تحریر: محمد سجاول
ہریالی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہے ۔جو انسان روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد کھلی جگہوں پر جائے ،جہاں دور دور تک ہریالی ہو ہرے بھرے باغات ،کھیت نظر آرہے ہوں۔صبح سویرے اس نظارے کو دیکھنے سے پورا دن انسانی جسم تروتازہ رہتا ہے۔ جس سے انسان کا حافظہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔نظامِ انہظام کی بہتری ،آنکھوں کے مسائل سے بچاﺅ اور موڈ خوشگوار رہتا ہے۔دیہات میں یہ منظر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن شہر وںمیں بہت کم دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ جب شہری آبادی بڑھتی ہے تو لوگ اپنے کھیت ،باغات وغیرہ ختم کر کے گھر تعمیر کر لیتے ہیں۔جس سے پودے کاٹنا ، فصلیں ضائع ہوجانادیگر عوامل پیش آتے ہیں۔پہلے سے جنگلات میں بھی کمی واقع ہو چکی ہے ،اب جنگلات بھی اسی ضَد میں آچکے ہیں۔جنگلات میں درخت اور پودے کاضائع ہونا اور کاٹنا ایک عام با ت ہو چکی ہے ۔جس میں جنگلات سے درخت کاٹ کر عمدہ قسم کی لکڑی حاصل کی جاتی ہے۔درخت سے ادویات ،مصالہ جات اور عمدہ قسم کا فرنیچر وغیرہ حاصل کیاجاتاہے۔پودے ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ،فضاءکو آلودگی سے بچاتے ہیں۔روایا ت میں آتا ہے کہ تمہارے انتقال کے بعد تین چیزیں تمہارے لیے صدقہ جاریہ ہیں،ایک تم پودا لگاﺅ تو آنے والی نسلیں اس کے سایہ نیچے بیٹھیں،اس کا پھل تناول کریں ،جانوراس کے پتے کھا کر اپنا پیٹ بھریںاور اس شجر کے پتے صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناءپیش کریں۔سبحان اللہ۔دوسرا صدقہ جاریہ تمہاری نیک اولاد ہے جو کہ تمہارے جانے کے بعد اللہ کا ذکر کرے ،نیک اعمال کرے اور تمہارے لیے بخشش کی دعا کرے ۔تیسرا تم کسی انسان کو علم حاصل کرواﺅ ایسا اچھا علم جو کہ تمہارے جانے کے بعد وہ آگے پھیلائیں (سب سے اچھا علم قرآن و حدیث کی تعلیم ہے)۔
ہمارے ملک پاکستان میں پودے لگانے کے اچھے ماہ جولائی اور اگست ہیں کیونکہ انہی ماہ میں ابر رحمت اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔جس سے پودے کی آبیاری بہترین طریقہ سے ہوتی ہے۔اس موسم میں ہمیں کم ازکم ایک پودا اپنے گھر میں اس کے علاوہ ایک ٹیم تشکیل دے کر مختلف سکولوں،کالجوں،پارکوںاور ہسپتالوںغیرہ میںبھی پودے لگانے چاہیے، اس کی تلقین بھی کرنی چاہیے۔پودا لگانے کے بعد اصل کام اس کی نگہداشت ایک بہترین عمل ہے۔اگر ہم لوگ اپنے گلی کوچوں ،سکولوں،شہروں،دیہاتوں،علاقوں،ہسپتالوںاور کالجوں میں پودے لگائیں گے اور تلقین کریں گے اس سے ہریالی بڑھے گی، جس کی وجہ سے فضاءمیں آلودگی کم ہوگی، ہمیں زیادہ آکسیجن فراہم ہوگی وہ اشخاص جو سانس کے مریض ہیں یا پھر بہت تھوڑی عمر میں سانس لینے میں دقت محسوس کرتے ہیں ان کے لیے بہت آسانی پیدا ہوجائے گی۔ایک واقعہ کے مطابق :
کسی بستی میں بہت سے درخت موجود تھے۔ان درختوں کے نیچے اس بستی کے لوگوں نے اپنی دکانیں لگائی ہوتی تھیں۔ جس سے ان کا گزر بسر اچھا ہو رہا تھا۔ان کی روزی کی اصل وجہ وہ تمام تر درخت تھے، جن کے سایہ تلے وہ اپنی دوکانیں لگائے ہوئے تھے۔ایک دوکاندار دوسرے سے بات کر رہا تھا کہ خالد بھائی دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس قدر ناےاب نعمت سے نوازا ہے۔کہ ہمارے گھر کا چولہا ہی ان درختوں کی وجہ سے چلتا ہے۔اگر یہ موجود نہ ہوں تو ہم کیا کریں؟ ایک اجنبی انسان خالد صاحب کی دوکان پر آتا ہے اور کہتا ہے، کہ درخت کاٹ کر ہمیں وہاں پر نئی طرز کے مکانات تعمیر کرنے چا ہئیںجس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی زندگی سکون سے بسر ہو سکے۔خالد صاحب: دیکھو بھئی بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر درخت ہیں تو ہم ہیں، اگر اسی طرح سے درخت کاٹنے کا سلسہ جاری رہا اور جنگلات تباہ ہوتے رہے، تو انسان زندگی کی بازی ہارنہ شروع ہو جائیں گے گھر کے گھر ا±جڑ جائیں گے۔اجنبی: ہاں ہاں ٹھیک ہے اور ضرورت کے مطابق سامان خرید کر چلا جاتا ہے۔اگلے ہی دن جنگلات انتظامیہ وہاں درخت کاٹنے پہنچ جاتی ہے۔ درخت کاٹنا شروع کر دیتی ہے اب عوام بے بس ہے، اور یہ سارا ماجرا دیکھ رہے ہیںاور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام تر رقبہ جو سر سبزو شاداب تھا، وہ صحرا کی طرح ویران ہو جاتا ہے۔اب گرمی کا موسم بھی تھا اس کا نقصان ان تمام تر افراد کو ہوا جن کا روزگار وہاں سے چل رہا تھا۔کیونکہ وہ دپہر کے وقت درختوں کی چھاﺅں تلے آرام کرتے اور وہاں پر اپنا سامان وغیرہ بیچتے اب ایک اچھی بھلی مارکیٹ ختم چکی تھی ۔ ہمیں درخت ہمیشہ بچانے چاہئےں۔انتظامیہ نے درخت کاٹے اور
درخت کاٹنے کا بہت زیادہ نقصان ہوا اسی لیے درخت کی نگہداشت کرنی چاہیے ناکہ ہمیں کاٹنے چاہیے ۔پودا لگانا ایک بہت اچھا عمل ہے، پر اس کی نگہداشت کرنا بہت ضروری ہے، اپنے لگائے ہوئے پودے کو ضائع مت ہونے دیں ۔تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس کا پھل کھا سکیں۔ جنگلات کے حوالے سے ہمارا ملک باقی تمام تر ممالک روس،امریکہ،چائنہ،فرانس،جاپان،انڈیا،امارات،نیپال،بھوٹان سے بہت پیچھے ہے، ذرا نظر دہرائیں تو روس میں 42 ،امارات میں 46 ،کینیڈامیں 35 ،بھوٹان میں 20 ،انڈیا میں 23 جبکہ پاکستان میں صرف 2 فیصد رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں۔اچھی ہوا،اچھی کاشتکاری ،اچھاصاف پانی اور اچھی فضاءکے لیے 33 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا بہت ضروری ہے۔اس میں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مسلمان ملک میں سبزے کی طرف بلکل بھی توجہ نہیں جو کہ غلط بات ہے۔گزشتہ دس برسوںمیں کراچی میں ہزاروں درخت کاٹے گئے ۔پاکستان کے شمالی علاقوں میں ٹمبر مافیہ عام ہے ۔جو کہ جب چاہے جنگلا ت کاٹنے آجاتے ہیں ۔ کچھ بھی سوچے بغیر درختوں کو کاٹ دیتے ہیں اور ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے کہ یہاں پہلے کبھی درخت موجود نہیں تھے۔یہی ہمارا ذاتی حال بھی ہو چکا ہے۔ ہم گھر میں ،مساجد میں حتیٰ کہ کہیں پر بھی خالی جگہ نہیں چھوڑتے فرش کروا دیتے ہیں۔کچھ این -جی-اوز بھی پودوں کی روک تھام کے لیے کام کرتی ہیں،لیکن صرف دیکھاوے کے طور پراوراپنے ہونے کا تصور دے کر پھرغائب ہو جاتی ہیں۔
ایک حدیث سے ثابت ہے کہ: اگر اگلے لمحے قیامت برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو وہ فوراََ لگا دے۔رسول اللہﷺ نے جنگ میں بھی درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے،فاتحین کو فصلیں خراب کرنے سے منع فرمایا ہے۔امام یوسفؓ فرماتے ہیں:جو قدرتی ماحول کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھتا،وہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے مناسب طریقہ کار کوبھی نہیں سمجھ سکتا۔ہم میں کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ درخت لگانے کی رسم مغر ب سے ہم میں پروان چڑھی ہے ،ماحولیات کا معاملہ صرف مغرب والوں کے لیے ہے۔لیکن دوستو! ہمار ے لیے درخت لگانے کامعاملہ ہمارے اللہ کے ساتھ ہے وہی اس کا اجر دے گا۔ہمیں زیادہ تر وہ پودے لگانے چاہئیں جو کہ درخت بن سکیں۔موسمِ برسات اور موسمِ بہار پودوں کی افزائش کے لیے بہترین موسم ہیں۔ہمیںبچوں کو پودوں کی افادیت،اہمیت اور ان سے لگاﺅ کی تلقین کرنی چاہیے۔کیونکہ اگر ہمارے علاقے سرسبز ہوں گے، تو ہم ترقی کریں گے اس سے ہمارا ملک بہتر ہو گا ،ہم ترو تازہ ہوا میں سانس لینے کے قابل ہوسکیں گے۔ہمارا پیارا وطن سرسبزو شاداب ہو گا،آلودگی سے پاک موسم میں سانس لے سکیں گے جو کہ ہمارے لیے نہاےت مفید ہوگا۔ہمیں آج سے ہی اس بات کا عزم کرنا چاہیے۔ ہم ہر سال برسات کے موسم میں اپنے علاقے میں ایک پودا ضرور لگائیں گے اور اس کی نگہداشت کریں گے ۔انشاءاللہ عزوجل۔
124


















