب کارواں اور قافلے کے اپنے لوگ ہی قاتلوں کے بھیس میں ہوں تو پھر محافظوں اور قاتلوں کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ جب چور اور چوکیدار میں شناخت ممکن نہ رہے تو پھر کارواں کو لٹنے سے کون روک سکتا ہے؟

آج قوم کی مثال آدھے پروں والے پرندوں کی سی ہے جب کوئی اٹھنے اور کچھ تدابیر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بڑے اس کا شکار کر لیتے ہیں ۔ جب کوئی جگانے والا قوم کو جگانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے دبوچ لیا جاتا ہے. علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے کہا تھا کہ آدھے پروں والا پرندہ جب بھی اڑنے کی کوشش کرتا ہے تو بلی اسے شکار کر لیتی ہے ۔ آج ہمارے بڑوں ، ڈویروں اور راہبروں نے پوری قوم کو آدھے پروں والا پرندہ بنا دیا ہے ۔ جب کوئی اڑنے اور قوم کو اڑانے کی کوشش کرتے ہیں توکئی بلیاں انہیں دبوچ لیتی ہیں ۔ آج قوم رات کی سیاہی میں ہی نہیں دن کے اجالوں میں بھی لٹ رہی ہے، قتل ہو رہی ہے، اس کے مفادات پہ ڈاکہ پڑ رہا ہے، اسے حقوق کو دبوچا جا رہاہے ۔ قوم کی حیثیت اب سمندر کی تہہ میں موجود ان کیکڑوں سے مختلف نہیں جو صرف بڑی مچھلیوں کی خوراک بننے کے لئے زندہ ہوتے ہیں ۔

آج قوم کو بدیانت و خود غرض حکمران، کرپٹ انتظامیہ،جھگڑالو اور تفرقہ پرست علماء و رہبر میسر ہیں جو خود غرض ہیں ، صرف اور صرف اپنا مفاد دےکھتے ہیں ، اپنا فروغ دےکھتے ہیں ۔ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کےلئے قوم کو آپس میں لڑاتے ہیں ۔ یہ صرف دنیا میں اپنا نام، شناخت اور وقار بنانا چاہتے ہیں ملت کا نہیں ۔ نتیجتاً آج بڑوں کے یہ وصف پوری قوم میں نمایاں نظر آتے ہیں کہ قوم مجموعی طور پر پیٹ پرست ہے، کوئی اپنے مفاد سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں ۔ آج پوری قوم مجموعی طور پر بدیانت، خود غرض، بد عنوان و کرپٹ، مفاد پرست نظر آتی ہے اور یہ قانون قدرت کا دستور ہے کہ بڑوں کے وصف چھوٹوں میں منتقل ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے وصف رعایا و عوام میں گردش کرتے ہیں ۔ استادوں اور راہبروں کے وصف شاگردوں میں ،جرنیل و سپہ سالار کے وصف اس کی افواج میں دےکھنے کو ملتے ہیں ۔ ظاہر ہے اولی الامرجو کریں گے تابع بھی وہی کچھ کر کے دیکھائیں گے ۔ اگر حکمران و رہبر، اولی الامر دیانتدار و راست باز ہو ں گے تو ےقینا عوام الناس بھی اس کی کچھ دیکھائی دے گی ۔ اگر کسی فوج کا سپہ سالار دلیر، بہادر اور دیانتدار ہو گا تو اس کا وصف پوری افواج میں دےکھنے کو ملے گا ۔ اگر اولی الامر عیار و مکار، دغا باز، بد عنوان اور کرپٹ ہو ں گے تو عوام ان سے کوسوں آگے ہوں گے جیسا کہ آج کا منظر نامہ اس کی عکاسی کرتا ہے ۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی افواج ایک معرکہ سے فاتح و کامران واپس لوٹیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مبارک باد دی اور آپ کے سامنے مال غنیمت کے انبار لگا دئیے ۔ کسی سپاہی نے ایک پائی خیانت نہیں کی تو سب دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے دریافت کیا حضور! یہ آنسو کیسے ؟آپ نے فرمایا اے علی! میں جو سب کچھ دیکھ رہا ہوں یہ اس پر خوشی کے آنسو ہیں ۔ تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا تاریخی جملہ کہا جو آج بھی سنہرے حروف میں جگمگا رہا ہے فرمایا ’’یہ سپاہیوں کی دیانت داری کا کرشمہ نہیں بلکہ آپ کی دیانت داری کا کرشمہ ہے ۔ آپ اگر دیانت دار نہ ہوتے تو سپاہیوں میں کبھی یہ وصف پیدا نہیں ہو سکتا تھا‘‘ ۔

یہ حقیقت ہے اگر سپہ سالار شیر اور بہادر نہیں ہو گا تو آپ کو افواج میں بھی یہ وصف نظر نہیں آئے گا ۔ اگر کسی حکمران میں یہ وصف نہیں ہو گا تو عوام میں بھی نہیں ہوگا ۔ اگر حکمران اور وڈیرے کرپٹ ہو ں گے تو عوام میں بھی آپ کوہر سو نظر آئیں ۔ اگر حکمران اور وڈیرے بد عنوان، بد دیانت ہوں گے تو عوام میں بھی نظر پڑھیں گے ۔ اگر حکمران سچے، دیانتدار اور راست باز نہیں ہوں گے تو عوام میں بھی یہ وصف دےکھنے کو نہیں ملے گا جیسا کہ آج ہم اپنے معاشرہ میں مجموعی طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ آج ہماری قوم اور افواج کی مثال بعینہ اسی طرح ہے کہ شیروں کی قیادت کئی کتے کر رہے ہیں ، بہادر و باہمت قوم کی قیادت بزدلوں کے ہاتھوں میں ہے اور نتیجتاً پوری قوم ، پوری ملت اسلامیہ کتوں کی طرح مر رہی ہے اور در در کی جھرکیں سہ رہی ہے ۔ ذلت و رسوائی، خواری و ناداری اسے سبھی اطراف سے چمٹی ہوئی ہے ۔
اٹھو کہ پھر حشر نہیں ہو گا دوبارہ
دوڑو کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا
موسم اچھا، پانی وافر مٹی بھی ذرخیز ہے
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقاں
اے مرد مسلماں اپنی خودی پہچاں
ان پر آشوب اور خطرناک حالات میں نوجوانوں سے ملتمس ہوں کہ خدارا! ہوس کے ناخن لیں ،خدارا! رسول اللہ ﷺ کی امت کا احساس کریں ، حق کا ساتھ دیں ، حق کے ساتھ کھڑے ہوں، اب موسم اچھا ہے کہ ملکی اعلیٰ قیادت یہ سوچ، یہ فکر لے کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے ایسے مواقع بار بار نہیں آتے، پھر ہزاروں سال نرگس کی طرح رونا پڑتا پے پھر جا کر کہیں کوئی دیدہ ور قوم کو ملتا ہے. آج حق تعالٰی نے دیدہ ور مہیا کیا ہے قوم کو یہ موقع ہےحق کی آواز بن کر، دین کا علم لے کر اعلیٰ قیادت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور اس کے قوت بازو بنیں. دین و ملت کی فکرو سوچ کو اپنے قلوب و اذہان میں جگہ دیں اور رسول اللہ ﷺ کے سچے جانثار اور مجاہد بنیں ، آپ رسول اللہ ﷺ کے چمن دین کے مالی اور گلشن ملت کے محافظ ہیں ۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے گلشن دین و ملت کی رکھوالی و پاسبانی نہیں کریں گے اور کون آ کر کرے گا؟آپ گلشن کے مالی کی طرح چمن پر نظر نہیں رکھیں گے تو اور کون رکھے گا؟آپ گلشن چمنستان رسالت کے ننھے پھول ہیں اور گلشن ہمیشہ ننھے پھولوں کے کھلنے سے ہی خوبصورت اور معطر ہو تا ہے، ننھے پھول ہی کھل کر چمن میں حقیقی نکھار پیدا کرتے ہیں ۔ اگر آپ اپنے کردار و عمل سے کھل کر رسول اللہ ﷺ کے چمن میں نکھار نہیں لائیں گے تو اور کون لائے گا؟آپ پھول کی پتیوں کی طرح اپنے پَر نہیں پھیلا ئیں گے اور کون پھیلائے گا؟کبھی کسی گلشن میں جا کر ننھے پرندوں کو دیکھاکہ وہ سب سے زیادہ آوازیں لگاتے ہیں ، خوب چہچہاتے اور شورو غل کرتے ہیں ، چمن میں ہر وقت اڑتے پھرتے ہیں ، چمن کے گوشہ گوشہ پر نظر رکھتے ہیں ، جہاں کہیں کوئی غیر معمولی اور خلاف فطرت چیز دیکھیں تو سارے اس کے گرد اکٹھے ہو کر خوب شور مچاتے ہیں تاکہ ان کے شور سے اور پرندے بھی جاگ جائیں اور ہوشیار ہو جائیں یہاں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے ۔

میرے بھائیو!کچھ اس ہی سبق عبرت حاصل کرو ۔ آپ گلشن رسالت مآب ﷺ کے ننھے پرندے ہیں ۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے گلشن ملت میں کچھ برا ہوتے دیکھ کر خوب آوازیں لگانی ہیں ، آپ نے زیادہ شور مچا کر سب کو خبردار و ہوشیار کرنا ہے، سب کو جگانا ہے ۔ اگر آپ یہ سب نہیں کریں گے اور کون کرے گا؟ہمیشہ چمن کے ننھے پودے ہی بڑھ کر چمن پہ سایہ فگن ہوتے ہیں اور گھنے ہو کر سب کو دھوپ کی تپش سے بچاؤ کےلئے سایہ فراہم کرتے ہیں ۔ بڑے اور تن آور درخت خزاں رسید ہو چکے ہیں ، ان کا سایہ گھنا نہیں رہا ہے ۔ ان بڑوں میں کچھ اپنے تن پر کھڑے تو نظر آتے ہیں مگر ان میں وہ حرارت باقی نہیں رہی جو آپ کے سینہ و وجود میں ہے ، جو آپ کے جوش و ولولہ میں ہے ۔ ہرا بھرالہلاہاتہ چمن جب خزاں کی نظر ہو جائے تو اسے پھرسے ہرا بھرا ہونے کےلئے مالی کی سخت محنت و جانفشانی اور وافر مقدار میں پانی کی ضرورت پڑتی ہے اور گلشن ملت کو وہ پانی آپ نے اپنے خون و پسینہ سے مہیا کرنا ہے ۔ گلشن ملت میں پھر سے نکھار لانے کےلئے آپ ملت کے نوجوانوں کی سخت محنت و جانفشانی درکار ہے ۔

نوجوان نسل ہی کسی قوم و مذہب کا سب سے قیمتی متاع اور گراں قدر سرمایہ ہوتی ہے جو قوموں کے حقیقی مشن کو لے کر آگے بڑھتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے دین و مشن کا سب سے قیمتی متاع اور بیش قیمت و گراں قدر سرمایہ آپ ہیں ۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے حقیقی مشن کو لے کر آگے بڑھنا ہے اور دنیا میں سربلند کرنا ہے اورپوری ملت اسلامیہ کو عزت و وقار عطا کرنا ہے تاکہ وہ دنیا میں چین و امن سے رہ سکیں اور سر اٹھا کر اپنی زندگیاں بسر کریں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے ۔ آؤ ! ہم ملت کے سب نوجواں مل کر یہ عہد کریں کہ

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخ برگِ گلاب

ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں