108

قوم کیا چیز ہے؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟

What is a nation? What is the leadership of nations?

قوم کیا چیز ہے؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

ہمارے امام صرف نمازوں میں امامت کرتے ہیں یہ لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ قوم کا مفہوم کیا ہے اور قوم کی امامت کیا ہوتی ہے؟ قو میں کیسے بر سرِ عروج پر آتی ہے ؟ پختہ عزم اور سر بلند قو میں کیسے تشکیل پاتی ہیں اور ان کی امامت کیسے کی جاتی ہے؟ دو رکعتوں کے امام بالکل اس سے نہ واقف و لاشعور ہیں ۔ مسجدیں دین کا ایک بنیادی ستون ہیں ، دین کا ایک قلعہ ہیں جہاں سے دین کے جانثار سپاہی، دین کے مجاہد جنم لیتے ہیں اور امام ان کے سپہ سالار ہوتے ہیں جو ان کی قیادت کرتے ہیں ۔ لہٰذا امام ان خوبیوں ، ان خواص کا حامل ہونا چاہیے جو ایک سچے اور دین کے وفا دار مرد ِ مومن میں ہوتی ہیں ۔ وہ خواص جن کا حکیم الامت حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے یوں تذکرہ فرمایا ۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں

قہاری! مطلب قہر و غضب والا ہر برائی کے خلاف، جوش و جذبے والا ۔ جسے قرآن کریم نے اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ سے تعبیر کیا ہے یعنی کافروں پر سخت اوربروں پر خدا کا قہر ۔ اگر معاشرہ میں کوئی برائی دیکھے تو اس پر قہر و غضب بن کر ٹوٹ پڑے اور اپنے قوت بازو سے اس کا منہ پکڑے اور حق کی موڑ دے، جس طرح اللہ کریم قہار ہے وہ کسی برے شخص پر اپنا قہر برسائے بغیر نہیں رہتا ۔ اسی طرح یہ صفت اس کے بندے میں بھی ہونی چاہیے کہ وہ براہیوں پر قہر ثابت ہو ۔

غفاری! مطلب معاف کرنے والا، رحم دل ۔ جسے قرآن کریم نے رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ فرمایا یعنی آپس میں بہت رحم دل ہیں ۔ اپنے ہم مذہب بھائیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والا ۔ خود میں قوتِ برداشت رکھنے والا ۔ اگر افراد معاشرہ میں سے کسی سے اس کے ساتھ کوئی زیادتی سر زد ہو جائے تو اس میں برداشت اور معاف کرنے کا جذبہ بھی ہونا چاہیے ۔ جس طرح اللہ کریم غفار ہے اور معاف کرنے کا جذبہ رکھتا ہے تو اس کی یہ صفت اس کے بندے میں بھی ہونی چاہیے نا ، کہ وہ لوگوں سے معافی و برداشت کا رویہ رکھے اور درگذر کرے ۔

قدوسی ! مطلب پاکیزہ، ہمیشہ پاک صاف رہنے والا ۔ تَرَاھُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یعنی ہر وقت رکوع و سجودو اذکار میں ہوتے ہیں ۔ یعنی بندہ ہر طرح کے گناہوں سے پاک ہو، اس کا دل پاکیزہ اور صاف ستھرا ہو ، اس پر کوئی سیاہ داغ نہ ہو ۔ بندے کو اپنے رب قدوس کی طرح پاکیزہ و پاک صاف رہنا چاہیے ہر طرح کی براہیوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں سے ۔

جبروت ! مطلب سخت جان والے، اپنے زور، یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَاناً دوڑتے ہیں اپنے رب کے فضل اوراس کی رضا کو پانے میں ۔ اگر اپنی طاقت کے بل بوتے پر مقاصد کو پانے والے، رعب، دبدبے اور ہیبت والے ۔ یعنی اہل کفر اس کے وجود سے ڈر رکھنے والے ہوں ۔ اس کے وجود میں اتنا رعب، دبدبہ ہو اہل کفر اس کی ہیبت سے تھڑ تھڑ کانپنے لگیں اور اس سے ٹکر لینے کی جرات نہ کر سکیں ۔ جس طرح اللہ کریم جبار ہے اور کوئی اس سے ٹکر لینے اور مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا ہے اسی طرح اس کے بندوں کو بھی ہیبت، رعب و جلال والا ہونا چاہیے ۔

حضرت اقبال علیہ رحمہ کے اس شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ یوں تو خالق کی ساری خوبیاں ، ساری صفات، سارے اوصاف، سارے کرداروں کی جھلک اس کے بندے سے عیاں ہونی چاہیے اور اس کے کردار و عمل سے چھلکتی نظر آنی چاہیے لیکن اگر بندہ اپنے خالق کی ساری خوبیاں اپنے اندر نہیں سمو سکتا تو کم از کم ان چار کا ہونا بے حد ضروری ہے اس کے بغیر گذارا نہیں ، ان کے بغیر اس کا بندہ، اس کا ماننے والا مسلمان بیکار ہے وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ کیونکہ ایک مسلمان کا کردار ہی ان چار خواص سے تشکیل پاتا ہے، ایک حقیقی مسلمان کی پہچان ہی ان چار بنیادی اجزاء سے ہے ۔ اگر کسی مسلمان سے ان چاروں اوصاف کی جھلک نظر نہیں آتی تووہ صرف نام کا مسلمان ہے حقیقت میں اس کا اسلام اور مسلمانیت سے کوئی تعلق و ربط نہیں ہے اور نہ کوئی رسول اللہﷺ سے نسبت ۔

نبوت کی تن تنہاء اور حقیقی وارث امامت ہی ہے اور اس نے پوری امت کو کنٹرول کرنا ہے، اس نے زمانے کی گردش اور فتنوں سے پوری امت کو محفوظ کرتے ہوئے دین کے دائرہ کار میں ، دین کے ضابطہ و دستور میں قفل ڈال کے رکھنا ہے ۔ امام امت کا پیش رو ہوتا ہے، امامت روحِ امت کی محافظ ہوتی ہے ۔ بغیر امامت دین اور امت کا تصور ایسا ہی ہے جیسے بے سر بدن ۔ یعنی بدن تو ہو ، جسم تو ہو، وجود تو ہو لیکن اس کی قیادت کرنے والا سر نہ ہو، اگر ہوبھی توبے سدھ، بے شعور و بے سمجھ، بے فکرو فہم،جسے زمانے کے حالات اور اس کے تقاضوں کی کچھ سوجھ بوجھ ہی نہ ہو ۔ امام وقت کے تقاضوں کے مطابق امت کے بہاؤ اور اس کی صحیح سمت کا تعین کرنے والا ہوتا ہے ، امت کا نظم و ضبط برقرار رکھنے والا ہوتا ہے ۔ نظم و ضبط سے ہی افرادامت کو تشکیل دیتے ہیں ، یہ نظم و ضبط قائم کرنا اور برقرار رکھنا امامت ہی پر منحصر ہے ۔ امامت کا مطلب دین کی نگہبانی ہے ۔ دین کی آب یاری ہے ۔ دین کی کھیتی اگر خشک ہو رہی ہے تو امام کا کام ہے اسے اپنے خون و پسینہ سے پانی مہیا کرے، اسے پھر سے ہرا بھرا کرے ۔ امت کا توازن امامت کا ہی مر ہونِ منت ہوتا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جیسے جیسے امت کے ہاتھوں سے دامنِ امامت چھوٹا، جیسے جیسے امامت بے وقعت ہوئی امت بھی دنیا میں بے وقعت ہوتی گئی ۔ جیسے امامت بے اختیار ہوئی ویسے امت بھی بے اختیار ہوتی گئی ۔ جب امامت نام رہ گیا صرف نمازوں کی گنتی پوری کرنے کا، تو یہ امت اپنا توازن ہی کھو بیٹھی ۔

جس قوم میں امامت کا تصّور ماندپڑ جائے تو ڈوبنا اور خوار ہونا اس کا مقدر بن جاتا ہے اور انتشار و افتراق اس کا زینہ ۔ کاروان بغیر رہبر اُس ریوڑ سے بھی بد تر ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو ۔ امامت کا مطلب ہے کہ امام نے اپنے پیچھے صرف نمازی نہیں بلکہ شیروں کی ایک جماعت تیار کر رکھی ہو، ایک منظم قوت ، ایک طاقت، ایک ڈٹ جانے والی، ٹل نہ سکنے والی قوت کہ جہاں دین کو اس جماعت کی ضرورت پڑے وہاں وہ جماعتیں پہاڑوں کی طرح جم کر کھڑی ہوں دین کے دفاع اور عزت و وقار میں ، دین کی عظمت و سربلندی میں ، دین کی رفعت و شوکت میں ، اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی ان کی ہمت ، ان کی ایمانی قوت کے سامنے ٹھہر نہ سکتی ہو ۔ امامت کا مطلب دین کی حفاظت، دین کی قوت، دین کا وقار، دین کا رعب ہے، نمازوں کی گنتی پوری کرنا اور کروانا امامت نہیں ہے ۔ جس جماعت کا اپنے امام کے ساتھ رابطہ منقطع ہو جائے وہ وقت شناس نہیں ہوسکتی ۔ وہ کبھی زمانے کی اونچ نیچ، وقت کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کو نہیں سمجھ سکتی ۔

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر

علماء صوفی اور پیر حضرات غفلت اور بے حسی کے خول سے باہر آئیں اور خود کو انجام کار سے استثناء نہ سمجھیں ۔ یاد رکھیں ! امت پر اگر کوئی بلا ، مصیبت پڑتی ہے یا ان پرکوئی عذاب کا کوڑا برستا ہے توبچو گے تم بھی نہیں بلکہ تم سب سے پہلے اس کی بھینٹ چڑھنے والوں میں سے ہو گے، تم پر بھی اسی طرح لعنت برسے گی جس طرح بنی اسرائیل کے علماء پر برسی ۔ علماء اور حق پرستی کے نام نہاد دعویدار یاد رکھیں حضور اقدس کا یہ فرمان!

ان اللہ لا یعذب العامۃ بعمل الخاصۃ حتیٰ یروا المنکر بین ظھرا نیھم وھم قادرون علی ان ینکروہ فلا ینکروہ فاذا فعلوا ذالک عذب اللہ الخاصۃ والعامۃ o والذی نفسی بیدہ لتامرون بالمعروف و لتنھون عن المنکر و لتاخذن علی ید المسی ولتاطرنہ علی الحق اطرا او لیضربن اللہ قلوب بعضکم علیٰ بعض اولیلعنکم کما لعنھم o (ابن کثیر)

’’اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا اس وقت تک جب لوگوں کی یہ حالت ہو جائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور وہ ان کو منع کرنے ، برائی سے باز رکھنے اور ان کے خلاف اظہار ناراضگی کرنے کی قدرت رکھتے ہوں لیکن اس کے باوجود نہ تو وہ انہیں منع کریں اور نہ ہی ان سے اظہار ناراضگی کریں ، جب لوگوں کا یہ حال ہوتاہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ بلا تمیز ہر خاص و عام کو ذلت کے عذاب میں پکڑ لیتا ہے ۔ اس خدا کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ تمہارے لیے لازم ہے کہ معروف ( نیکی ، بھلائی ، اچھائی) کا حکم دو اور برائی سے لوگوں کو سختی سے منع کرو، بدکار کا ہاتھ پکڑو اور اسے حق کی طرف موڑ دو ، ورنہ اللہ تعالیٰ بدکاروں کے دلوں کا زنگ معصیت و حق پرستی کے دعوے داروں کے دلوں پر چڑھا دے گا یا تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح یہود پر کی ۔ ‘‘

بہت ہو چکے ستاریت، غفاریت، رحیمیت، شفاعت و بخشش اور فضائل و کمالات، مقام و مرتبت پے واعظ ۔ اصلاح امت کو اپنا موضوع بنائیں ، اپنی خطابت کی گرج ، چمک دمک نہی عن المنکر کے عنوانات پے نکالیں ، امت کو خدا کا خوف و غضب یاد دلائیں ، برائیوں کے سامنے ایک مضبوط بند باندھیں ۔ ایک ایسی باحوصلہ و جراتمند قوم پیدا کریں جو جہاں برائی کو دیکھے وہیں اس کو پکڑ کر اس کا منہ حق کی طرف موڑ دے ۔ امت کو امت مشفعی (شفاعت کی امیدوالی) نہیں خدا سے ڈرنے والی امت بنائیں ، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ پر ڈالیں ، اور امت کو بتائیں کہ متقی و پرہیزگار امت کیلئے ایک نہیں دو جنتوں کا وعدہ ہے ۔ جس امت پر خدا کے حضور حاضر ہونے کا خوف طاری ہو وہ ایک نہیں دو جنتوں کی مالک ہے اور میرے خیال میں یہ بات آج تک کسی عالم نے قوم کو نہیں بتائی ہو گی ۔ پورا قرآن چھان مارو کہیں آپ کو اچھے اوصاف و اعلیٰ اطوار پر دو جنتوں کا ذکر نہیں ملے گا، کلمہ، نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ کی احسن ادائیگی پر صرف ایک جنت کی بشارت ہے، مگرقرآن خدا کے سامنے حاضر ہونے کا خوف رکھنے والی قوم کو ایک نہیں دو جنتوں کی بشارت دے رہا ہے ۔

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ ۔ ۔ ذَوَاتَا اَفْنَانٍ ۔ ۔ ۔ فِیہمَا عَینٰنِ تَجْرِیٰنِ ۔ ۔ ۔ فِیھمَا مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر رکھتا ہے ہر لمحہ، ہر آن اس پر خوف خدا طاری ہے اس کیلئے دو جنتیں ہیں ۔ اور صرف دو جنتیں نہیں ہر انعام و اکرام دگنا مقدار میں ، ان میں بہت سی ڈالیاں ، ان میں دو دو چشمے، ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا ۔ اور یہاں سے آگے پوری سورہ میں جن جن انعامات کا ذکر ہے وہ صرف اپنے اوپر خدا کا خوف طاری رکھنے والی امت کیلئے ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنے نزدیک عزت والا بھی متقی شخص کو قرار دیا نہ کہ نمازی، حاجی، عبادت گذار وغیرہ کو ۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ۔ اللہ کے نزدیک عزت والا وہ شخص ہے جس کے دل میں خدا کا خوف ہو ۔ مگر کم ظرف ملاں نے قرآن کے اس پیغام کو سمجھ کر لوگوں کو خدا سے ڈرنے اور اپنی زندگی عملی انداز میں بسر کرنے کا درس نہیں دیا ۔ اگر علماء ، پیر ، صوفی حضرات چھوٹے چھوٹے گناہوں پر لو گوں کو خدا کے بڑے غضب سے ڈراتے رہتے تو امت آج اتنی پستی کی گہرائیوں میں نہ پڑتی ۔

اب وقت کا تقاضا ہے کہ علماء اپنی تمام تر توانائیاں ، اپنی تمام تر صلاحیتیں لو گوں کو خدا کے غضب سے ڈرانے اور ان کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا کرنے میں صرف کریں ۔ گیارہویں شریف اور میلادشریف وغیرہ کی تقاریب پر بھی لنگر، چاول ، دال روٹی کی بجائے علم، شعور اور خدا خوفی کے لٹریچرلنگر کی طرح بانٹے جائیں ۔ قوم لنگر بہت کھا چکی کچھ حاصل نہیں ہوا، لیکن اگر علم ، شعور،نہی عن المنکر ، خدا خوفی کے لٹریچرپڑھ کر اگر کوئی ایک آدمی بھی راہ راست پرآ گیاتو وہ صدقہ جاریہ بن جائے گا جو دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہوگا اور اس طرح قافلہ بنتا چلا جائے گا اور ہم امت کی اصلاح کے کار ِ خیر کی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں