ضبط تحریر :سائرہ خانزادی (سائرہ اکرم )
(یونیورسٹی اور کالجز کا خطرناک ماحول اور مخلوط تعلیمی نظام)
آج کا مخلوط تعلیمی نظام اپنے ساتھ ساتھ خطرناک نتائج چھوڑ کر جارھا ھے…!!!
..
یونیورسٹی میں بڑھتی ہوئ یورپی فضا کی لہر اس حد تک پھیل گئ ہے جس کو قابو کرنا ناممکن سا ہو گیا ہے….!!!
ملک عزیز میں چھوٹی کلاسز سے مخلوط تعلیم کا آغاز کر کے بچوں کی ذہن سازی کر دی جاتی ہے تاکہ جوان ہو کر کوئ مشکل پیش نہ آے کہ ہم آزاد خیال لوگ ہیں…!!!
حیرت اس بات کی ہوتی ہے کہ ساتویں کلاس کے سٹوڈنٹ وہ بھی گرل فرینڈ اور بواے فرینڈ کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں…!!!
ایک رپورٹ کے مطابق👇👇
“جس قوم کی آٹھویں جماعت کی طالبہ ناجائز فعل سے حاملہ ہو جاے اس قوم میں ہوس پرستی کا بازار گرم ہو جاتا ہے انسانیت جل کر راکھ ہو جاتی ہے…!!! ”
کالجز یونیورسٹی میں گرل فرینڈ ,بواۓ فرینڈایک عام معولی بات سمجھی جاتی ہے …!!!
کسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا ان کی تصاویر دوستوں میں شئیر کرنا, ڈیٹ پر جانا رومینس وغیرہ ان باتوں کو اب صرف گپ شپ سمجھا جاتا ہے…!!!
..
افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ مرد عورت کی عزت تک اتنی آسانی سے کیسے پہنچ جاتا ہے…!!!
ہم لڑکیوں کی تعلیم کے ہرگز مخالف نہیں مگر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس میں عورت کی عزت و عصمت عورت کا مقام عورت کا وقار عورت کی شرافت سب کچھ کھو جاۓ… ؟؟؟
اب بڑھتا ہوا فیشن ،آزادی ہاسٹلز میں ہونے والے شرمناک فعل یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہم پر عذاب سے کم نہیں…!!!
اس پر مستعار…
پاکستانی ڈرامے ان کی راہ مزید ہموار کر رہے ہیں…!!!
آج والدین پر حیرانگی ہوتی ہے کہ خدا جانے ان کو کیا ہو گیا ہے…؟؟؟
جان بوجھ کر اندھے بہرے گونگے بن چکے ہیں…!!!
اک زمانہ تھا والدین اولاد پر مکمل نگاہ رکھتے تھے اور اولاد بھی والدین کا سہارا بن جاتے تھے خوب خدمت کرتے دعائیں لیتے تھے…!!!
مگر اب والدین قصوروار ہیں اپنی اولاد کو خود جہنم کے گڑھے میں پھینکنا چاہتے ہیں…!!!
اب والدین نے اولاد کو آزادی دے دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اولاد بوڑھے والدین کو اولڈ ہاوس میں چھوڑ آتے ہیں…!!!
واہ مبارک ایسے والدین پر کہ جن کی تربیت ایسی تھی…!!!
تعلیم ضرور حاصل کریں مگر شعور حاصل کرنے کے لیے مگر ہم روز بروز بے شعور اور بے دین ہو ریے ہیں…!!!
اب تو بے دین ہونے کو ہی اعلی معیار زندگی سمجھا جانے لگا ہے…!!!
آزاد خیال لوگ میری پوسٹ سے اختلاف کرسکتے ہیں ان کا کوئ قصور نہیں ان بیچاروں کو ماحول ہی ایسا فراہم کیا گیا تھا…!!!
دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں حاصل کریں تا کہ ہم اچھے انسان کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں…!!!
آج شکوہ والدین سے ہے آپ کی اولاد آپکے ہاتھوں سے نکل چکی ہے آپ صرف اب اولڈ ہاوس جانے کی تیاریاں کریں…!!!
کاش آپ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرتے جو موت کے بعد آپکے لیے صحیح معنوں میں صدقہ جاریہ بنتی اورآپکو قبر مین راحت دیتی…!!!
مگر آپ نے ان کو یورپ کے حوالے کر دیا ہے…!!!
نوجوان نسل سے گزارش ہے خدارہ گرل فرینڈ ,بواۓ فرینڈ کے کلچر کو اب چھوڑ دیں…!!!
دنیا مکافات عمل ہے آج آپ کسی کی بہن کو ٹائم پاس بناو گے تو کل آپ کی بہن بھی کسی کی ٹائم پاس گرل فرینڈ ہوگی…!!!
پتہ نہیں ہم کہاں جارھے ہیں.ہم اپنی منزل سے بٹھک چکے ہیں….!!!
دین دار لوگوں سے نفرت کرنا ان کو حقیر سمجھنا اب یہ ہمارے لئے اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے…!!!
اسی وجہ سے ہم پر اب کافر بھی ہنستے ہیں کہ مسلمان اب اپنے طریقے چھوڑ کر ہمارے طریقے اپنا رھا ہے…!!!
وہ گندہ اور سرانڈ زدہ ماحول کا طریقہ جس سے آج کافر بھی بیزار نظر آتا ہے…!!!
ہم بھی اب نام کے ہی مسلمان رہ گے ہیں….!!!
اسلام اور شریعت کی جتنی مخالفت ہم سے ہوسکتا ہے ہم کرتے ہیں….!!!
اور اس پر نادم و پشیمان بھی نہیں ہوتے…!!!
اور جب کوئی افتاد سر پر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے رحم کی امید رکھتے ہیں…!!!
آج ہم خس و خاشاک کی طرح بے کار و بے وضع قوم بن گئے ہیں….!!!
جس قوم کو دنیا کے لئے مثال بننا تھا وہ آج خود غیروں کے در کا غلام بننے پر آمادہ ہے…!!!
خدارا اب بھی وقت ہے, اللہ رب العزت کے حضور معافی مانگیں….!!!
اپنی نسلوں کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنا ہوگا کہ ہم کہاں پر غلط تھے اور کہاں سے شروع کرنا ہے…. !!!
ہماری حقیقت کیا ہے ….؟؟؟
اس کا ادراک آج نہ ہمیں ہے اور نہ ہی ہماری اولاد کو ہے….!!!
آیۓ لوٹ چلیں اپنی اصل کی طرف اس سے پہلے کہ مذید دہر ہوجاۓ…!!!
بس اس سے پہلے کے آنسووں کا سیلاب روانہ ہوجاے۔…!!!
خود بھی سنبھلیں اور اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کا سامان کرجائیں…!!!
اللہ رب العزت ہمیں سننے, سمجھنے اور گناہوں سے توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین.

















