173

حضور ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کے سبب کون؟

آقاء کریم ﷺ کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ گستاخ ، بے ادبی اور رسوائی کے سبب تو ہم خود زندہ، چلتے پھرتے خاکے ہیں ، ہمارے اعمال، ہمارے اخلاق و اطوار، ہماری بد کرداری ہے جو پوری دنیا میں نہ صرف ہمارے دین بلکہ ہمارے پیارے رسول ﷺ کے لیے سب سے زیادہ گستاخی و رسوائی کا سبب اور شرمندگی کا باعث ہے ۔ ہمارے غلط اطوار کا مذاق ہمارے پیغمبر ﷺ پر اتارا جاتا ہے ۔ کسی کا پالتو ، بھٹکا ہوا وحشی کتا اگر کسی کو کاٹے تو گالیاں ہمیشہ مالک کو ہی پڑتی ہیں ۔ ہم کس کے پالتو اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے وحشی درندے ہیں ؟ ہماری وجہ سے اگر دنیا کو کوئی تکلیف یا ٹھیس پہنچے گی تو تنقید ہمارے آقا کریم ﷺ پر ہی ہوگی ۔ اگر ہم اپنے اخلاق و اطوار آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے عملی نمونے بن جائیں تو دنیا کو ایسا کرنا تو درکنار ، ایسا سوچنے کی بھی مجال نہیں ہو گی ۔

علماء بتائیں کہ اسلام کا دنیا میں چار سو پرامن طریقے سے پھیل جانے کا سبب کیا تھا؟ مسلمانوں کے اعلیٰ اوصاف اور اعلیٰ اخلاق و اطوار ، جن کا آج ہم میں نام و نشان تک موجود نہیں ۔ ابتداء کے مٹھی بھر مسلمان ان اوصاف کے مالک تھے تو انہوں نے بہت کم مدت میں آدھی دنیا کو اپنا دلدیدہ اور زیر نگیں کر لیا تھا ، مگر آج ہم دنیا کا ایک چوتھائی حصہ، بے وقعت گندگی سے بھرا ڈھیر ہیں جسے دنیا کوئی اہمیت ہی نہیں دیتی ۔ ہماری نہ کوئی سمت باقی رہی، نہ کوئی جہت،نہ کوئی نظریہ رہانہ کوئی ضابطہ ۔ ہماری غیرت دم توڑ چکی، ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ۔ ہمارے جذبے پست ہو چکے، ہمارے حوصلوں اورمقاصد کی تکمیل کے جذبوں کو دیمک کھا گئی اور ہماری سرحدیں بڑھنے کی بجائے سکڑنا اور ہم پر تنگ ہونا شروع ہو گئیں ، ہم ان اسلامی سرحدو ں کی بھی حفاظت نہ کر سکے جو ابتداء کے مسلمانوں نے ہمیں ورثہ میں دیں تھیں ۔ آج اسپین و اٹلی، یونان و پرتگال، بلغاریہ، سربیا، کوسوؤ،یوکرائن، رومانیہ، البانیہ، بوسنیا، جارجیا، مقدونیہ، یوگوسلاویہ، ہنگری،آسٹریا، بلغراد، کروشیا، پولینڈ وغیرہ تقریباً آدھا یورپ اور آدھا روس کہاں اور کس کے قبضہ میں ہے جہاں ابتداء کے مٹھی بھر مسلمان اسلام کا جھنڈا گاڑ گئے تھے ۔ آج وہاں کس کا جھنڈا لہراتا ہے ۔ ان کے بعد دین کے ورثاء نے صرف قال اللہ و قال رسول کو وارثت سمجھ لیا اسلامی سرحدوں کو نہیں ، اسلامی ثقافت کو نہیں ، اسلامی تہذیب کو نہیں ،اسلامی احیاء کو نہیں ۔ اغیار ان سے سب کچھ چھین لے گئے اور یہ صرف قال اللہ و قال رسول کی حفاظت کرتے رہ گئے حالانکہ ان کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ کریم نے خود اپنے ذمہ کرم میں لیا تھا اور ان کا کام تھا دین کی حفاظت کرنا، دین کی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور ان کو آگے بڑھانا، اسلامی احیاء، اسلامی تشخص کا پہرہ دینا، اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنا اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ۔ جب کوئی اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر دوسروں کی ذمہ داری اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے اپنی بھی سلب کر لی جاتی ہے ۔ یہ صورت حال بے یقینی پیدا کرتی ہے اور خدا پر توکل کو کمزور کرتی ہے ۔ کاش کہ علماء نے دادا حضور حضرت سیدنا عبد المطلب ( علیہ السلام) اور ابرہہ کے لشکر ( اصحاب ِ فیل) کے قصہ سے کچھ عبرت لی ہوتی اور خدا پر یقین کا سبق لیا ہوتا ۔ جب ابرہہ کے لشکر نے بنی قریش کے اونٹوں کو چرا لیا تو سردار ِ قریش حضرت سیدنا عبد المطلب نے ابرہہ کے سامنے اپنے اونٹوں کی رہائی کا مطالبہ لئے پہنچے تو ابرہہ حیرت افزردہ ہوا ، اور کہا! میں تو سمجھا کہ آپ خانہ کعبہ کی رہائی اور حفاظت کیلئے آئے ہو ۔ تو آپ علیہ الرحمہ نے کیا ایمان افروز اور یقین بھرا جواب دیاکہ ’’ میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور صرف اپنے اونٹوں کی رہائی چاہتا ہوں اور جو کعبے کا مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا ۔ ‘‘

کاش کہ ہمارے علماء میں بھی ایسا یقین ہوتا اور وہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت پر جمے رہتے، اسلامی تشخص، اسلامی تہذیب و تمدن کا ڈٹ کر پہرہ دیتے اور کتاب و سنت کی حفاظت خدا پر چھوڑ دیتے تو آج یہ امت کے یہ حالات نہ ہوتے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اعلیٰ اسلامی اوصاف، اخلاقیات، حسن معاملات اور غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسن سلوک اور اعلیٰ اخلاق و کردار کا مظاہرہ اسلام کی خاموش تبلیغ اور پھیلاؤ کیلئے تلوار سے بڑے ہتھیار ثابت ہوئے اور لوگ جوق در جوق اپنے پورے کے پورے کنبے، قبیلے اور قافلوں کی صورت میں دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہے ۔ یہ تلوار نہیں مسلمانوں کی صفات عالیہ ہی تھیں جنہوں نے راستے کی ہر رکاوٹ کو ہٹا کر علاقوں کو نہیں غیر مذہب لوگوں کے دلوں کو فتح کیا ۔ جبکہ آج کے مسلمان ان اوصاف عالیہ سے نہ صرف بے بہرہ بلکہ ان کے شعور و آگاہی تک سے محروم ہیں ۔ آج دنیا میں حسن معاملات اور اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ پست و تباہ حال اور بد نام مسلمان قوم ہے ، دنیا کو اعلیٰ اخلاق، اعلیٰ اوصاف اور حسن معاملات، رواداری و مساوات کا درس دینے والی قوم ، شرم اور غیرت میں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم جس دین اور جس ضابطہ حیات کے قائل ہیں وہ عملی طور پر دنیا میں کہیں نظر ہی نہیں آتا، جو نہ صرف دنیا میں ہمارے سچے دین کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے بلکہ اللہ کریم اور ہمارے پیارے رسول ﷺ کی ذات اقدس کیے لیے بھی رسوائی کا سبب ہے ۔

ہاتھ بے زور ہیں ، الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ﷺ ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا ابراہیم پدر اور پسر آذر ہیں
بادہ آشام نئے ، بادہ نیا ، خم بھی نئے
حرمِ کعبہ نیا ، بت بھی نئے ، تم بھی نئے

امیر المومنین حضرت سیدنا علی رضی تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے ۔ ’’ جوقوم اپنے ضابطہ حیات اور مقاصد کی تکمیل کے جذبوں پر کار بند رہے اور اپنے ارادوں پر پختہ ہو وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتی ہے ۔ ‘‘

اور اس کی مثال میں زمانہ بعید سے نہیں قریب سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ قیام پاکستان کا زمانہ کچھ دور نہیں ۔ چند ارادے کے پکے لوگوں نے مل کر جدوجہد کی ، لاکھ مشکلیں آنے کے باوجود اپنے ارادوں اور مقاصد کی تکمیل کے جذبوں پر کاربند رہے تو بعض اپنے عناصر کی مخالفت کے باوجود دنیا میں اتنا بڑا ملک لا کھڑا کیا بغیر کسی جنگ و جدل کے ۔ بن کے رہے گا پاکستان ، لے کے رہیں پاکستان ، اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ ہر آن ان کی زبانوں پر تھا اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب رہے ۔

پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ! قانون شہادت کیا ہو گا محمد رسول اللہ! ۔ آج ہم نے اس نعرہ سے بھی انحراف کر لیا، ہم نے غداری کی ہے اس نعرہ سے، یہاں لا الہ الا اللہ کا نفاذ نہیں ہے ۔ اور دوسرا ہم نے عہد کیا اللہ و رسول ﷺ سے کہ ہم پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے، اسلامی قوانین کا نفاذ کریں گے ہم بھول گئے وہ سب نعرے، وہ سب عہد ۔ ہم میں ارادے کی پختگی نہ رہی تو ہم اپنا ایک بازو بھی کٹوا بیٹھے ۔ آج ہم کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگریہ نعرہ اندر سے کھوکھلا، اور جذبے و حوصلے شکستہ ہیں جس کی بناء پر اس کی تکمیل نہیں ہو رہی ۔ آج ہمیں قرآن و سنت کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپنا نا اور اسے پاکستان کے آئین کا درجہ دینا ہو گا ۔ اپنے ارادوں کو پختہ اور جذبوں و حوصلوں کو بلند کرنا ہوگا تو ہم دنیا کے کسی میدان میں بھی مار نہیں کھا سکتے ۔

اسلام کی حقانیت اور عالمگیر سچائی آج دنیا میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ ہم ایک سچے دین کے وارث ہو کر دنیا میں در بدر بھٹک رہے اور در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اسلام کی حقانیت کے دنیا بھر میں چرچے تو ہیں مگر آج کوئی ہماری سائیڈ لینے کو تیار نہیں ۔ آج دنیا میں جس کسی بھی انگلی اٹھتی اس کا رخ اسلام کی طرف ہوتا ہے، اس کی تنقید ، اس کی بڑھکیں اسلام پر ہوتی ہیں ۔ ہم نے ایک سچے دین کو اتنا لا وارث، بے وقعت و بے اثر اور بے سروساماں کر دیا ہے کہ آج دنیا میں جو بھی حقیر سے حقیرتر کتا بھی اگر بھونکے تو اسلام پر،حملہ کرے تو اسلام پر، غارت گری کرے تو اسلام پر، چھپ کر ضربیں لگائے تو اسلام پر، تنقید اور نقطہ چینیاں کرے تو اسلام پر ۔ دنیا کے باقی مذاہب کی طرف کسی کی انگلی کیوں نہیں اٹھتی، صرف اس لئے کہ ان کے ماننے والوں میں دم اور غیرت ہے اور وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں ۔ ایک ہندؤ ’’گری راج کشور‘‘ نے رام لیلا گراؤنڈ میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ اے بدعقیدہ، بدکردار اور گناہگار مسلمانو ! تم اپنے مذہب کی صبح و شام تذلیل کرتے رہتے ہو لیکن اگر ہمت ہے تو ہمارے مذہب کی بے عزتی کر کے دکھاؤ ‘‘ ۔

صرف ہم مسلماں ہی بے شرم و بے غیرت اور بے وقعت ہو گئے دنیا میں کہ اپنے دین کوبے کس و لاچار، لاوارث اور بے یار و مددگار کر کے چھوڑ رکھا، کوئی اسلام بارے جو مرضی بکواس کرتا رہے ہمارے حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی ۔ غیر مذاہب کے لاکھوں لوگوں نے اس بات کی تائید بھی کی ہے کہ اسلام ایک سچا، ستھرا، بے عیب اور ہر طرح سے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگر مسلمان اس بے بہرہ اور کم ظرف ہیں ۔ اس کی ایک نہیں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔

’’جارج برنارڈ شا ہ‘‘ ایک معروف مغربی ادیب اسلام سے متعلق کہتا ہے کہ ’’ اسلام تو اچھا مذہب ہے لیکن مسلم معاشرے کی صورتِ حال ناقابل رشک اور باعث شرم ہے ۔ ‘‘

بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے بھارتی ریاست کرناٹک میں لاکھوں لوگوں کے اجتماع میں ہمارے دین متین اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کی تعریف کی اور کہا کہ اگر ہم دنیا میں امن چاہتے ہیں تو مسلمانوں کے نبی کی سیرت کو اپنا لیں دنیا میں خود بخود امن قائم ہو جائے گا ۔

موہن داس کرم چند گاندھی نے لکھا تھا کہ ’’ میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل ہوں کہ اسلام کیلئے چار سو جگہ بنانے کا کام تلوار نے نہیں بلکہ پیغمبر اسلام کی کٹر ترین سادگی، کامل انکساری، اعلیٰ اخلاق اور وعدوں کی قابل بھروسہ پاسداری نے کیا تھا ۔ یہ تلوار نہیں آپﷺ کی صفات عالیہ تھیں جنہوں نے راستے کی ہر رکاوٹ کو ہٹا دیا اور ہر مصیبت کو فتح کیا ۔ ‘‘

ایک اور ہندو ادیب ساوامی لکشمن پرشاد نے ہمارے آقا کریم ﷺ کے شان اقدس پر ایک کتاب لکھی ’’عرب کا چاند‘‘جب اس سے سوال کیا گیا کہ تو مسلمانوں کے نبی کا اتنا معترف ہے تو تو مسلمان کیوں نہیں ہو جاتا؟ تو اس نے جواب دیا وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے اور ہماری ملت کے منہ پر اتنا زور دار طمانچہ ہے کہ صدیوں اس کی شدت نہ جائے ، اس نے کہا’’ میں جب مسلمانوں کے دین اور ان کے نبی کی حیات پاک کا جائزہ لیتا ہوں تو دل کرتا ہے مسلماں ہوجاؤں ، مگر جب موجود ہ مسلمانوں کے کردار، اخلاق و اطوارپر نظر پڑتی ہے تو مسلمان ہونے سے شرم محسوس کرتا ہوں اور کہتا ہوں میں ہندؤ ہی ٹھیک ہوں ۔ ‘‘

کچھ عرصہ قبل سننے کو آیا کہ پاکستانی کرکٹرز انضمام الحق اور محمد یوسف نے مل کر ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان برائن لارا کو کراچی کے ایک ہوٹل میں کھانے کی دعوت پر مدعو کیا اور اسلام کے ضابطہ حیات، حسن معاملات، اخلاقیات ، اعلیٰ اوصاف سے تفصیلاً آگاہ کرتے ہوئے اسے دین اسلام کی دعوت دی ۔ کپتان نے یہ سب خاموشی سے سننا اور کھانے کے بعد جاتے ہوئے دونوں حضرات سے مخاطب ہو کر کہا ۔ ’’بیشک زندگی اسی طرح بسر کرنی چاہیے جس طرح مسلمانوں کو دین میں حکم دیا گیا، مگر تم یہ بتاؤ اس طرح کی زندگی بسر کرنے اور دین پر عمل کرنے والے مسلمان اس وقت دنیا میں بستے کہاں ہیں تاکہ میں جا کر ان سے ملوں اور اسلامی اخلاقیات اور اعلیٰ اوصاف کا عملی مظاہرہ دیکھ سکوں ؟

گویا کہ آج ہمارے اخلاق ، ہمار ے اطوار دنیا میں د ین حق کی پذیرائی کی راہ میں روکاوٹ ہیں ۔ آج دنیا ہمارے اوصاف دیکھ کر ہمارے نبی ﷺ اور ہمارے دین سے متنفر ہے ، ہم اور ہمارے اوصاف دنیا میں ہمارے نبی ﷺ اور ہمارے دین کی ذلت و رسوائی کا باعث ہیں جس کا کریڈیٹ نبی کریم ﷺ کے کم ظرف (وارثوں )علما ء ، جاہل صوفیوں اور نام نہاد پیروں کو جاتا ہے جنہیں سوائے اپنے اسلاف کے مدفن کھانے کے، عیش و عشرت اور لوگوں ہاتھ سے چٹوانے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں رہا ۔ کم ظرف علماء آپس میں ایک دوسرے کے خلاف عدم اخلاق، تنگ نظری، تعصب، آپس میں کفر کے فتوے دینے میں اپنی مثال آپ ہیں اور خود کو دین کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں ۔ ان کے آپس کے انتشار، ایک دوسرے سے بغض و عداوت نے قوم کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ کئی نامور علماء اپنی اپنی تحریکیں بنا کر بیٹھ گئے، سب چاہتے دوسرے اس کی تحریک میں آئیں خود اتحاد و اتفاق کی غرض کسی دوسری تحریک میں جانے کیلئے تیار نہیں کہ ان کی چوہدراہٹ برقرار رہے ۔ علماء کی غفلت اور ڈھیل دینے سے معاشرہ بے راہ راوی پر گامزن ہوا ۔ آج انہیں نہ اسلام کی فکر باقی ہے نہ ملک و ملت کی ۔ سب ذاتی مفادات کے حصول اور قوم کو تقسیم در تقسیم کر کے اس کی باقیات ڈبونے میں مصروف ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں