Why did the Americans understand the swordless soldier? 145

کیوں امریکیو! سمجھ آئی بے تیغ سپاہی کی؟

Why did the Americans understand the swordless soldier?

2001ء میں جب بے رحم، نہتے اور معصوم انسانیت کا قاتل اعظم امریکہ اپنی قاہرانہ اور متکبرانہ قوت کے ساتھ امارت اسلامی افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور نہتے افغانوں کا قتل عام کر رہا تھا ، اس وقت وائس آف امریکہ (voa) پر ایک بحث چھڑی تھی قلندر ِ لاہوری، حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اس شعر پر ۔

کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اس وقت پر اس شعر پر بہت طنزیہ گفتگو ہوئی، بہت طنزیہ کمنٹس اور ٹویٹس ہوئے اور مذاق اڑایا گیاکہ تم مسلمان لوگ پتھر کے دور کی بات کرتے ہو، آج کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس دور میں ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ مسلمانوں کا جذبہ ایمانی اور جذبہ حریت تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گیا جو اب کبھی بھی سر نہیں اٹھا سکتا، آئندہ کی تاریخیں ہم رقم کریں گے، ہم دنیا پر غلبہ پائیں گے، ہم عالمی حکومت قائم کریں گے، ہر جگہ ہمارا جھنڈا لہرائے گا ۔ اس وقت کے امریکی صدر بش جونیئر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا ’’ اب صلیبی جنگوں کا آغاز ہو گیا ، اب دنیا یا عیسائی بچیں گے یا مسلمان ۔ یقینا ہم ہی غلبہ پائیں گے ۔ ہم بحر و بر اور فضاء کی قوتوں کے مالک ہیں ، ہم کبھی شکست نہیں کھائیں گے، ہم کبھی نہیں لڑکھڑائیں گے ، ہم ہمت نہیں ہارئیں گے، ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے اور جنونی مسلمانوں کا صفایا کر کے دم لیں گے ۔ بش نے کروسیڈ کا لفظ استعمال کرکے تمام اسلامی ممالک کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ ان کے (یہودی و عیسائی ریاستوں ) کے تابع فرمان بن کر دنیا میں رہناچاہتے ہیں تو رہیں ورنہ مرنے کیلئے تیار ہو جائیں ۔ ان کی زبانیں ہر آن شعلے اگلتی تھیں جن کے ذریعے وہ دنیابھر کو بھسم کر دینا چاہتے تھے ۔ اپنی تہذیب کے تحفظ کی آڑ میں وہ سبھی تہذیبوں بالخصوص اسلامی تہذیب کو بے نام و نشان کر دینا چاہتے ہیں ۔ ان کا غرور ،تکبر و نخوت اس عروج تھا کہ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے ۔

اب کیا ہوا؟اب کیوں ہار مانی؟ اب کیوں دم دبا کر بھاگے؟امریکیو! اب تو خوب سمجھ آ گئی ہو گی بے تیغ سپاہی کی؟نہتے ، بھوکے پیاسے،کمزور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کی؟ جذبہ حریت کی؟ اور جذبہ آزادی کی؟ہم نہتے 313 تھے اور پورے عالم ِعرب کی ظالم و جابر قوتیں ایک طرف ۔ اس وقت ظالم کا ہاتھ ہم نے ہی روکا تھا اور مظلوم و دکھی انسانیت کو سہار ا ہم نے ہی دیا تھا ۔ دنیا سے دشت، خوف و ہراس، ڈکیٹی و راہزنی ہمارے خوف سے ہی چھٹی تھی ۔ اس وقت کی تندو تیز ہواؤں کا رخ ہم نے ہی موڑاتھا ۔ دشت ِ عرضی ہم نے ہی روندے تھے، بحر ظلمات میں گھوڑے ہم نے ہی دوڑائے تھے ، مقصد کو نہ پانے تک واپس نہ لوٹنے کا عزم لیکر کر کشتیاں ہم نے ہی جلائی تھیں ۔ دنیا سے ظلم و ستم کی جفاکشی کی تاریکیاں ہماری ہمت و حوصلہ ہی سے چھٹی تھی ۔ اس وقت کی دنیا کی سپر طاقتوں اور قاہرانہ قوتوں کوہم نہتے اور بے تیغ سپاہیوں نے ہی للکارا تھا اور ان کا غرور خاک میں ملا دیا تھا اور آج بھی پوری دنیا کی سپر طاقتوں کا غرور ہم نے ہی توڑا ہے ۔ اب دنیا کو مان جانا چاہیے کہ صرف ہم ہی دنیا کی واحد سپرقوت ہیں دنیا کی کوئی طاقت ہمارے آگے نہیں تھم سکتی ۔ کوئی ہمارے عزم و ہمت، جوانمردی، ہمارے جذبہ اور ایمانی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی جس کا بخوبی آپ کو اندازہ تو ہوہی گیا ہو گا ۔ پہلے بھی ہم نے ہی دنیا کی کایا تھی اور آئندہ ہم ہی پلٹیں گے انشاء اللہ اور وہ وقت دور نہیں ۔

یہ عظیم واقعہ ایک بار پھر دنیا پر ہماری، اسلام کی حقانیت اور عالمگیر سچائی ثابت کرنے کیلئے کافی ہے ، شعور اور بصیرت کی نگاہ رکھنے والوں کو اس کا ادارک ہو جانا چاہیے کہ اسلام ہی دنیا کا سچا مذہب ہے اور اسی کو دنیا پر غالب آنا ہے یہی مشیت ِالٰہی ہے ۔ پوری دنیا کی فوجی طاقت ایک طرف،پوری دنیا کی جدید سے جدید ٹیکنالوجی ایک طرف، پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک طرف ۔ دنیا کے چپہ چپہ سے آئے ہوئے عسکری و حربی ماہرین اورجدید تربیت یافتہ کماونڈوز ایک طرف اور اسلام کے غیر تربیت یافتہ ، بغیر جدید حربی سازو سامان بے تیغ سپاہی ایک طرف ۔ ہر طرح کی جدید ٹیکنالوجی کو قدیم مسلم جذبہ ایمانی نے روند ڈالا اور پوری دنیا کی ناک کاٹ کر رکھ دی اور ایک بار پھر اپنی قوت کا لوہا منوایا اور دنیا پر ثابت کیا کہ اصل قوت جذبہ ایمانی ہی ہے جس نے پوری دنیا کو ہار ماننے اور گھونٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ۔ یہ واحد قوت اہل کفر کے پاس نہیں صرف مسلمان ہی اپنے سینوں میں بسائے ہوئے ہیں ۔ اپنی قوت و طاقت پر بے پناہ گھمنڈ رکھنے والا سپر پاور کہلاوانے امریکہ، جدید ٹیکنالوجی، جدید حربی سازوسامان سے لیس ایٹمی قوتیں فرانس، اسرائیل، انگلینڈ، جرمنی، نیٹو ، یورپین یونین، جاپان، آسٹریلیا، بھارت کی افواج بیس سال تک اسلام کے بے تیغ سپاہیوں سے نمردآزما رہنے اور اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بعد کیسے رات کی تاریکیوں میں دم دبا کر بھاگے، یہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔ اب کی تاریخ بھی ہم نے رقم کر دی، تم کیا تاریخیں رقم کروں گے؟تم مسلمانوں کے جذبہ ایمانی اور جذبہ حریت کا نہ پہلے کبھی مقابلہ سکے، نہ اب کر سکے اور نہ آئندہ سکو گے ۔ تم ساری دنیا کی قوت و طاقت مل کر بھی سچے مسلمان مومن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے ۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس جذبہ ایمانی کی قوت سے جو بھی ٹکڑایا نیست و نابود ہو کر رہ گیا ۔ برطانوی سامراج نے افغانستان میں پنجے گاڑھنا چاہے تو خود زیر ہو رہ گیا،اسے ہندوستان خالی کرنا پڑا ۔ دنیا بھر میں پھیلائے گئے اپنے نوآبادیاتی نظام کو ختم کرنا پڑا ۔ گریٹ سپر پاور سویت یونین ٹکڑائی توبکھیر کر رہ گئی اور اس کے پیٹ سے کئی مسلم ریاستوں نے جنم لیا جو الحمد للہ آج آزاد اسلامی ریاستیں ہیں ۔ اب دنیا کی واحد سپر پاور اور بے پناہ وحشیانہ قوت پر گھمنڈ رکھنے والابزدل امریکہ تنہا تو نہیں پوری دنیا کی قوتوں کو ساتھ لیکر ٹکڑایا تو دنیا میں ذلیل ہو کر رہ گیا ۔ بیس سال تک اپنی پوری قوت آزما کر دیکھ لی، جدید سے جدید اسلحہ استعمال کر کے دیکھ لیامگر بالآخر اسے بے تیغ مسلم سپاہ کے آگے سرآنڈر کر نا پڑا ۔ بیس سال پہلے جن سے اقتدار چھینا تھا انہی کو لوٹا کر رخصت ہو لیا ۔ نقصان تو جو ہوا سو ہوا، فائدہ کیا حاصل ہوا؟ تم نے دنیا کی مہنگی ترین جنگ لڑی کچھ حاصل نہیں ہوا، ٹریلین ارب ڈالر آگ میں جھونکے، لاکھوں بےگناہ معصوم جانوں کا ضیاع کیا، کیا حاصل ہوا آخر ذلت؟ اور یہ ذلت تم آئندہ کئی سالوں تک اٹھاؤ گے جنگی جنوں کی مد میں لیے ہوئے سودی قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں ۔

اب شکست خوردہ امریکہ دنیا کی سپر پاور نہیں رہا، برطانیہ شکست کے بعد سپر پاور نہ رہا، سوویت یونین شکست کے بعد سپر پاور نہ رہی تو اب یقینا شکست کے بعد امریکہ بھی واحد عالمی طاقت نہیں رہا ۔ اس نے پہلے بھی جتنی جنگیں لڑائیں سب میں شکست کھائی، ویت نام جنگ شکست، کورین جنگ شکست،سوڈان میں شکست، عراق میں شکست، شام میں شکست، لیبیا میں شکست، افغانستان میں شکست ۔ امریکہ کہیں بھی کسی بھی علاقے کو فتح کر کے وہاں کنٹرول حاصل نہیں کر سکا ۔ فتح اور کنٹرول اللہ کریم کی طرف سے صرف سچے راست باز مسلمان مومن کو بشارت ہے ۔

وَ اَنْتُمْ اَلْاعْلُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْنَ ۔

’’صرف تم ہی غلبہ پاؤ گے اگر مومن ہو ۔ ‘‘ تاریخ نے مانا اور جلی حروف میں لکھا کہ دنیا پر کامل مسلمان مومنین کا ہی غلبہ رہا اور رہے گا انشاء اللہ ۔ دیر اور ضرورت صرف مسلمان کے کتاب و سنت کے مطابق مومن بننے اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کی ہے ، ساری دنیا ان کے آگے سرنگوں ہو گی اور یہ دنیا کی تقدیر کے فیصلے کریں گے ۔

امریکیو! حکیم الامت حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اس شعر کے مفہوم کا تو آپ کو ادارک ہو ہی گیا ہو گا ا ب دوسرے کا بھی ہو جانا چاہیے ۔

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ خود آپ ہے تقدیر الٰہی

کافرلوگ مسلمان کی تقدیر کے تابع ہیں ، کافر لوگوں کی تقدیر روز ِ ازل سے ہی لکھی جا چکی ہے کہ ان کو مٹنا اور نابود ہونا ہے ۔ وہ لکھی تقدیر کو بدل نہیں سکتے اور مسلمان اپنی تقدیر خود بناتے ہیں ، مسلمان کی تقدیر ہر آن بدلی جاتی ہے ،مسلمان جو چاہتے ہیں اپنے رب سے التجاء کرتے ہیں اللہ کریم اسی کو اس کی تقدیر بنا دیتے ہیں ۔ مسلمان کا بس ہاتھ اٹھنے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کی دیرہوتی ہے کہ تقدیر اس کی مرضی و منشاء کے مطابق بدل دی جاتی ہے ۔

امریکہ اور پوری دنیا کی طاقتیں مل کر مسلمانوں کی تقدیر کے فیصلے نہیں کر سکتیں ۔ سوویت یونین کے سقوط کے بعد امریکی سامراج کے غرور میں بے پناہ اضافہ ہوا جس نے فرعونیت کا سا روپ دھار لیا اور انہوں نے نیو ورلڈ آرڈر جاری کرکے پوری دنیا پراپنی حکمرانی کا اعلان کیا اور دنیا کی قسمت کے فیصلے وائٹ ہاوَس سے جاری کرنا شروع کر دئیے ۔ اپنی خودساختہ خدائی کو وہ پوری دنیاپر مسلط کر دینا چاہتے ہیں ، امریکی سامراج زمین تا آسمان اپنی فرمانروائی کے خواب دیکھ رہا ہے ،کہتا ہے کہ ’’ہم بحر و بر کی قوتوں کا مالک ہیں ،پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا ہمارا کہنانہیں مانتی ۔ ‘‘ ہم کبھی شکست نہیں کھائیں گے we will not fail اور ;(ہم کبھی نہیں لڑکھڑائیں گے ) We will not falter کے کلمات ہر آن ان کی زبانوں پر رہتے ہیں ۔ اپنے آپ کو انہوں نے فرعونیت کا نیا رنگ اور نیا ڈھنگ دے دیا ہے ۔ God Bless America کی دعائیں زبان پر لاتے ہوئے بھی خدا پر ایمان ان کے گفتار و کردار میں کہیں جھلکتا نظر نہیں آتا بلکہ خود ہی god بنے بیٹھے ہیں بلکہ اپنے حقیقی گارڈ (God) سے بھی بڑھ کر کہ ’’ ہم بحر و بر کی قوتوں کے مالک ہیں ، ہم کبھی شکست نہیں کھائیں گے، ہم کبھی نہیں لڑکھڑائیں گے ۔ ‘‘

اے فرعونِ زماں ! صدیوں پہلے کے فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا کہ

انا ربکم الاعلیٰ ’’میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ‘‘

پھر اس کی خدائی کہاں گئی؟جب کوئی انسان یہ دعویٰ کر گزرتا ہے تو پھر اللہ رب العالمین کی شان کبریائی جوش میں آتی ہے اوراپنے آپ کومنوا کر رہتی ہے ،تب فرعون رہتی دنیاتک کے تمام انسانوں کیلئے عبرت کا نشان بن جاتا ہے ۔ اعلیٰ رب ہونے کا دعویدار قدرت الٰہی کے ایک چھوٹے سے مظہر کے ہاتھوں اپنی قوت و طاقت سمیت اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، سانس کی وہ چلتی ہوئی ڈوری جسے وہ اپنی ابدی زندگی کا ضامن سمجھتا تھا ،لمحہ بھر میں منقطع ہوکر اس کے چراغ ِزندگی کوگل کر کے رکھ دیتی ہے اور اس کا سارا کروفر ،سارا طمطراق اور سارا غرور اور تکبر دریامیں غرق ہو جاتا ہے ۔

آج کا فرعون بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہونے والا ہے ،اِس نے اُس فرعون کی حالت زار کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کی ۔ اس کے متکبرانہ عزائم اب الٰہ حقیقی کی الوہیت کو چیلنج کر رہے ہیں ،اس کی دہشت و وحشت پور ی دنیاکو جہنم میں تبدیل کر دینے کے درپے ہے، اس کی سقوت مظلوموں کو بے نام ونشان کر دینے پر تلی ہوئی ہے اور یہ صورت حال تو اس کائنات کے مالک کو بھی کبھی گوارا نہیں ہوئی ۔ اس مالک کی یہ سنت ہے کہ وہ ظالم کو ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر اسے حد سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا کہ و ہ اس کی تخلیق کروہ کائنات کو مکمل طور پر تہہ و بالا کردے ۔ جب بھی ایسی صورت حال جنم لینے لگتی ہے تو وہ ظلم کی طنابیں کھینچ لیتا ہے ،تب اس کا عذاب اس پر وارد ہو کر رہتا ہے ۔ تخلیق کائنات سے لیکر آج تک کی انسانی تاریخ اسی سنت کے ان گنت مظاہروں سے بھری پڑی ہے ۔ آج بھی اللہ عزوجل واحدالقوی القہار کی یہی سنت کارفرما ہو کر رہے گی ۔ اب ایک بار پھر اس پر عمل درآمد کا وقت آن پہنچا ہے ۔

قرآن مجید میں ارشادہوتا ہے کہ ’’ ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزا چکھاتے ہیں کہ شاید وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہو کر واپسی کا راستہ اختیار کرے ۔ ‘‘

حدیث قدسی ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا

’’بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار،جوان دونوں میں میرے ساتھ کھینچا تانی کرے گا تو میں اسے آگ کے عذاب سے دوچار کر دونگا اور مجھے کسی کی پروا نہیں ۔ ‘‘

لیکن لگتا یہی ہے کہ آج کا فرعون اس آسمانی انتباہ پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں ۔ جب اصلاح کار کی گنجائش کا کوئی امکان نہ رہے اور ہدایت کی طرف لوٹنے کا ہر راستہ مسدود کر دیا جائے تو پھر سنت الٰہی پوری ہو کر رہتی ہے،تب عذاب الٰہی کا کوڑا ان ظالموں اور فرعونوں پر برس کر رہتا ہے ۔ اور اب ایک بار پھر اس کوڑے کے برسنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ قدرت الٰہی سے یہ کچھ بعید نہیں کہ وہ تباہ کن اسلحہ جس کے گھمنڈ میں وہ مغرور بنا ہوا ہے اور جس کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا خوف زدہ ہے کل وہی اسلحہ ا ن فرعونوں کی گردنیں ناپنے کا ذریعہ بن جائے ۔ کیوں نہیں ؟ وہ قادر مطلق ہے ، جو چاہے کر سکتا ہے ۔ ابرہہ کے لشکر پر برسائی گئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کوجو ڈےزی کٹر بموں کا روپ دے سکتا ہے تو وہ یقینا ان ظالموں ، جابروں اور فرعونوں کے جدید ترین ایٹمی اسلحہ کوخود ان کی موت کا پیامبر بنا سکتا ہے یاجن کیلئے انہوں نے ایٹم بم بنا رکھے ہیں ان کی جوابی ایک ایک گولی کوان کے ایٹم بموں اور مےزائلوں سے بھی زیادہ تباہ کن بنا سکتا ہے ۔ ان ذلیل ترین لوگوں نے دنیا کے دےگر ممالک بالخصوص اسلامی دنیا کیلئے جو ایٹم بم بنا رکھے ہیں وہ کل ان کے اپنے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجاسکتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جو دوسروں کیلئے کنواں کھودتا ہے اس میں وہ خود ہی گرتا ہے ۔ اگر آج کے فرعون نے اس حقیقت اورآسمانی انتباہ پر کان نہ دھرا تو یہ کل بہت جلد آ موجود ہو گی تب وہ اپنے تمام کروفر ،غرور و تکبر اور جاہ جلال کے ساتھ زمین بوس ہو جائے گا ۔ انشاء اللہ عزوجل

تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ مظلوم انسانیت پر ظلم کے پہاڑ توڑے ۔ مظلوم کے مقابلہمیں ہمیشہ ظالم کا ساتھ دیا، ظالم کا ہاتھ مضبوط کیا اور اسے شاباش دی ۔ کشمیر میں انسانیت مظلوم اور امریکہ ظالم کے ساتھ، فلسطین میں انسانیت مظلوم اور امریکہ ظالم کے ساتھ ۔ کس کی منشاء پر یہ مسائل الجھے ہوئے ہیں ؟ وہ کون جو مسلمانوں کے مسائل کے حل کی راہمیں روکاوٹ ہے؟کون منافقت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مسلمانوں کے مسائل کوبجائے حل کرنے کے انہیں مزید الجھانے پر تلا ہوا ہے؟ یہ کتنی منافقت ہے کہ امریکا فلسطین، کشمیر، چیچنیا وغیرہمیں تو بین الاقوامی امن فوج لگانے کی مخالفت کرتا ہے اور نہ ہی وہاں غیر جانبدار امن فوج کی تعیناتی کے لئے آمادہ ہے جبکہ روس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے کہ وہ جارجیا سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور وہاں بین الاقوامی امن فوج تعینات ہو نے دے ۔ آخر مغربی طاقتیں صرف جارجیا سے ہی روسی افواج کا انخلاء کیوں چاہتی ہیں ؟ چیچنیا سے اس کے انخلاء پر زور کیوں نہیں دیتیں ؟ کشمیر سے بھارتی اور فلسطین سے اسرائیلی درندوں کے انخلاء اور افغانستان و عراق سے امریکی و اتحادی چوہوں کی واپسی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتیں ؟کیا اس لیے کہ وہاں کی آبادی مسلمان ہے جبکہ جارجیا کی آبادی عیسائی ہے؟یہ کہاں کا عدل اور انصاف ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی پر بم برسائے جائیں ، آتش و آہن کی بارش کی جائے اور عیسائی آبادی کو مسلم ریاستوں کے خلاف بغاوت پر اکسایا جائے، باغیوں کو اسلحہ اور رقم فراہم کر کے مسلم ریاستوں کو توڑا جائے؟جیسے مشرقی تیمور میں ہوا اور اب جنوبی سوڈان میں ہونے والا ہے ۔

دنیا میں انسانیت کا سب سے بڑا قاتل کون ہے؟ انسانی تاریخ سے لیکر آج تک کس نے انسانیت کا سب سے زیادہ خون کیا ہے؟ اے دنیا کے منصفو! تاریخ پر نظر دوڑاؤ! جنگی اعداد و شمار جمع کرو اور انسانیت کی خون ریزی کا حساب لگاؤکہ کس نے مظلوم، لاچار اور نیہاتہ لوگوں کو بے دریغ کچلا؟ دنیا میں انسانیت کا سب سے زیادہ خون امریکی سامراج ، صہیونی و طاغوتی قوتوں اور اس کے حلیفوں نے بہایا ہے ۔ اسلام پر جنگی جنون اور فتنہ و فساد کا الزام لگانے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں ۔ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ اور امریکی سامراج کی دو، تین سو سالہ کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو تمہیں معلوم ہو جائے گاکہ کون انسانیت کابڑا قاتل اور فتنہ و فساد کی جڑ ہے دنیا میں ؟ 20ویں صدی کو جنگی مورخین انسانی تاریخ کی خونریز ترین صدی کا نام دیتے ہیں ۔ جب 20صدی کا سورج طلوع ہوا تو بوئر وار، روسو جاپان وار، ہیرو شیما، ناگاساکی پر انسانی تاریخ کا سب سے ظلم ناک ترین وار اور لاکھوں بیگناہ لوگوں کا قتل عام، سپین کی خانہ جنگی، جرمنی و فرانس کی جنگ، پورے یورپ کی آپس میں خانہ جنگی، ہٹلر کی انسانیت سوز داستان، پہلی عالمی جنگ، ترکوں اور یونانیوں کی جنگ، دوسری عالمی جنگ، لانگ مارچ، کوریا کی جنگ، سویت وار، ویت نام کی جنگ اور 20لاکھ بے گناہ لوگوں کا قتل عام، تین عرب اسرائیل جنگیں (1956ء، 1969ء، 1973ء)، تین پاک بھارت جنگیں (1948ء، 1965ء، 1971ء)، ارجنٹائن کی جنگ، بوسنیا کی جنگ، چیچنیا کی جنگ، کوسوؤ کی جنگ، سربوں کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام، صلیبی جنگ، سرد جنگیں ، عراق ایران جنگ، عراق کویت جنگ، افغانستان سوویت یونین جنگ یہ سب جنگیں اسلام اور مسلمانوں نے مسلط نہیں کیں دنیا پر؟ ان جنگوں میں ارب سے بھی زائد لوگ صرف ایک صدی میں لقمہ اجل بنے ۔ 21صدی شروع ہوئی تو نیا جنگی محاذ کھولنے کیلئے تخریب کاری کی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا ڈرامہ رچا کر افغانستان پر آگ و آہن کی بارش برسائی ، خطرناک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق کو تہس نہس کر ڈالا؟ کیا خطرناک ہتھیار صرف عراق کے پاس ہی تھے دنیا میں اور کسی کے پاس نہیں ؟ کیا امریکہ کے اور اس کے حلیفوں فرانس، جرمنی، انگلینڈ ، انڈیا، اسرائیل کے گودام نہیں بھرے پڑے ہیں ایسے ہتھیاروں سے جو چند لمحوں میں پوری دنیا کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں ؟ پھر انہی خطرناک ہتھیاروں کا الزام لگاتے ہوئے لیبیا پر دھاوا بول دیا ۔

غیر مسلم ممالک دن بدن جدیدترین مہلک ہتھیاروں کے انبار لگا رہے ہیں اسرائیل اور انڈیاوغیرہمیں جو آئے روز وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے تجربات ہو رہے ہیں وہ اسے قبول ہیں اس کے برعکس اگر کوئی اسلامی ملک اپنے دفاع کیلئے بم وغیرہ بنانے کی کوشش کرے تو اسے پوری دنیا کیلئے خطرہ قرار دیا جاتا ہے ۔ کیا جو غیر مسلم ممالک کے پاس ہیں وہ دنیا کیلئے خطرہ نہیں ہیں ؟جوامریکہ نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا انبار لگارکھا ہے ،جو فلسطین پر قابض یہودیوں کے پاس 200سو سے زائد ایٹم بم ہیں کیا وہ انسانیت کیلئے خطرہ نہیں ہیں ؟ یا کیا وہ انسان دوست ہیں کہ جن سے انسانیت کوکوئی خطرہ لاحق نہیں ؟کیا جوانڈیا پوری دنیاسے اسلحہ خرید رہا ہے اورآئے روز وہاں مےزائل ٹیسٹ ہورہے ہیں کیا وہ انسانیت کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے؟ جب افغانستان اور عراق کے بے گناہ مسلمانوں پر جو بم اور مےزائل برسائے گئے اس وقت انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں کہاں تھیں ؟ اگرUNO ایک عالمی ادارہ ہے اور عالمی امن کا داعی ہے تواس کی نظر میں تو سب برابر ہونے چاہئیں تو پوری دنیا میں صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی ناروا سلوک کیوں ؟

امریکہ کی پوری تاریخ رعونت، نخوت اور ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے ۔ یہ واحد ملک ہے جس نے انسانیت کے خلاف ایٹمی قوت استعمال کی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ بیسیوں جنگیں لڑ چکا ہے جن میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بنے،کروڑوں معذور ہوئے ۔ اگر تم(امریکہ و اتحادی) مسلمانوں کو انصاف فراہم کرو توتم ان سے زیادہ دنیاکی کسی قوم کو امن پسند نہ پاءوگے اور اگر تم ان کے ساتھ نا انصافی کرو گے ، ظلم و زیادتی سے پیش آءو گے تو یہ اتنا ہی سر اٹھائیں گے جتنا کہ انہیں دباءو گے ۔

اگر دہشت، رعب، دبدبہ، ظلم و جبر ، خون خرابہ، انسانوں کے بیگناہ قتل کے حوالہ سے دنیا کی تاریخ پر نظر ڈورائیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا پر سب سے زیادہ دہشت پھیلانے اور خون خرابہ کرنے والا ملک امریکہ ہے ۔ یہ کروڑوں بیگناہ انسانوں کا قاتل ہے ۔ یہ دنیا کا حقیقی اور سب سے بڑا دہشت گردہے جو دنیا پر اپنا سکہ بٹھانے کیلئے دہشت پھیلاتا ہے ۔ اس نے پوری دنیاپر اپنی دہشت قائم کرنے کیلئے جگہ جگہ فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور دن بدن مہلک ترین اسلحہ اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارو ں کے انبارلگا رہاہے لیکن کسی اور کو ایساکرنے کی اجازت نہیں کہ طاقت کا توازن ہمیشہ اسی کے ہاتھ میں رہے اور دنیا پر اپنی من مانیاں کرتا پھرے ۔

اہل مغرب مسلمانوں کو عسکریت پسند اسلام کے پیرو کار کہتے نہیں تھکتے ہیں لیکن اگر ان کی اپنے جنگی جنون پر نظر دوڑائیں تو ان کو بے شرم اور بے غیرت کہنے میں کوئی حد مانع نہیں ہو گی ۔ اسلام نے بلا تفریق تمام بنی نوع انسان کو تحفظ فراہم کیا، تمام انسانیت کے ساتھ مساوات برتی، سب کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا ۔ جن جنگوں میں مسلمانوں کا نام آتا ہے وہ مسلمانوں پر مسلط کی گئیں ان کا آغاز مسلمانوں نے نہیں کیا ۔ مسلمانوں پر عسکریت پسندی اور جنگی جنون کا الزام لگانے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اور کچھ غیرت باقی ہے تو اس میں ڈوب مریں ۔

کون دنیا کے امن کو برباد کیے ہوئے ہیں ؟ کون دنیا میں قیام امن کی راہمیں رکاوٹ ہیں ؟کیا امریکا صہیونیت و طاغوتی قوتوں کی ہمت افزائی و پست پنائی نہیں کر رہا؟اسرائیل کا فتنہ کس نے پیدا کیا مشرقی وسطیٰ میں ؟کیا امریکہ نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے اتحاد میں گذشتہ نصف صدی سے ٹخنا نہیں ڈال رکھا؟ کیا امریکا تائیوان کے چین سے الحاق کے راستے میں حائل نہیں ہو رہا؟کیا امریکہ نے چین کے ساتھ اس کے جنوبی جزائر اور ساحلوں کا بجا معاملہ کھڑا نہیں کر رکھا؟جس نے مغرب سے اٹھ کر آ کر مشرق کے مسائل میں بجا ٹانگ آڑارکھی ہے ؟ اگر ان مسائل میں الجھ کر امریکا اور چین براہ راست ایک دوسرے سے متصادم ہو گئے یا شمالی کوریا اور امریکہ کا تصادم ہو گیا تو بات تیسری عالمی جنگ تک پہنچے گی ۔ ایٹمی تصادم ہو گا اور دنیاقیامت آنے سے پہلے ہی قیامت سے دو چار ہو جائے گی ۔

افغانستان و عراق ، لیبیا و شام کی تباہی کے بعد ان ممالک میں لاکھوں انسان بے پناہ مصائب اور مشکلات سے دو چار ہیں ، وہاں امن و سکون ختم ہو چکا ہے اور غذائی اجناس و ادویات کی شدیدقلت ہے ۔ روزگار کا نام و نشان نہیں ، آئے روز بم دھماکے ہورہے ہیں ۔ نام نہاد حکومتوں کی عمل داری کہیں نظر نہیں آتی، طاقتور گروپ آزاد ہیں ، لوگ شدید خوف و ہراس کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ یہ سب امریکا کا کیا دھرا ہے ۔ اگر امریکا ان ممالک پر حملہ آور نہ ہوتاتو یقینا یہاں کے عوام سکون و اطمینان کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ۔

امریکا دنیا کے معاملات میں بے جا ٹانگ اڑاتا ہے، وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے نام پرباقی دنیا کے مفادات کو کچل دینا چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خودمختاری، آزادی اور عزت و وقار سے سر اٹھا کر جینے والے لوگ دنیا بھر میں امریکی بالا دستی کو چیلنج کر رہے ہیں ۔ جبکہ امریکا انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ اسلام اور اسلامی ممالک سے لے کر مشرقی بعیدتک کو آگ و آہن کی لپیٹ میں لینے کیلئے بے تاب امریکہ اور اس کے گماشتے اپنی جنگی قوت و طاقت سے چھاجانا چاہتے ہیں مگر یہ ہرگز ہمیں ، ہم مسلمانوں کو عاجز نہیں کر سکتے، یہی اللہ رب العزت کی منشاء ہے ۔

وَلَا یحسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا ط اِنَّھُمْ لَا یعجِزُوْنَo

اے کافرو! تم ہرگز اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ تم ہاتھ سے نکل گئے (تم نے ہمارے مقابلہ کیلئے بہت سی قوت و طاقت جمع کر لی، تم ہم پر سبقت لے گئے) بیشک تم زمین میں ہرگز ہمیں عاجز نہیں کر سکتے ۔ ‘‘

اہل ایمان کو سخت اور مشکل ترین حالات میں ہمت شکنی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہے ۔ ایک طرف تو ان کی نظر اس حقیقت پر ہونی چاہیے کہ جس مقصد کیلئے و ہ لڑ رہے ہیں اس میں دنیا کی کوئی طاقت انہیں ناکام نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان پر غالب آ سکتی ہے اس لئے کہ وہ جس کامیابی کی کوشش کر رہے ہیں وہ آخرت کی کامیابی ہے جو انہیں ان کے رب کی طرف سے ضرور ملے گی ۔ دوسری طرف ان کے دل میں اللہ عزوجل واحد القوی القہار ،غالب ، حکمت والے کی مدد پر کامل یقین ہونا چاہیے کہ وہ جس کی را ہ میں لڑ رہے ہیں وہ غالب ،حکمت والاضرور ان کے ساتھ ہے اور ان کی مدد فرما رہا ہے اور یہ کہ وہ جن کی مد د کرے تو کوئی ان پر غالب آنے والا نہیں ۔

اور پھرمسلمانوں کو اس بات پر بھی مکمل یقین ہونا چاہیے کہ جس دین کی خاطر وہ لڑ رہے ہیں وہ سچا ،بر حق اور سب ادیان پر غالب آنے والادین ہے اور یہ دنیا میں آیاہی اس لئے ہے کہ دنیا کے تمام ادیان پر غالب آئے ۔ یہی اللہ عزوجل کی مرضی و منشاء ہے اوریہی اس کی مشیت ، جوہر حال میں پوری ہوکر رہے گی ۔ دنیا چاہے اس کی کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کرے اور اس دین عظیم کو مٹانے کیلئے اپنی اےڑی چوٹی کازور ہی کیوں نہ لگا لے مگر اس دین اور اس کے متوالوں کو عاجز نہیں کرسکتی ۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔

’’جو اس دین عظیم کی مخالفت کرے گا یہ دین اس پر غالب آ کر رہے گا ۔ ‘‘

یہی اللہ رب العزت کی مشیت (مرضی) ہے جو ہر حال میں پوری ہو گی ۔ دین حق کے اس غلبہ پر خود اللہ رب العالمین گواہ ہے اور اس کی ضمانت دیتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے بڑھ کر اورکون بہترین گواہ اور سچا ضامن ہو سکتا ہے ؟

ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ‘ بِالْہُدٰی وَ دِین الْحَقِّ لِیظہِرَہ‘

عَلَی الدِّین کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیدا o (الفتح 28:48)

’’وہی (اللہ ،غالب ، حکمت والا )جس نے اپنے پیارے رسولﷺ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھےجا کہ اسے تمام دینوں پرغالب کرے اور اللہ عزوجل اس پر بطور گواہ کافی ہے ۔ ‘‘

اللہ کے وعدے پہ مجاہد کو یقیں ہے
اب فتح مبیں ، اب فتح مبیں ، اب فتح مبیں ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں