106

علماء کی سیاست اور بقاء ِ دین

آج ہماری معتبر مذہبی تحریکیں ، علماء و ؟مشائخ اور پیر خانے اپنے آپ کو سیاست سے الگ کر کے بیٹھ گئے ہیں اور اپنے اوپر لےبل چسپاں کر دیا کہ ہم غیر سیاسی ہیں ، ہمارا سیاست سے کسی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ۔ ارے محترم ! دین سیاست سے کب جدا ہے؟اگر تم دین کو سیاست سے الگ تھلک کر کے بیٹھ جاؤ گے تو وہ ظلم و جبر ، لوٹ گھسوٹ ، نا انصافی، بے اعتدالی و بد عنوانی کے سوا کچھ نہیں رہے گی ، اور یہ خونخوار معاشی درندے آزاد اور وحشی ہو جائیں گے اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں گے اور معاشرہ کو گمراہی و ضلالت کی تاریکیوں میں لے ڈوبیں گے جیسا کہ آج ہے ۔ اوپر چند سو لوگ ہیں اور نےچے کروڑوں کی عوام ہے ۔ اگر آپ اوپر چند سو کو قابو کر لو گے تو کروڑوں کو قابو کرنا آسان ہے ۔ اگر یہ چند سو سدھر جائیں اور دینی اصولوں کے مطابق چلیں اور اس کے مطابق قوانین ترتیب دیں تو معاشرہ کو سدھارنا اتنا مشکل نہیں ہے ۔ سیاست سے دور رہ کر علماء ارب ہا کوششیں کر لیں وہ معاشرہ کی اصلاح نہیں کر سکتے ۔ اگر تم حکمرانوں پر چڑھ کے نہیں رہو گے اور ان کی لگام اپنے ہاتھوں میں نہیں لو گے تو معاشرہ کو برائیوں سے کیسے بچا پاؤ گے؟ جب تک ضلالت و گمراہی کے مراکز ، معاشرتی تباہ کاریوں اور بد اخلاقیوں پر اوپر اعلیٰ سطح سے پابندی نہ لگے اور سخت قوانین نہ بنیں ، نےچے سے آپ لاکھ کوششیں کر لیں ان کو نہیں روک پائیں گے ۔

مذہبی اصولوں پر چلنے اور چلانے میں حکومت کو بڑاعمل دخل ہے ۔ اس کو جزا و سزا کا قانون نافذ کرنے والی قوت کہا جا سکتا ہے ۔ جو قرآن و حدیث اور رشد و ہدایت سے نہ بدلیں ، شیطان کی راہ، فساد کی راہ پر چلیں تو ان کو قانون کا ڈنڈا، سخت قوانین کا شکنجہ سیدھا کر دے گا ۔ ہمارا معاشرہ جس حد تک پستی میں جا چکا اب اسے سیدھا کرنے کےلئے صرف ڈنڈا پیر ہی کارگر ثابت ہو سکتا ۔ روحانی پیر سب بے وقعت و بے اثر ثابت ہو چکے ہیں ، وہ معاشرہ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے، وہ معاشرتی برائیوں کے سامنے بند باندھنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں ۔ وہ معاشرہ کی اصلاح اور پاکیزگی و پاکدامنی کو برقرار رکھنے میں کوئی کردار ادانہیں کر سکے ۔ آج کتنی جماعتیں تبلیغ کر رہی ہیں ؟ کتنی تحریکیں ، کتنی تنظی میں ، کتنے گروہ اور ٹولے معاشرہ کی اصلاح کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن کیا معاشرہ کی اصلاح ہو رہی ہے؟ کیا معاشرہ گمراہی و ضلالت کی پستیوں سے نکل کر فلاح، نیکی اور پاکیزگی کی طرف گامزن ہے؟ وہ تو روز بروز گمراہی و ضلالت ، فسق و فجور کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں میں گرتا جا رہا ہے ۔ آخر اتنی اصلاحی تحریکیں ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہے؟معاشرہ میں تبدیلی کیوں نہیں آرہی ؟ معاشرہ کی اصلاح کیوں نہیں ہو رہی؟ اصلاحی تحریکیں کیوں مؤثر اور کارگر ثابت نہیں ہو رہیں ہیں ؟ کیا اتنی تحریکوں نے مل کر کئی عشروں کی انتھک محنت سے کسی ایک معاشرتی برائی پر قابو پا یا ہے جو اس وقت معاشرہ میں نہیں پائی جاتی؟ کوئی ایک ثابت کر کے دےکھائیں کہ یہ برائی ان کی کوششوں سے معاشرہ میں موجود نہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں ، گروہوں ، ٹولوں اور گدی مکینوں نے اپنے آپ کو سیاست سے الگ کیا ہوا ہے،ان کے ہاتھ کچھ نہیں ، ان کے ہاتھ اختیار سے خالی ہیں ۔ ان کے ہاتھ وہ قانون اور وہ قدرت نہیں جو برے کا منہ پکڑے اور حق کی طرف موڑ دے ۔ یہ صرف دھیمی اور نرم بات، نرم لہجہ سے منع تو کر سکتے ہیں مگر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھا سکتے ۔ اگر ان کے ہاتھ سیاست، قیادت اور اختیارو انتظام ہوتا تو ہر طرح کا عملی اقدام اٹھا سکتے تھے۔ ایسی تحریکیں ، ایسے گروہ، ایسے ٹولے ، ایسے گدی مکین حکیم الامت حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول یاد رکھیں ۔

جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ڈاکٹر علامہ اقبال کا یہ شہرہ آفاق شعر بڑا با معنی اور پراثر ہے ۔ چنگیزی سے مراد لا قانونیت ہے ظلم و جبر اور خون خرابہ ہے ۔ اگر مسلمان قوم ملک کے نظم و نسق اور نظام چلانے میں دین سے علیحدگی اختیار کر لیں تو پھر تباہی شروع ہو جاتی ہے، ظلم و زیادتی ، نا انصافی، بے راہ روی اور خون خرابہ ہی بڑھتا چلا جاتا ہے جیسا کہ آج کا ہمارا معاشرہ بے لاگا م و بے مہار ہے اور ہزار کوششوں کے باوجود نہیں سنبھالا جا رہا ۔

ہنوز اندر جہان، آدم غلام است
نظامش خام و کارش نا تمام است
غلام فقر آن گیتی پناہم
کہ در دینش ملوکیت حرام است

اسلام دنیاکا یگانہ مذہب ہے جس نے بنی نوع انسان کی مکمل رہنمائی کی ہے ۔ دینی، مذہبی، اخلاقی، سیاسی ، سماجی ،اقتصادی غرض کہ زندگی کے ہر شعبہ میں فلاح و کامیابی کا ایک ایسا جامع رہنما اصول دیا ہے جس پر چل کر ہم دین و دنیا دونوں جہاں میں کامیاب و کامراں ہوسکتے ہیں ۔ اسلام نے کبھی بھی دین و دنیا کی تفریق کو روا نہیں رکھا ۔ اس کی نظر میں دنیاوی کام بھی اگر شریعت کی روشنی میں انجام دیئے جائیں تو وہ بھی دین ہے اس پر بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اجر ملے گا ۔ اگر شرعی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاست تدبیر و حکمت اورتنظیم کا نام ہے جو افراد معاشرہ کی فلاح عامہ کیلئے کام کرتی ہے ۔ بہتر تدبیر و انتظام اور جامع حکمت عملی سے معاشرہ کو ایسے اصولوں پر گامزن کرنا جو ریاست مدینہ کے اصول تھے ۔ اسلامی سیاست کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے، ایک ایسی مضبوط اور لاثانی سیاسی قوت میدان عمل میں ہو جو انسانوں کے عام فائدے ، عام بہتری اور عام تنظیم کے لئے ہو ۔ جس میں تمام افراد معاشرہ کو یکساں حقوق دئیے گئے ہوں ، کسی پر ظلم نہ ہو ، کسی کا حق نہ دبایا جائے ، کمزوروں کو نہ ستایاجائے ، کوئی شخص اپنی طاقت، مال و جاگیر اور رعب کے نشے میں کسی کمزور پر ظلم و جبر نہ کر سکے، کسی کی عزت ِ نفس مجروح نہ ہو،سبھی کے ساتھ مکمل انصاف ہو ، ہر ایک کی عزت و آبرو کا احترام کیاجائے ۔ حکومت تمام افراد کی جان و مال ، عزت و آبرو کی محافظ اور نگراں ہو ۔ سبھی لوگوں کی طبعی ضرورتیں پوری ہوں ، خوراک و لباس کی تنگی نہ ہو، رہن سہن دشوار نہ ہو، کسی پر زندگی تنگ نہ ہو، تعلیم، صحت، روزگار کے انتظامات سبھی افراد معاشرہ کے لئے ایک جیسے ہوں ، مالیانے کی جمع اور مستحقین میں تقسیم، غریبوں اور بے کسوں کی خبر گیری، قرض دار کے قرضوں کی احسن ادائیگی، بے گھروں کےلئے رہائش کا اہتمام، بیواؤں کی نگرانی الغرض ہر وہ کام جسے سیاسی قرار دے کر دین سے جدا کر دیا گیا اور جس سے علماء بھی دستبر ہوگئے اور اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا وہ اسلامی تاریخ کا حصہ رہا ہے اور اسے انبیاء و علماء ہی سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ اللہ کے تمام انبیاء و مرسل خود یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں ۔ حضور نبی آخر الزماں ﷺ خود اور آپ ﷺ کے اصحاب و تابعین یہ کام سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ آپ ﷺ نے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کےلئے رات دن قربانیاں دی ہیں ۔
یاد رکھیں وہ قوم ذلت و پستی ، گمراہی و ضلالت کی گہری کھائیوں میں گر جاتی ہے جس کے علماء و ؟مشائخ سیاست سے لا تعلق ہو جاتے ہیں ۔ اگر علماء سیاست و قیادت سے الگ ہو کر بیٹھ جائیں تو دین کو فروغ کیسے ملے گا؟سیاسی دوکاندار، پارٹیاں ،چور، لیٹرے، ڈاکو، بدمعاش، خائن، دنیادار، لادین جمہوری مداری تو دین کی بات نہیں کریں گے ۔ آج کی سیاست کا منظر ہمارے سامنے ہے اور سیاسی مداری سیاست میں دین کی بات کرنا سیاست کی توہین سمجھتے ہیں اوریہ ان کے مزاج کے بھی خلاف ہے ۔ آج ہمارے تاجر و کاروباری حضرات ہیں تو وہ تجارت میں دین کی بات کرنا، دین کا پیغام پہنچاناجرم اور تجارت کا نقصان سمجھتے ہیں ۔ یہ اس تاریخ سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں چار سو اسلام پھیلانے کا سہرا ہی تاجروں کے سر ہے ۔ وہ تجارت میں پہلے دین کی بات کرتے تھے بعد میں مال کی، کیا انہیں کوئی نفع نہیں ہوتا تھا؟

اگر علماء و مشائخ سیاست کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لیں گے تو دین کو فروغ کیسے ملے گا ۔ دین کی فروغ اشاعت، باہر سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں اور ان کو دین حق کی دعوت، بیرون ملکوں میں سرکاری سطح پر دین کی تبلیغ و اشاعت اور دعوت حق کا کام، مقدموں کے دینی اصولوں کے مطابق فیصلے، ٹیکس کی جمع اوراس کا احسن تصرف، مستحقین میں منصفانہ تقسیم، لشکروں کی تیاری، سرحدوں کی حفاظت، افراد معاشرہ کے دفاع کی ذمہ داری، سب کے لیے ایک قانون، عدل ، انصاف، باہمی مساوات،یکساں وسائل و روزگار کی تقسیم یہ سب علماء ہی دینی اصولوں کے مطابق احسن طریق سے سر انجام دے سکتے ہیں ۔ ہم سیاسی گدھوں سے ان عوامل کی کیا توقع کر سکتے ہیں جنہیں دین کی کچھ سمجھ اور شعور ہی نہیں کہ وہ دین کے مطابق ہی سر انجام دیں گے ۔

متاع معنی بیگانہ از دون فطرتان جوئی
ز موران شوخی طبع سلیمانی نمی آید
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کاری شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید

ہم ایک اچھوتے اور حکیمانہ خیال کی توقع ایسے لوگوں سے کریں جو جاہل اور پست فطرت ہیں ، کہاں چیونٹی اور کہاں حضرت سلیمان علیہ السلام ۔ ہم ایک چیونٹی سے سیدناسلیمان علیہ السلام کی سی ذہانت و ذی طباحت کی توقع نہیں کرسکتے ۔ ان (لا دین جمہوری مداریوں ) سے توقع کرنا گدھوں پر کتابیں لادنے کے مترادف ہے اگردوسوگدھے بھی جمع ہوجائیں تو ان سے ایک انسان کے فکر کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔

تاریخ شائد ہے کہ جب تک علماء نے سیاست کی اور ریاستی امور انجام دئیے تو دین کو بھی فروغ ملتا رہا، اس کی سرحدیں بھی وسیع ہوتی رہیں ۔ زیادہ دور نہ جائیں قیام پاکستان میں علماء و مشائخ کے کردار کو دیکھ لیں ۔ اگر علما ء و مشائخ قیام پاکستان میں متحرک نہ ہوتے، سیاست نہ کرتے تو کبھی اتنی بڑی تاریخ ساز کامیابی نہ ملتی ۔ یہ اس دنیا کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ اتنا بڑا خطہ زمین بغیر جنگ کے آزاد کر ا لیا گیا جو آج دو ممالک میں منقسم ہے مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان ۔ جب سے علماء دینی سیاست سے لاتعلق ہوئے فروغ دین کے دروازے بھی بند ہو گئے، اس کی سرحدیں تنگ ہونا شروع ہو گئیں ۔ سرزمین اندلس و قرطبہ ہم سے چھین لیے گئے، سپین ، فارس، روم ، یونان اور مشرقی یورپ کے کئی مفتوحہ علاقے ہم سے خالی کروا لئے گئے ۔ کیا آج ان سب علاقوں پر اسلام کی حکومت قائم ہے جو شروع سے ہی اسلام کو عطا کر دئیے گئے تھے؟ کیا آج ان سب علاقوں پر اسلام کا جھنڈا لہراتا ہے جہاں جہاں دورِ فاروقی اور دورِ عثمانی میں سر بلند تھا؟ ابتدائی چند سالوں میں آدھی دنیا کا کنڑول اپنے ہاتھ لینے والوں کے پاس آج دنیا کا ایک چوتھائی بھی نہیں رہا ۔ جہاں پورے ہندوستان و برصغیر پر اسلام کا راج تھا اور مسلمانوں کا سکہ چلتا تھاوہاں ہم غلام بن کر رہ گئے، ہماری خلافت توڑ دی گئی، ہمارا تحاد پارہ پارہ کر دیا گیا، ہماری اخوت ہم سے چھین لی گئی، ہمارا بھائی چارہ عداوت و دشمنی میں بدل کر ایک دوسرے کے دست و گریبان کر دیا گیا مگر ہم نے ابھی تک ہوش کے ناخن نہیں لئے ۔

آج ہمارا کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں رہا جس پر غیروں نے اپنی یلغار نہ کی ہو، جہاں غیروں نے اپنا اثر نہ دیکھایا ہو ۔ آج جوکچھ بچا کچھا ہمارے پاس موجود ہے اس پر بھی غیر اقوام کا اثر غالب ہے ، غیروں کی ثقافت، غیروں کی تہذیب، غیروں کا کلچر راج کرتا نظر آتا ہے ۔ ہمارا طرز معاشرت ہو، رہن سہن ہو، واضح قطع ہو، لباس ہو، قانون و حکمرانی ہو سب پر غیروں کا طریق غالب نظر آتا ہے ۔ آج ہمارے پاس کوئی ایسا خطہ زمین بھی نہیں جس پر اسلام کی حکومت، اسلام کا طریق، اسلام کا کلچر غالب نظر آتا ہو ۔ شرم اور غیرت میں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج سے مٹھی بھر لوگوں نے چند سالوں میں آدھی د نیا کو اسلام کے زیر اثر کردیا ۔ ہم جیسے جیسے تعداد میں بڑھتے گئے بے اثر،بے وقعت و بے وزن اور مغلوب ہوتے گئے ۔ غیر ہم پر راج کرنے لگے ۔ غیر ہ میں قانون، حکمرانی و معاشرت کے اصول بتانے لگے ۔ دوسرے لوگ اور دوسری اقوام ہم پر غالب آ گئیں ۔ اگر ہم وہی اصول، وہی طرز، وہی قانون بالکل اسی طرح جاری رکھتے جو اسلام کی ابتداء تھی، جو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رائج کیا تھا تو آج دنیا کا کوئی ایسا کونہ نہ ہوتا جس پر اسلام کا جھنڈا نہ لہرا رہا ہو تا ۔

علماء جب تک دین کے انفاذ کی سیاست کرتے رہے ، دین کے نفاذ اور عمل درآمد کےلئے لڑتے رہے یہ اس وقت تک مصلہ امامت پر بیٹھے شہر و محلہ کے حاکم و امیر رہے، منتظم اور قاضی القضات کے منصب پر فائز رہے ۔ جب یہ تدبیر و تنظیم سے منہ موڑ کر دین کو اس سے الگ کر کے بیٹھ گئے تو ان کی حیثیت مسجد اور اس کے متولین اور محلہ داروں کے خادم و نوکر کی سی رہ گئی کہ وہ جب مسجد آئیں ان کے لئے صفیں بھی صاف ہوں ، لیٹرینیں بھی صاف ہوں ، یہ امام ہو کر گٹر اور نالیاں بھی صاف کریں ۔ یہ دین کی سیاست چھوڑ کر بے وقعت و بے اثر ہو گئے جس کا اثر براہ راست قوم پر پڑا ۔ یہ جیسے معاشرہ میں بے اثر ہوئے، قوم اسی طرح غیراقوام میں بے اثر ہوئی ۔ جیسے انہوں نے اپنی قدر و منزلت کھوئی ، قوم نے غیروں کی صفوں میں اپنی قدرو منزلت کھو دی ۔ یہ جیسے جیسے دین کی سیاست سے دور ہوئے غیروں نے قوم کو دین سے دور کر دیا ۔ جیسے جیسے دین دار طبقہ نے حکومت و سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ویسے دنیا دار طبقہ دین سے کنارہ کشی اختیار کر تا چلا گیا اور دین اور سیاست کے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل کر دی گئی ۔

آپ حضور سید عالم ﷺ کی عملی زندگی کا مطالعہ کریں تو ثابت ہو گا کہ آپ ﷺ کی زندگی دین سے بڑھ کر زیادہ سیاسی تھی ۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب دن رات خدا کی کائنات میں اس کے قانون، اس کی شریعت کے نفاذ کےلئے لڑے ہیں ، قربانیاں دیں ہیں ۔ خلفائے راشدین سے بڑھ کر زیادہ سیاسی، مدبرو منتظم کو ن تھا؟ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا مدبر و منتظم آج تک تاریخ انسانی نے پیدا نہیں کیا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ و اہل بیت اطہار کی قربانیاں بھی زمین پر خدا کے قانون کے نفاذ کےلئے تھیں ۔ اسلام ایسی ہی سیاست و حکومت کا قائل ہے جس میں دین، سیاست اور تنظیم ایک ساتھ ہو ۔ دین کی بات کریں اور پھر اس کے عملی نفاذ کی کوشش کریں ، ان کے نفاذ کے لئے لڑیں اور قربانیاں دیں ۔ انفاذ کر چکنے کے بعد اس کی بہتر سے بہتر تنظیم کریں تاکہ وہ سلسلہ نسلوں تک جاری رہے، اسی کا نام سیاست ہے اور یہ ایمان کا سب سے اولین درجہ ہے ۔

حدیث مبارکہ ہے کہ تمہیں جہاں کہیں کوئی برائی، کوئی غلط کام، کوئی خلاف شرع فعل ہوتا نظر آئے تو اسے اپنے زور بازو سے روکو، اس کا منہ پکڑو اور حق طرف موڑ دو، یہ ایمان کا سب سے اولین درجہ ہے ۔ کیا اس درجہ کو پانا سیاست و اختیار کے بغیر ممکن ہو سکتا ہے؟ کیا اختیار کے بغیر آپ معاشرہ میں کسی کا منہ پکڑ کر حق کی طرف موڑ سکتے ہیں ؟

اگر علماء سیاسی اور صاحب اختیار نہیں ہوں گے تو غلط معاشرتی اطوار کیسے روک پائیں گے؟ علماء کےلئے یہ ضروری ہے کہ ان کے ایک ہاتھ میں دین ہو اور دوسرے ہاتھ سیاسی اختیار، تدہی وہ معاشرہ پر دینی احکامات کا نفاذ کر سکتے ہیں ۔ اس کے بر عکس اگر سیاسی اختیار ہو ہی غلط لوگو ں کے پاس، دین سے بیزار و منحرف لوگوں کے پاس تو وہ غلط کام ہوتے کیسے روک پائیں گے؟جس دین کی وہ بات کرتے ہیں اس کا عملی نفاذ کیسے کر پائیں گے؟ایسی صورت میں علماء لاکھ کوششیں کر لیں وہ غلط معاشرتی اطوار نہیں روک سکتے جیسا کہ آج کا منظر اس کی خوب عکاسی کرتا ہے ۔ آج سیاست و اختیار غلط لوگوں کے پاس ہے، علماء بے اختیار ہیں اور سمندر کی جھاگ کی طرح بے وزن ہیں ۔ کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ، کوئی ان کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں ، ان کی طرح ان کی باتیں بھی بے وزن ہیں اور کوئی اثر نہیں رکھتی ہیں ۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ یہ سب بے اختیار ہیں اور شیطانی قوتیں اختیار میں ہیں ۔ ان کے ہاتھ کچھ نہیں اور شیطانوں کے ہاتھ بھرے ہیں ۔ یہ سیاست سے دور ہیں اور شیطان سیرت ان پر سیاست کر رہے ہیں ، یہ قوم کی قیادت سے محروم ہیں اور خائن قسم کے لوگ قوم کی قیادت کررہے ہیں تو قوم کیونکر گمراہی و ضلالت میں نہیں پڑے گی؟

قوم کو سیدھے راستے پر ڈالنے کےلئے علماء کا با اختیار ہونا بہت ہی ضروری ہے اس لئے کہ با اختیار دین دار طبقہ ہی برے کا منہ پکڑ کر حق کی طرف موڑ سکتا ہے۔ با اختیار طبقہ اخلاقی فساد کا علاج نگران ادارے قائم کرکے کرتاہے ۔ سودخوری، رشوت ستانی کو فروغ پاتے دیکھا تو اس کے انسداد کا محکمہ بنا دیا ۔ ملاوٹ اور چور بازاری کی وبا کو دیکھا تو چھاپہ مار عملہ ترتیب دے کر اس پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ۔ حکومت کے کارکنوں میں بدعنوانی کی گرم بازاری کو دیکھا تو قواعد و ضوابط میں ترامیم کا سہارا لے لیا اور سخت قوانین کا انفاذ کیا ۔ اصلاحی کمیٹیاں قائم کی گئیں کہ وہ اس ہمہ گیر فساد پر قابو پانے کے لیے سفارشات پیش کریں ،معاشرہ پر نظر رکھنے کےلئے گشت پر معمور عملہ ترتیب دیا کہ وہ معاشرہ میں خفیہ و ظاہری طریقوں سے چلیں پھریں ، گشت کریں لوگوں کے روزمرہ کے معمول کا جائزہ لیں ، ان کے احوال پر نظر رکھیں ، ان کے رہن سہن، ایک دوسرے سے برتاؤ اور رسومات کو دیکھیں کہ کہیں وہ اسلامی قوانین، اسلامی اصول و ضوابط کے خلاف تو نہیں جاتیں ۔ ان کے کاروبار پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ اشیاء میں میل ملاوٹ تو نہیں کرتے، دھوکہ دہی سے اپنے مال اسباب تو نہیں بیچتے ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دین اور سیاست کی تفریق مٹادی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف نبی و رسول بھی تھے تو دوسری طرف عظیم قائد و رہنما بھی ۔ آپ بشیر بھی تھے اور نذیر بھی ، رات کے عابد و زاہد بھی اور دن کے سپاہی او رمجاہد بھی ، امام و مفتی بھی اور سیاست و قیادت کے پیشوا بھی ۔ آپ ﷺ بر وقت حاکم بھی تھے اور رعایا بھی ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیک وقت خلیفۃ المومنین بھی تھے اوروقت کے فرماں رواں اور شہنشاہ بھی ، جرنیل و سپہ سالار بھی ، جن کے جاہ و جلال سے قیصر و کسری کے محلات بھی کانپتے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وقت کے حاکم ہو کر قاضی کے سامنے پیش بھی ہوتے تھے اور اپنی صفائی پیش کرنے والے تھے، آپ نے قانون نفاذ کرنے والے ہو کر بھی خود کو کبھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا۔ راتوں کو جاگ کرتنہا گشت کرنا، پہرا دینا اور لوگوں کے احوال کرنا ان کا طرہ امتیاز تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیک وقت حاکم بھی تھے اور رعایا بھی، آپ امام و مفتی بھی تھے اور روحانی پیشوا بھی، آپ دین کے مجاہد و سپہ سالار بھی تھے اور خادم بھی ۔ آپ قاضی و جج کے سامنے پیش ہونے والے بھی تھے اور جواب دہ بھی ۔ ہمارے خلفاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کبھی خود کو عدلیہ اور رعایا سے بالاتر نہیں سمجھا ۔ جبکہ ہمارے حکمران رعایا سے بالاتر ہیں ہی اور وہ عدلیہ پر بھی بالادستی چاہتے ہیں کہ وہ جو مرضی کرتے پھیریں وہ عدالت جوابدہی سے مستثنیٰ ہوں ۔ اور منصف ایسے ہیں کہ جو فیصلہ ان کے خلاف آئے خواہ صحیح بھی ہو ، کہیں گے بہت بڑی نا انصافی ہو ئی ہے، ظلم ہوا ہے ، عدل نہیں ہے ملک میں ۔ طرح طرح کا واویلہ کریں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں باہر کیا؟ اس کے برعکس اگر کوئی فیصلہ ان کے حق میں آئے خواہ غلط بھی ہو، بد نیتی اور نا انصافی پر مبنی ہو تو کہیں گے اب انصاف ہوا ہے،اب ٹھیک فیصلہ آیا ہے کیونکہ ان کے حق میں جو ہے ۔ اب عدل ہے ملک میں ، اب عدلیہ آزاد ہے اور اس کی بالادستی بھی قبول ہے ۔

یہ ہماری کم بختی ہے کہ آج اگر کوئی عالم دین ہے تو بس وہ عالم دین ہی ہے اور کچھ نہیں ، وہ دین کا ورکر، دین کا خادم و مجاہد نہیں ، وہ محافل سے ہٹ کر بغیر عوض کے کسی راہ چلتے کو گمراہی پر دیکھ کر حق کی طرف راغب کرنے کو تیار نہیں ۔ وہ معاشرہ میں گشت کر کے لوگوں کے احوال جاننے اور درست کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا ۔ اگر کوئی خطیب ہے تو بس خطیب ہے اور کچھ نہیں ، بس اسے دین کی بات سنا کر، حکایات بیان کر کے لوگوں سے واہ واہ کروانا آتا ہے اور اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کے دین میں کیا کیا خرافات شامل ہو چکی ہیں ،اس کے دین میں کیا کیا باطل روایات داخل ہو چکی ہیں ، اس کے دین کے خلاف دنیا میں کیا کیاسازشیں ہو رہی ہیں اور ان سازشوں اور غارت گری کے خلاف اسے کیا کیا تدابیر کرنا ہیں ۔ جب حضرت ملاں بیرونی سازشوں اوردین پر غارت گری سے ہی نا آشنا ہے تو اس کے پاس بچاؤ کی تدابیر کہاں سے آئیں گی؟ آج اگر کوئی نعت خواں ہے تو بس نعت خواں ہی ہے دین کا مجاہد و مبلغ نہیں ، اس کا کام صرف نعت سنانا ہے لوگوں کو راہ راست پر لانا اور اخلاق عالیہ پر گامزن کرنا نہیں ۔ اسے بس نعت میں ایسے ایسے گُر آتے ہیں وہ جانتا ہے کہ نعت میں کس طرح کے جملے کس انداز میں پڑھنے سے لوگوں جھو میں گے اور اٹھ کر پیسے نچاور کریں گے ۔ لوگوں سے اسلامی تعلیمات، اصول و ضوابط پر عمل کروانے کا گر اور ہنر کسی کے پاس نہیں ۔ حضور ﷺ کے ثنا ء خواں تو بیک وقت ثناء خواں بھی تھے اور دین کے رہنما اور مجاہدو مبلغ بھی ۔ وہ حضور ﷺ کی ثناء خوانی بھی کرتے اور جنگ و جدل، معرکہ حق و باطل میں بھی سب سے اولین صف میں کھڑے دیکھائی دیتے تھے ۔ وہ معاشرہ میں کسی شر یا برائی کو سر اٹھاتے دیکھتے تو اپنے زورِ بازو سے روک دیتے تھے ۔

آج ان سب لوگوں علماء ، ؟مشائخ، پیر، خطیب ، امام و نعت خوانوں کی موجودگی میں معاشرہ میں کتنی خرافات جنم لے رہی ہیں ؟ کتنے شر اٹھ رہے ہیں ؟کتنے فساد برپا ہیں ؟ کتنی باطل روایات ہمارے اندر شامل ہو رہی ہیں ؟ گمراہی و ضلالت کس قدر پھل پھول رہی ہے؟ ظلم و ستم، میل ملاوٹ، دھوکہ دہی، بد عنوانی کس قدر فروغ پا رہی ہے؟بے حیائی و بے پردگی ، بد نگاہی و بد گفتاری ، فحش بینی و فحش گوئی کس قدر بڑھتی چلی جا رہی ہے مگر اس طبقہ نے ان سے لڑنا، ان سے ٹکرانا ، ان کے سامنے بند باندھنا ، ان کے خلاف جہاد کرنا تو درکناران کے خلاف جاندار آواز اٹھانا ہی گوارا نہیں کی بلکہ ان کے لیے ہر راستہ کھولا رکھا ہے کہ آؤ، جوک در جوک آؤ ہمارے میلوں ، خانقاہوں اور عرسوں پر، تمہارے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ۔ معاشرہ کو ثقافتی حملوں کے دفاع سے آزاد چھوڑ دیا گیا، ان کی طرف سے کسی معاشرتی عفریت، کسی معاشرتی برائی کے خاتمہ کےلئے احتجاج اور دھرنے نہیں دئیے گئے، کسی معاشرتی ناسور کے خلاف کوئی اجتماعی و مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی ۔

اگر کوئی مسجد کا ملا ہے تو بس اسی کی چار دیواری تک محدود ہے باہر کے ماحول کی کوئی خبر نہیں رکھتا کہ اس کے اردگرد معاشرہ میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ۔ انہیں اس سے کچھ سروکار بھی تو نہیں ہے کہ کوئی بگڑے یا سنورے ، ان کا کام تو صرف نماز پڑھانا اور اجرت لینا ہے ۔ قوم کی اخلاقیات، قوم کے روز مرہ کے معمولات درست کرنا اور شعور دینا ان کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کچھ کم فہم و کم ظرف اور کم عقل لوگ مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق کی دیوار حائل کرکے اسلام کو سیاست و حکومت سے بے تعلق اور بے واسطہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ دراصل مسلم مخالف عناصر کے شاتم دماغ لوگوں کی سازش کا شکار ہیں جو حقیقی معنی میں خود تو حکومت کو مذہب سے آزاد نہ کرسکے لیکن مسلمانوں کی سیاسی پرواز کو مضمحل کرنے کے لئے دین و دنیا ، مذہب و ریاست کی علیحدگی کا زہر گھول ر ہے ہیں ۔ دین و مذہب کے بغیر سیاست و قیادت کا تصور گمراہی اور سرکشی ہے ۔ جس کا نتیجہ ظلم و نا انصافی ،بے اطمینانی و بے ضمیری اور حق تلفی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ جب سیاست کو دین سے الگ کردیاجائے تو صرف ہوس کی امیری اور ہوس کی وزیری رہ جاتی ہے ۔ بالفظ دیگر چنگیزی رہ جاتی ہے ۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے ۔

ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
رہی ہوس کی امیری ، ہوس کی وزیری

دینی اصول و روایات، اخلاقیات ، عدل و انصاف، برابری و مساوات، رواداری، مشورہ، مکالمہ، تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، جھوٹے پروپیگنڈوں سے اجتناب، غلط دعووَں سے احتراز، عوام کو غلط بیانی کے ذریعے گمراہ نہ کرنا، محنت اور ہر وقت ملک کی بھلائی کے لیے سوچنا جیسی اقدار شامل ہیں ۔ اگر ان مسلمہ اخلاقیات سے ہٹ کر سیاست کی گئی اور امورِ مملکت انجام دیے گئے تو اس کا نتیجہ ملک وقوم کے لیے تباہی اور بدترین ڈکٹیٹر شپ کی صورت میں نکلتا ہے ۔ جواس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست کواگرمذہب سے الگ کردیاجائے تو سیاست کاوہ حال ہوتاہے جو آج کل ہماری سیاست کاہے ۔ ہر طرف چور، لیٹرے اور ڈکیٹ راج کرتے نظر آتے ہیں ۔ حکومتی امور چلاتے اور سیاست کرتے وقت مسلمہ دینی اصولوں اور عالمگیر اخلاقیات کاخاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ اخلاقیات کسی بھی حکومت کا سب سے اہم جزو ہوتا ہے ۔ اخلاقیات اسلامی تعلیمات میں تو شامل ہیں ہی، دنیا کے سب اہم مذاہب میں بھی اخلاقیات درس ملتا ہے ۔ گویا اخلاقیات ایک عالمگیر فعل ہیں جن پر عمل ہر قوم اور ملک کے لیے ضروری ہے ۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے اسلامی ملک میں اخلاقیات ہماری اسمبلیوں میں دےکھنے کو نہیں ملتیں باقی معاشرہ میں کہاں سے آئیں گی؟

دین و مذہب سے بیزار ،قوم و ملت کے نفع و ضرر سے بے نیاز ،ضمیر فروش و مفاد پرست جن کادل و ذہن اور دماغ غلام ہے ، مغرب کے متقلد، جو دوسروں کی فکر سے سوچتے اور دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہیں وہ علماء اور دین دار افراد کی سیاست میں شمولیت یا حصہ داری کو دین و اسلام سے خارج مانتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ علماء اور دین دار لوگوں کو سیاست و قیادت سے کیا واسطہ ۔ ان کو تو سیاست سے الگ تھلک رہنا چاہئے ۔ سیاست تو جھوٹ کا نام ہے، سیاست دغا بازی، دھوکہ دہی، فراڈ، بہتان تراشی اور لوٹ مار کا دوسرا نام ہے علماء کو اس سے دور رہنا چاہیے ۔ سیاست کی یہ بھونڈی تصویر بھی عوام میں ایک مقصد کے تحت پیدا کی گئی تاکہ عوام سیاست کو دین سے جدا سمجھ کر مساجد اور منبروں تک محدود رکھیں ۔ ان کا کام تو صرف نماز پڑھنا ،عبادت کرنا اور دوسرے مذہبی امور کو انجام دینا ہے ۔ لیکن شاید وہ ایسا کہتے وقت اسلامی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے ۔ وہ صحابہ کرام کے کردار کو فراموش کردیتے ہیں ۔ اسلاف کی زندگی ان کی نظروں سے غائب ہوجاتی ہے ۔ ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ سب سے پہلے اسلام نے ہی مضبوط جمہوری سیاست کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس میں تمام افراد معاشرہ کے حقوق کی یکساں رعایت کی گئی ہے ۔ محکمہ وزارت ،سول سوساءٹی کا قیام ، تھانے اور پولیس چوکی کا انتظام ،رات کا پہرہ اور گشت، وائے سرائے اور اسٹیشن کا بندوبست ،انصاف کے ساتھ ترقی اور سماجی برابری کا حق سب سے پہلے اسلام نے ہی عطا کیا ہے ۔ اسلام ایک ایسے نظام حکومت کا امین اور علمبردار ہے جو بہتر نظام ، پاکیزہ سماج ، صاحب اخلاق و کردار اور صحت مند معاشرہ کا ضامن ہو ۔ جس میں ہر فرد کو آزادی اور برابری کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو ۔ جس میں امیری اور غریبی کا فرق مٹ جائے ۔ سب انسان بھائی بھائی بن کر رہیں ۔ اس لئے ایک اچھی حکومت کی تشکیل کے لئے علمائے کرام ،دین دار اور ایماندار لوگوں کا سیاست میں قدم رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ اگر ہ میں معاشرہ کی اصلاح کرنی ہے اور قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا ہے تو دین اور سیاست میں تفریق ختم کرنا ہو گی ۔

https://hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=515138

https://www.urdunews.com/tags/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%8C

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں